اسکول ٹیچر کا مہمان (چلین ادب سے منتخب افسانہ)
اسکول ٹیچر انیس ’دی پرل آف دی اورینٹ‘ میں داخل ہوئی، جو اس وقت بلکل ویران تھا۔ سیدھی کاؤنٹر پر پہنچی، جہاں ریاض حلابی شوخ پھولوں والے کپڑے کا تھان لپیٹ رہا تھا۔ اسکول ٹیچر نے اسے بتایا کہ اس نے اپنے مہمان سرائے میں ایک مہمان کا سر کاٹ دیا ہے۔ تاجر نے…
خزاں گزیدہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہو گئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق…
رات کو تو چوہے سوتے ہیں (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
نوٹ: جنوری 1947ع میں لکھی گئی یہ مختصر کہانی ایک ایسے قصبے میں ترتیب دی گئی ہے، جسے جنگ کے دوران بم حملے میں تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایک نو سالہ لڑکا اس جگہ کی حفاظت کر رہا ہے، جہاں اس کا مردہ بھائی چوہوں سے بچانے کے لیے ملبے کے نیچے پڑا ہے۔…
ست رنگے پرندے کے تعاقب میں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ناشتہ کرتے ہوئے اچانک ہی خیال آیا کہ پچھلے ٹیرس پر پڑی چارپائی کو بنوانا چاہیے۔ محلے والے گھر سے اس نئے گھر میں منتقل ہوتے ہوئے اپنا بہت سا پرانا سامان وہیں بانٹ بونٹ آئے تھے۔ بس یہ ایک چارپائی کسی طرح ساتھ آ گئی۔ کچھ عرصہ پچھلے ٹیرس پر دھوپ میں…
میئر کے کان (پیرووین ادب سے منتخب افسانہ)
سولہویں صدی کے وسط میں پوٹوسی (بولیویا کا شہر) کا شاہی شہر مہم جُو لوگوں کے اجتماعات کے لئے موزوں ترین جگہ تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاندی کی کانیں دریافت ہونے کے پانچ سال کے اندر یہاں کی آبادی بیس ہزار نفوس سے بڑھ چکی تھی۔ محاورہ ہے کہ…
سناٹا بولتا ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ہم سب زمانے کے کاغذ پر دم توڑتے ہوئے وہ حرف ہیں، جنہیں بے معنویت کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ وہ ان دم توڑتے ہوئے حرفوں میں ایک ایسا کردار ہے، جس کا کوئی نام نہیں۔ ایک زمانے میں اس کا ایک نام تھا، لیکن مسلسل بولے جانے کے بعد اب اسے اپنے نام کے…
نابینا چینی سپاہی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ نو مارچ انیس سو پینتالیس کا واقعہ ہے کہ اتفاق سے عجیب بات ہوئی کہ جس وقت ایک بڑا ہوائی حملہ ہوا، اس وقت گوما کا آسمان بہت صاف اور شفاف تھا، ایک جہاز جو شاید اوٹا کے علاقے سے اٹھا تھا، شمالی ہواؤں کے ساتھ اڑتا ہوا گذر گیا۔ میں جو ایک ایسا…
جنگل شہر ہوئے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
برگد کا وہ پیڑ، جہاں اس سے ملاقات ہوئی تھی، بہت پیچھے رہ گیا ہے اور شناسائی کی لذت صدیوں کی دھول میں اَٹ کر بدمزہ ذائقہ بن گئی ہے، ملاقات کی یاد۔۔۔ بس ایک دھندلی سی یاد ہے۔ جب وہ اسے کریدنے کی کوشش کرتا ہے تو دور کہیں ایک مدھم سی آواز سنائی…