اسکول ٹیچر کا مہمان (چلین ادب سے منتخب افسانہ)
اسکول ٹیچر انیس ’دی پرل آف دی اورینٹ‘ میں داخل ہوئی، جو اس وقت بلکل ویران تھا۔ سیدھی کاؤنٹر پر پہنچی، جہاں ریاض حلابی شوخ پھولوں والے کپڑے کا تھان لپیٹ رہا تھا۔ اسکول ٹیچر نے اسے بتایا کہ اس نے اپنے مہمان سرائے میں ایک مہمان کا سر کاٹ دیا ہے۔ تاجر نے…
رات کو تو چوہے سوتے ہیں (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
نوٹ: جنوری 1947ع میں لکھی گئی یہ مختصر کہانی ایک ایسے قصبے میں ترتیب دی گئی ہے، جسے جنگ کے دوران بم حملے میں تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایک نو سالہ لڑکا اس جگہ کی حفاظت کر رہا ہے، جہاں اس کا مردہ بھائی چوہوں سے بچانے کے لیے ملبے کے نیچے پڑا ہے۔…
سناٹا بولتا ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ہم سب زمانے کے کاغذ پر دم توڑتے ہوئے وہ حرف ہیں، جنہیں بے معنویت کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ وہ ان دم توڑتے ہوئے حرفوں میں ایک ایسا کردار ہے، جس کا کوئی نام نہیں۔ ایک زمانے میں اس کا ایک نام تھا، لیکن مسلسل بولے جانے کے بعد اب اسے اپنے نام کے…
نابینا چینی سپاہی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ نو مارچ انیس سو پینتالیس کا واقعہ ہے کہ اتفاق سے عجیب بات ہوئی کہ جس وقت ایک بڑا ہوائی حملہ ہوا، اس وقت گوما کا آسمان بہت صاف اور شفاف تھا، ایک جہاز جو شاید اوٹا کے علاقے سے اٹھا تھا، شمالی ہواؤں کے ساتھ اڑتا ہوا گذر گیا۔ میں جو ایک ایسا…
جنگل شہر ہوئے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
برگد کا وہ پیڑ، جہاں اس سے ملاقات ہوئی تھی، بہت پیچھے رہ گیا ہے اور شناسائی کی لذت صدیوں کی دھول میں اَٹ کر بدمزہ ذائقہ بن گئی ہے، ملاقات کی یاد۔۔۔ بس ایک دھندلی سی یاد ہے۔ جب وہ اسے کریدنے کی کوشش کرتا ہے تو دور کہیں ایک مدھم سی آواز سنائی…
تلوار کی شکل (ارجنٹینی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کے چہرے پر راکھ کے رنگ کا ایک بد نما زخم کا نشان تھا، تقریباً مکمل قوس نما، جس کے ایک طرف کنپٹی اور دوسری طرف رخسار کی ہڈی تھی۔ اس کے اصل نام سے کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹاکوریمبو میں سب اسے لاکولوراڈو کا انگریز کہتے تھے۔ کھیتوں کا مالک کارڈوسا…
کپڑے ہمیں بناتے ہیں۔۔ (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
نوٹ: اس مختصر کہانی میں فرانسیسی مصنف ہنری ڈوورنوئس نے گھروں میں ڈاکے ڈالنے والے ڈاکوؤں کے ایک گروہ کی کہانی بیان کی ہے۔ پولیس اہلکار کے لباس میں ٹینگو گارڈ کے طور پر کھڑا تھا، جبکہ دیگر دو چور گھر میں گھس جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی پولیس اہلکار قریب نظر…
عالمِ استغراق (مراکشی ادب سے منتخب افسانہ)
ساحلِ سمندر لوگوں سے تقریباً خالی ہو چکا تھا، ماسوا ان چند کارندوں کے، جو وہاں پہ صفائی اور دیگر حفاظتی معمولات کی دیکھ ریکھ پہ مامور تھے۔ سورج وسیع و عریض سطحِ سمندر پر اپنی سنہری چمک بکھیر بکھیر کر اب غروب ہونے کے قریب تھا۔ میں وہاں بکھری ہوئی سنگلاخ…