Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

افیمیو! اھلاً و سھلاً مرحبا، باروک ھابا، ویلکم، سواگتم!

By Akhtar Rasool
جنوری 5, 2022 3 Min Read
2

ایک دور تھا، جب فلسفۂ عملیت، عمل کی اہمیت کو لے کر اس حد تک اندھا یا تنگ نظر ہو گیا، کہ الفاظ کی اہمیت سے یکسر اور قطعی انکار کر کے محض تجربیت کی مالا جھپنے لگا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ عملیت کا فلسفہ خود اپنی تشریح کے لیے ہمیشہ الفاظ کا محتاج رہا!

کشکول ہاتھ میں تھامے رئیس ہونے کا پوز دینے کی، یہ ایک بہت دلچسپ مثال تھی، لیکن کوئی دور بھی ایسی دلچسپیوں سے خالی نہیں گزرا.

آج کل عقل اور عقلیت پسندی کا بڑا شور و غل برپا ہے… خدا، روح، حِسّی تجربات سے ماورا یا مافوق الحسّیات حقائق سے انکار، آج کے دور کا مقبول ٹرینڈ ہے. اس ٹرینڈ کا ”آیا کمپنی کی مشہوری کے لیے“ والا انداز اس قدر بھونڈا اور مضحکہ خیز ہے کہ ”شیطان آپ کو روکے گا، سبحان اللہ پڑھ کر شیئر کریں“ قبیل کے ذہنی مفلسوں اور مسخروں کی طرح اس ٹرینڈ والوں کی اپنے تئیں بلیغ موشگافیوں پر بھی اب اپنی ہنسی روک پانا ناقابلِ شکست ضبط کا متقاضی ہے…

لہٰذا عقلیت پسندی کے اس فیشن شو میں، لباس کے نام پر اپنے ننگے جسم پر بے عقلی کی دھجیاں باندھے، عقلی دلائل کا کیٹ واک سستی شہرت کا سستا سا نسخہ بن گیا ہے!

کتاب ”ایک مہینے میں ڈاکٹر بنیے“ قیمت صرف ڈیڑھ سو روپے…………. جی ہاں! جس طرح مبلغ ڈیڑھ سو کی کتاب پڑھ کر ڈاکٹر بنا جا سکتا ہے، اب اسی قدر آسان ہے عقلیت پسندی کے فیشن شو میں بھونڈے عقلی دلائل کا کیٹ واک کر کے فیشن ایبل روشن خیال دانشور بننا…..!

ہے نا سستا اور آسان سا نسخہ!؟
ناطقہ سر بَگَریباں ہے کہ اسے کیا کہیے……

یہاں عقل کی بے عقلی کا تماشا سا تماشا ہے…. جس عقل نے آج کے انسان کو انگلی پکڑ کر…. یا خدا جانے انگلی کر کے…. حسّی تجربات سے ماورا غیر مادی حقائق سے انکار کی راہ دکھائی، کیا ستم ہے کہ سائنس کی ڈائریکٹری میں خود اس عقل کے مادی وجود کا کہیں کوئی نام پتہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا….!

جی ہاں جنابِ من! آج کی ادھ پڑھی کھوپڑیوں کے ڈبوں میں، کالے رنگ کا تھیلا بغل میں دابے حسّی تجربات کی روشن خیال مارکہ مجرّب چُورن بیچنے والا باوا عقل، خود حسّی تجربات کی اپنی یہ چورن استعمال کرنے کے قابل بھی نہیں…

بات بہت سادہ سی ہے اور بہت سیدھی سی ہے.. مادہ کے اس نئے مذہب کی ساری عمارت عقل کی ریت سے بنے عقلی دلائل کے ستونوں پر کھڑی ہے اور مادہ مرشد کی مریدنی عقل بے چاری خود کوئی مادی وجود نہیں رکھتی…
میں صدقے واری عقل کی اس بے عقلی پر!

خدا جھوٹ نہ بلوائے، ہم بھی باغِ دہریت کی سیاحی کر چکے ہیں، وہاں ہوا خوری کرتے کرتے ہماری کھوپڑی میں بھی اُن دنوں کافی ہوا بھر گئی تھی.. سو اب مکافاتِ عمل بگھت رہے ہیں… اب ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے… لیجیے سنیے… تجربے کی بات بتاتا ہوں.. کوئی دن جاتا ہے کہ راہ چلتے کوئی ہمارا بازو پکڑ کر کھڑا کہہ رہا ہے کہ میں خدا کو نہیں مانتا…
بھائی میرے! نہیں مانتا تو نا مان…. میرا بازو چھوڑ، میں نے اپنے کام سے جانا ہے…

یہی رنگ اب سوشل میڈیا پر بھی نظر آتا ہے، جہاں مذہبِ دہریت کے جنونی پیروکاروں کا وہی روایتی مذہبی اندازِ تبلیغ دیکھ کر اب یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ جس دھریت نے مذاہب کا انکار کیا تھا، وہ خود اب ایک نیا مذہب بن بیٹھی ہے… جس دہریت نے خدا کے وجود سے انکار کیا تھا، اس نے خود ھٹ دھرمی اور انا کا نیا بُت تخلیق کر لیا ہے… افیون کا طعنہ دیتے دیتے، انہیں بھی اس نئے ماڈرن مذہب کے افیون کی ایسی لت لگی ہے کہ منہ سے جھاگ اڑانے کی بیماری نے ان کے منہ کا راستہ بھی دیکھ لیا… ایتھے رکھ ملنگی!
رانجھا رانجھا کردے میں آپے رانجھا ہوئی..

مذہبِ دھریت کی مخصوص سوچ ہی اب خود اس کے جنونی پیروؤں کے لیے عقیدے کی صورت اختیار کر چکی ہے.. دوسرے تمام مذاہب کی طرح سب پر رد کی لکیر کھینچ کر اپنے عقیدے کو درست ثابت کرنا اگر انتہا پسندی تھی، تو اس انتہاپسندی کی دوڑ میں مذہبِ دہریت سین بولٹ کی طرح سب سے آگے آگے ہے…

اس حمام میں ان نئے افیمیوں کو اھلاً و سھلاً، باروک ھابا، ویلکم، سواگتم!

Tags:

AtheistFree ThinkersReligion of AtheismReligious Fundamentalist
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

گاڑی کے مسائل اور ان کے حل سے متعلق مکمل گائیڈ لائن

Next

بچوں کے بجائے کتے بلیاں پالنا ثقافتی زوال کی نشانی ہے: پوپ فرانسس

2 Comments
  1. شبير احمد قريشي نے کہا:
    جنوری 17, 2022 وقت 4:36 صبح

    Very impressive message,nice write up

    Reply
    1. امر گل نے کہا:
      جنوری 23, 2022 وقت 4:41 شام

      Thank you, dear sir.

      Reply

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme