ہریالی کی ہجرت اور عالمی زراعت کا نیا نقشہ: کیا دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار کا مستقبل بدلنے والا ہے؟
کبھی بہار صرف ایک موسم ہوا کرتی تھی۔ ایک احساس، ایک خوشبو، ایک آہٹ جو آپ کے صحن، گلی یا کھیت میں آہستہ سے اترتی تھی؛ لیکن اب کہانی بدل رہی ہے۔ جدید سائنسی مشاہدات بتاتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ اب بہار وقت سے پہلے آتی ہے، بلکہ اپنی جگہ بھی بدل رہی…
کسانوں کی بے بسی، حکمرانوں کی بے حسی اور دروازے پر دستک دیتا گندم کی نایابی کا خطرہ!
دنیا بھر میں بدلتے موسمیاتی حالات کے پیش نظر زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ حکمران زراعت کو مضبوط کرنے کے بجائے ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں جو اس کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے…
تھر: اپنے دلوں کے دروازے کھلے رکھنے والے وہ لوگ، جو پانی کے کنوؤں پر تالے لگانے پر مجبور ہیں!
تھر کے لوگ، جن کی اپنی زندگی سختیوں سے گندھی ہوتی ہے، مہمان کے لیے نرمی اور مٹھاس کا ایک الگ خزانہ رکھتے ہیں۔ اگر کوئی مسافر پیاسا آئے، تو چاہے گھر میں پانی کا آخری گھونٹ ہی کیوں نہ ہو، وہ پہلے مہمان کے لیے رکھا جائے گا۔ یہاں کے لوگ اپنے روایتی چادر،…
سندھ نہروں کا معاملہ، ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ
حکومت نے کچھ ہی عرصہ پہلے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کی منظوری دی ہے جن میں چولستان اور تھر کے علاقے سیراب کرنے کے لیے بھی نہروں کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ نہریں ملک کی 48 لاکھ ایکڑ زمین پر ’گرین کارپوریٹ فارمنگ‘ کرنے کے لیے نکالی جا رہی ہیں، جس…
صحرا میں تبدیل ہوتا سندھ
زمین اور اس کے وسائل کی ملکیت، قبضے اور تقسیم کا سوال، جو درحقیقت انسانیت کے لیے ایک مشترکہ ورثہ ہونا چاہیے، ہزاروں سال سے متنازع مسائل میں شامل رہا ہے اور ریاستوں کے اندر اور ان کے درمیان تنازعات کی ایک بڑی وجہ بھی۔ اگرچہ زمین بذاتِ خود کوئی خاص قدر…
تھر کے ریگستان میں بہتے چشمے کی کہانی، جو 2005 کے زلزلے کے بعد سے مسلسل بہہ رہا ہے۔۔
ریگستان ہمیشہ سے خاموشی، بے بسی اور تپتے ہوئے خوابوں کی سرزمین رہا ہے۔ عمرکوٹ کے لق و دق صحرا میں جہاں ریت کے ذرات ہوا کے سنگ رقص کرتے ہیں، وہاں دھرتی کے سینے سے اچانک ایک زندگی پھوٹ پڑی، جیسے کسی صدیوں پرانے راز نے اپنی زبان کھول دی ہو۔ 2005 کے زلزلے…
ہم کتنا پانی ضائع کرتے ہیں؟
چند سال قبل آسٹریلیا کی ایک واٹر کمپنی نے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ سے استفادہ کیا تھا، جس کا مفہوم ہے ”بہتے دریا پر ہوتے ہوئے بھی پانی حد سے زیادہ خرچ مت کرو“ واٹر کمپنی نے یہ حدیث پانی کی بوتل پر تحریر کرائی تھی پانی کی قلت کے اس دور…