غزہ کا پیاسا کتا اور آخری گھونٹ
اگست دو ہزار دس کے سیلاب میں افواہ اڑی کہ مظفر گڑھ شہر ڈوبنے والا ہے ۔چنانچہ ہزاروں کنبے گھروں سے نکل پڑے۔ میں نے دریاِ چناب کے پل پر انسانی سروں کا ویسا ہی ہجوم دیکھا، جیسے 1947 کی کوئی ہجرتی فلم دیکھ رہا ہوں۔ کسی بوڑھے کے سر پے گٹھڑ، کسی عورت کی…
شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار
جبر، گھٹن، غم و ابتلا انفرادی و اجتماعی انسانی المیوں کے اجزائے لازمی ہیں تو دوسری جانب یہی اجزا تخلیقی فصل کے لیے کھاد کا کام کرتے ہیں اور اس کھاد سے لمحہِ موجود کی قلم بند تاریخ اگتی ہے اور اس کی لہلہاہٹ اگلی نسل کو بھی پاؤں جمائے رکھنے کا حوصلہ دیتی…
میئر کے کان (پیرووین ادب سے منتخب افسانہ)
سولہویں صدی کے وسط میں پوٹوسی (بولیویا کا شہر) کا شاہی شہر مہم جُو لوگوں کے اجتماعات کے لئے موزوں ترین جگہ تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاندی کی کانیں دریافت ہونے کے پانچ سال کے اندر یہاں کی آبادی بیس ہزار نفوس سے بڑھ چکی تھی۔ محاورہ ہے کہ…
ہماری آنکھوں پر بندھی غزہ کی ’پٹی‘ اور اسرائیل کے لیے بددعاؤں کے کنٹینرز۔۔
’’آپ اپنا دفاع بھلے مضبوطی سے کرنے کے قابل ہیں، مگر جب تک امریکا قائم ہے، آپ کو ہرگز فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں (امریکی وزیرِ خارجہ انتنی بلنکن۔ تل ابیب۔ بارہ اکتوبر دو ہزار تئیس) حالانکہ دانتوں تک مسلح اسرائیل کے آگے…
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
کسی کا اچانک غائب ہو جانا، یک دم کسی پریس کلب یا ٹی وی چینل پر نمودار ہو جانا، کمرہِ عدالت سے ضمانتی کاغذ لہراتے ہوئے باہر نکلتے ہی بنا نمبر پلیٹ کی کسی گاڑی میں ڈنڈہ ڈولی ہو کے اڑن چھو ہو جانا۔ ان میں سے کچھ بھی ہرگز ہرگز اب کوئی غیر معمولی…
رزق اپنی ناقدری کبھی نہیں بھولتا
آٹھ ارب کی دنیا میں روزانہ اسی کروڑ انسان بھوکے سوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ خدا انہیں آزما رہا ہے یا قدرت نے کرہِ ارض پر انسان سمیت ہر ذی روح کے لیے خوراک کا حصہ مختص نہیں کیا، مگر پیٹ بھروں کی لاپرواہی، ناشکری اور ہوس ان اسی کروڑ لوگوں کا پیٹ خالی رکھنے…
وعدوں کی ہانڈی میں دلاسے کی ڈوئی
ماضی کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہیں کہ درخشاں ہی ہوتا ہے۔۔ بالکل اس شخص کی طرح، جو بھلے زندگی میں کیسا ہی کمینا ہو، مرنے کے بعد اس میں خوبیاں ہی ڈھونڈی جاتی ہیں۔ کوئی بھی حکومت ہو، اس لحاظ سے اچھی ہی ہوتی ہے کہ وہ حال سے بے حال لوگوں…
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
یہ بات ہے دسمبر دو ہزار گیارہ کی، اس وقت کے وزیرِ اعلٰی شہباز شریف کی فلاحی اسکیم کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے حسبِ معمول دل کے ایک لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مریضوں کو دواؤں کی مفت سپلائی جاری تھی۔ ان دواؤں میں کراچی کی ایک فارماسيوٹیکل…