ہائے عوام۔۔۔۔! (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کر سکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے۔۔۔۔ آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو…
آسمان پر ایک گھڑ سوار (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
1861ع کے موسم خزاں کی ایک سنہری دوپہر، ایک سپاہی جنوبی ورجینیا کی ایک سڑک کے کنارے پتوں کے ایک ڈھیر پر لیٹا تھا۔ وہ پیٹ کے بل اوندھا یوں لیٹا ہوا تھا کہ اس کے پاؤں انگلیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور اس کا سر بائیں بازو پر رکھا تھا۔ اپنے سیدھے ہاتھ…
دلدل (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
میّنْک جی لفظوں کے کاریگر تھے – بہت اچھے کاریگر – لفظوں کو گڑھتے، چھیلتے، کاٹتے، تراشتے – انہیں روپ دیتے – کئی طرح کے روپ — لفظوں سے وہ پھول کھلاتے۔قدرت کے رازوں کو بُوجھنے کی کوشش کرتے۔ ان کے لفظ غریبوں کے گھروں میں جا کر…
کھلائے ہیں آگ میں پھول، زندانی نثر یا جیل میں لکھا ادب
”اب سارے واقعات خود بولتے جاؤ۔ یاد رکھو، جہاں میرا قلم رکا، وہیں تمہاری پٹائی شروع کروں گا۔“ اور میں اسے گذشتہ تین سال پر مبنی واقعات لکھوانے لگا۔ ذہن سخت مائوف تھا، اس لیے واقعات کے تسلسل میں ذرا بھی ٹھہراؤ پیدا ہوتا، دو تین تھپڑ میری گردن پر آ کر لگتے،…
جُھرّیاں (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
شہر کے کاروباری علاقے کے قلب میں واقع یہ گھر ایک اونچا یک منزلہ مکان تھا، جس کو یہ فوائد حاصل تھے کہ ایک طرف تو جب مطلع صاف ہوتا شمال میں واقع پہاڑ کا تھوڑا بہت نظارہ کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف جنوب سے اُمسائی ہوا کے وہ جھونکے آ جاتے تھے،…
شجاع (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
میرا دل خوف سے دھڑک رہا تھا، اندھی گولیوں کا تصور ہی میرا خون خشک کئے دے رہا تھا، بم پھٹنے کے خیال ہی سے میرے جسم میں لرزہ تھا، ایک لمحے کو میں نے معرکے سے فرار ہونے کا سوچا، لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اپنے ساتھیوں کا خیال آیا کہ وہ میرے بارے…
اسکرپٹ (افسانہ)
کھیل انتہائی جذباتی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ تماشائی دَم سادھے اپنی اپنی نشستوں پر جمے ہوئے تھے کہ اچانک ایک اداکار اپنی جگہ سے ہٹ کر درمیان میں آ گیا اور ہیجانی کیفیت میں لرزتی آواز میں چیخا: ”میں اپنی مرضی سے کھیل چلاؤں گا اور اپنی پسند کے مکالمے بولوں…
قہوے کی پیالی میں قتل (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
میں باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس نیلوفر کے انتظار میں کھڑی ہوں۔ آٹے اور زعفران کی خوشبو چاروں طرف بکھری ہوئی ہے. آج صبح جاگتے وقت میں نے امی سے کہا: ”رات مجھے بے شمار مردوں کا خواب آیا تھا۔ سب ایک جگہ جمع تھے۔“ امی نے مجھے غصے سے دیکھا اور بولیں…