Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے متعلق آئینی ترمیم کے لئے باضابطہ بل تیار

By Akhtar Rasool
ستمبر 16, 2021 3 Min Read
0

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے متعلق آئین میں ترمیم کے لئے باضابطہ بل تیار کر لیا ہے

اس ضمن میں موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے متعلق مجوزہ ترمیمی بل کا عنوان چھبیسویں آئینی ترمیم بل2021ع ہوگا، جس میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 51 ، 59، 106 ، 175A، 198، 218 ، 240 اور 242 میں ترامیم کی تجاویز شامل ہیں، اس میں آرٹیکل 258A اور 264A کے نام سے مزید دو شقوں کا اضافے کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے

مجوزہ ترمیمی بل میں چیف کورٹ گلگت بلتستان کو ہائی کورٹ گلگت بلتستان کا نام دینے کی تجویز دی ہے، جب کہ سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کو ختم کیا جائے گا

بل کے مطابق ہائی کورٹ گلگت بلتستان کے ججز کی تعداد پانچ ہی رہے گی اس میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا

گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کو ختم کیا جائے گا، تاہم اس کے ایک رکن کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ممبر بنایا جائے گا۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو اس کی مدت ختم ہونے تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کا رکن برقرار رکھا جائے گا

آئین میں مجوزہ چھبیسویں ترمیم کے تحت مجوزہ ترمیمی بل میں گلگت بلتستان اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 33 ہی برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے، جس میں سے 24 جنرل، 6 خواتین جبکہ 3 ٹیکنوکریٹس کی نشستیں ہوں گی

گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی میں 4 نشستیں دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں سے 3 جنرل نشستیں جب کہ خواتین کے لئے ایک نشست رکھنے کی تجویز ہے

گلگت بلتستان کو سینیٹ میں بھی 4 سیٹیں دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی، جس میں 2 جنرل سیٹیں، ایک خواتین کی اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست شامل ہے۔ سینیٹ میں گلگت بلتستان کی نمائندگی کے حوالے سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان و وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے عدم اتفاق کرتے ہوئے دیگر صوبوں کے برابر نمائندگی دینے کی بات کی ، جس پر اتفاق نہ ہونے پر یہ تاکید کی کہ سینیٹ میں گلگت بلتستان کو 8 جنرل، 1 خواتین اور 1 ٹیکنوکریٹ کی نشست دی جائے تاہم زرائع کا کہنا ہے کہ اس پر وزیراعظم سے وزیر اعلیٰ خالد خورشید کی مشاورت کے بعد یہ اتفاق ہوا کہ گلگت بلتستان کو سینیٹ میں 8 سیٹیں دی جائیں

مجوزہ ترمیم کے ذریعے آئین میں شق 258 A شامل کی جائے گی ، جس میں کہا جائے گا گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جاتا ہے، اس شق میں واضح کیا جائے گا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام جمہوری طریقہ کار کے ذریعے آزادانہ و شفاف استصواب رائے کے زریعے اپنا حق خودارادیت حاصل کرے گا

مجوزہ آئینی ترمیم میں آرٹیکل 264A کا اضافہ کرتے ہوئے گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو ختم کیا جائے گا، اس شق میں وفاق و گلگت بلتستان میں پوزیشن و ویکینسی شیئرنگ فارمولا کو فورتھ شیڈول گلگت بلتستان آرڈر2018 کو ہی برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ جبکہ گلگت بلتستان کی اپنی پبلک سروس کمیشن کے قیام تک فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو فعال رکھنے کی بھی تجویز دی ہے

دوسری جانب وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس ضمن میں وزیراعظم کو خط لکھا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ مشیر قومی سلامتی اور دفتر خارجہ کا اصرار ہے کہ آئین کے آرٹیکل1 میں ترمیم نہ کی جائے جس کے باعث نیا مسودہ ڈرافٹ کیا گیا ہے، نئے مسودہ میں آرٹیکل ایک میں ترمیم کے بجائے آرٹیکل 258 میں مزید شق کا اضافہ کرکے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی راہ ہموار کی جائے گی

مجوزہ بل کو پہلے منظوری کے لئے گلگت بلتستان اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کے بعدبل کو قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ بل کی منظوری کیلئے گلگت بلتستان اسمبلی و قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ بل کی منظوری کیلئے دو نوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، علی امین گنڈاپور، علی محمد خان، شہریارآفریدی، گورنر گلگت بلتستان راجا جلال حسین مقپون، وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید و دیگر کو ٹاسک دینے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل سے بھی درخواست کرنے کی تجویز دی ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے رابطہ کرکے وہان سے آئینی پیکچ کی منظوری لی جائے.

Tags:

BaltistanGilgitGilgit baltistanPakistanTransitional Province
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

6000 کی ڈیسک 29000 میں خریدنے پر سعید غنی کی وضاحت

Next

افغان طالبان رہنما ملا برادر دنیا کے بااثر ترین افراد کی فہرست میں شامل

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme