ہریالی کی ہجرت اور عالمی زراعت کا نیا نقشہ: کیا دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار کا مستقبل بدلنے والا ہے؟

سنگت ڈیسک

کبھی بہار صرف ایک موسم ہوا کرتی تھی۔ ایک احساس، ایک خوشبو، ایک آہٹ جو آپ کے صحن، گلی یا کھیت میں آہستہ سے اترتی تھی؛ لیکن اب کہانی بدل رہی ہے۔ جدید سائنسی مشاہدات بتاتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ اب بہار وقت سے پہلے آتی ہے، بلکہ اپنی جگہ بھی بدل رہی ہے۔ کرہ ارض پر سبزے کا وہ توازن جو صدیوں سے قائم تھا، اب ایک ایسی ہجرت پر مائل ہے جس نے ماہرینِ زراعت اور سائنس دانوں کو چونکا دیا ہے۔

یہ بات شاید قدرے تجریدی لگے، لیکن اس کے عملی اثرات حیرت انگیز طور پر واضح ہیں۔ جب نباتاتی نمو کے نمونے بدلتے ہیں تو زراعت، پانی کی طلب، کیڑے مکوڑوں کا پھیلاؤ، جنگلاتی آگ اور حتیٰ کہ جانوروں کی ہجرت بھی ان کے ساتھ بدل سکتی ہے اور بعض اوقات یہ تبدیلیاں اُس وقت تک نمایاں نہیں ہوتیں، جب تک پیداوار کم نہ ہو جائے یا وبائیں اچانک نہ بڑھ جائیں۔

 ہریالی کا مرکزِ ثقل اور شمال مشرق کی جانب سفر

کئی دہائیوں پر مشتمل سیٹلائٹ مشاہدات پر مبنی ایک نئی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ زمین کا مجموعی ”سبز مرکز“ آہستہ آہستہ شمال مشرق کی طرف سرک رہا ہے۔ یعنی پودوں کی افزائش کا وہ عروج، جو کبھی مخصوص خطوں میں اپنی شدت کے ساتھ ظاہر ہوتا تھا، اب اپنی جغرافیائی حدود بدل رہا ہے۔ ماہرین اسے محض ایک سائنسی نظریہ نہیں بلکہ ایک انتہائی حقیقی تبدیلی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ جب نباتاتی نمو کے پیٹرن بدلتے ہیں تو ان کے ساتھ زراعت، پانی کی طلب اور ماحولیاتی نظام کا پورا ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔

خلا سے نظر آنے والا بدلتا ہوا ”سبز قطب نما“

زمین کی نباتات ہر سال ایک مخصوص ترتیب سے سانس لیتی ہیں۔ شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere) میں بہار اور گرمیوں کے ساتھ سبزہ پھیلتا ہے، پھر چند ماہ بعد جنوبی نصف کرے (Southern Hemisphere) میں یہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ سائنس دان اس عمل کو ”گرین ویو“ (Green Wave) یا ”سبز لہر“ کہتے ہیں۔

مذکورہ تحقیق کے مرکزی مصنف، میگوئل ماہیکھا، اس تصور کو سادہ انداز میں یوں بیان کرتے ہیں: ”تصور کریں کہ آپ ایک گلوب (Globe) ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں، اور اس پر چھوٹے چھوٹے وزن (یعنی کسی خاص علاقے میں موجود نباتات یا سبز پتوں کی کل مقدار) لگا رہے ہیں، ہر وزن زمین کے کسی حصے میں موجود سبز پتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ پھر جہاں یہ گلوب متوازن ہوتا ہے، وہی نباتات کا ’مرکزِ کمیت‘ (Center of Mass) بن جاتا ہے۔“

جب اس مرکز کو ٹریک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جولائی کے وسط میں یہ نقطہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں آئس لینڈ کے قریب اپنی بلند ترین شمالی حد تک پہنچتا ہے، جبکہ مارچ میں لائبیریا کے ساحل کے قریب اپنی جنوبی ترین حد پر ہوتا ہے۔

 ایک خاموش سرکاؤ، جس کی رفتار اب تیز ہو رہی ہے

اصل اہم پہلو یہ ہے کہ یہ سبز مرکز صرف حرکت نہیں کر رہا، بلکہ مسلسل شمال کی طرف سرک رہا ہے۔ لیف ایریا انڈیکس (Leaf Area Index) یا ایل اے آئی (LAI) ڈیٹاسیٹ کے مطابق، ماضی میں شمالی نصف کرے کے موسمِ گرما میں یہ مرکز تقریباً 1.2 میل (2.0 کلومیٹر) سالانہ شمال کی طرف بڑھ رہا تھا۔

لیکن 2010 سے 2020 کے درمیان اس میں غیر معمولی تیزی آئی۔ جنوبی نصف کرے کے موسمِ گرما میں یہ رفتار حیران کن طور پر 8.7 میل (14.0 کلومیٹر) سالانہ تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ وہ لمحہ ہے جو سائنس دانوں کے لیے یہ ”ایک بہت بڑا حیران کن نتیجہ“ ثابت ہوا۔

 اس تبدیلی کے پیچھے چھپے محرکات

اس سوال کا جواب وقت کے بدلتے ہوئے دورانیے میں پوشیدہ ہے۔ شمالی نصف کُرے میں سردیاں اب پہلے سے زیادہ گرم ہیں، جس کی وجہ سے پودوں کے اگنے کا دورانیہ یعنی ”گروئنگ سیزن“ طویل ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پودے اب ماضی کے مقابلے میں تھوڑی زیادہ دیر تک سبز اور ہرے بھرے رہتے ہیں، اور یہی معمولی فرق عالمی سطح پر سبز مرکز کو شمال کی طرف کھینچ رہا ہے۔ مزید یہ کہ یہ حرکت صرف شمال ہی نہیں بلکہ مشرق کی طرف بھی ہے۔ بھارت ، چین اور روس جیسے ممالک، جہاں بڑے پیمانے پر شجرکاری اور زرعی تبدیلی ہو رہی ہے، اس مرکز کو اپنی طرف کھینچنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 کاربن ڈائی آکسائیڈ: نعمت یا دھوکہ؟

کاربن ڈائی آکسائیڈ (Carbon Dioxide) یا سی او ٹو (CO2) پودوں کے لیے کھاد کا کام کرتی ہے، جس سے ”گلوبل گریننگ“ (Global Greening) کا عمل تیز ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر جرمنی میں افزائش کا موسم 1961 کے مقابلے میں 14 دن بڑھ چکا ہے۔ لیکن زیادہ سبزہ ہمیشہ بہتر نہیں ہوتا؛ اگر درجہ حرارت کے ساتھ خشک سالی بھی بڑھے، تو سی او ٹو کا فائدہ بے اثر ہو سکتا ہے اور ماحولیاتی نظام دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

 زراعت اور کسانوں کے لیے نئی دنیا

زیادہ عرض البلد والے ممالک جیسے کینیڈا اور شمالی یورپ میں کسانوں کے لیے مکئی (Corn)، آئل سیڈز (Oilseeds) اور چارہ اگانے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ طویل گرم موسم کیڑوں اور جڑی بوٹیوں کے لیے بھی سازگار ہے۔ ایفڈز (Aphids) اور دیگر زرعی کیڑے اب زیادہ نسلیں پیدا کر سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے کسانوں کو نئے اور مہنگے طریقے اپنانے پڑ رہے ہیں۔

 جنوبی ایشیا اور پاکستان کے لیے نئے چیلنجز

عالمی سیٹلائٹ ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ زمین کا ”سبز مرکز“ نہ صرف شمال بلکہ تیزی سے مشرق کی جانب بھی سرک رہا ہے۔ اس مشرق زدہ ہجرت میں سب سے بڑا کردار بھارت اور چین کا ہے، جہاں بڑے پیمانے پر زرعی توسیع اور شجرکاری کے منصوبوں نے ہریالی کے عالمی نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ اب خلا سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سبز نظر آتا ہے، لیکن کیا یہ سبزہ ہمیشہ خوشحالی کی علامت ہے؟

پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے، ہریالی کے اس مرکز کی منتقلی ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ ”سبز لہر“ (Green Wave) کے بدلتے ہوئے پیٹرن پاکستان میں فصلوں کے روایتی کیلنڈر کو درہم برہم کر رہے ہیں۔

● موسمِ سرما کی سکڑتی ہوئی سرحدیں: شمالی نصف کرے میں سردیوں کی شدت میں کمی نے پاکستان میں گندم کی فصل کے لیے درکار ”ٹھنڈے ایام“ کو کم کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فصل اب وقت سے پہلے پک کر تیار ہو رہی ہے، جس سے دانوں کا سائز اور معیار متاثر ہو سکتا ہے۔

● پانی کا دباؤ اور خشک سالی: اگرچہ سیٹلائٹ تصاویر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کی وجہ سے سبزہ بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن پاکستان کے میدانی علاقوں میں پانی کی کمی اور خشک سالی کی وجہ سے پودے شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق، پودوں کا ”تھوڑی زیادہ دیر تک زیادہ سبز رہنا“ زمین سے نمی کو تیزی سے نچوڑ رہا ہے۔

● کیڑوں کا پھیلاؤ اور نئی بیماریاں: طویل گرم موسم اور نرم سردیوں نے پاکستان میں کپاس اور دیگر فصلوں پر کیڑوں کے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایفڈز (Aphids) اور سفید مکھی جیسے کیڑے اب زیادہ دیر تک کھیتوں میں موجود رہتے ہیں، کیونکہ انہیں مارنے کے لیے درکار کڑاکے کی سردی اب ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے۔ کسانوں کو ان کیڑوں سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ کیڑے مار ادویات استعمال کرنی پڑ رہی ہیں، جو نہ صرف لاگت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

اس صورتحال میں ”پریسیژن ایگریکلچر“ (Precision Agriculture) یا درست زراعت ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم بدلتے ہوئے حالات میں اپنی غذائی ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایسے بیجوں کی ضرورت ہے جو گرمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور کم پانی میں بھی ہریالی برقرار رکھ سکیں۔

زمین کا سرکتا ہوا سبز مرکز ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ اب صرف نصابی کتب میں ”پاکستان ایک زرعی ملک ہے“ کا رٹہ لگانے اور محض پرانی حکمتِ عملیوں سے کام نہیں چلے گا۔ پاکستان کو اپنی زرعی پالیسیوں کو ان سیٹلائٹ مشاہدات کی روشنی میں ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا تاکہ آنے والے وقت میں غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

_______________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button