Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

دادو میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، جاں بحق افراد کی تعداد 1200 سے تجاوز کرگئی

By Akhtar Rasool
ستمبر 2, 2022 2 Min Read
0

سندھ کے ضلع دادو میں پانی کی سطح میں اضافے کی وجہ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہے جبکہ ملک کے شمالی علاقوں میں خوفناک سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔

مون سون کی غیر معمولی، بدترین بارشوں اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث آنے والے سیلاب سے ملک میں 416 بچوں سمیت کم از کم ایک ہزار 208 شہری جاں بحق جبکہ 6 ہزار 82 زخمی ہوئے ہیں

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 19 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

محکمہ آبپاشی سندھ کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر عالم راہپوٹو نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بتایا کہ تباہی کا رخ اب جنوبی علاقوں کی جانب ہے جبکہ سیلابی پانی جمعہ کے روز ضلع دادو کی منچھر جھیل اور جوہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کی صبح منچھر جھیل سے دریائے سندھ میں 10 ہزار سے 15 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ مین نارا ویلی ڈرین اور سیلب سے حفاظتی پشتے ایف پی بند سے 70 ہزار سے 80 ہزار کیوسک پانی جھیل میں آرہا ہے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ جھیل میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ ضرور رہی ہے لیکن تمام حفاظتی بند مضبوط ہیں۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ دادو میں دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، دادو مورو برج کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے

اس کے علاوہ دادو کے ڈپٹی کمشنر سید مرتضیٰ شاہ نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بتایا کہ علاقے میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے

انہوں نے کہا کہ پاک فوج، رینجرز اور ضلعی انتظامیہ مل کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، فوج اور ضلعی انتظامیہ نے کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشن بھی شروع کیا ہے۔

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ہم تیار اور ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ شمالی علاقوں سے ریلے آئندہ چند روز کے دوران صوبے میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 6 لاکھ کیوبک فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی دریائے سندھ میں آنے کا خدشہ ہے جو سیلاب سے بچاؤ کے ہمارے نظام کا امتحان لے گا

آنے والے خطرے کے پیش نظر صوبے میں سیکڑوں خاندانوں نے سڑکوں پر پناہ لی ہے، بہت سے لوگ شہروں کا رخ کر رہے ہیں جیسا کہ کراچی جو کہ تاحال سیلاب سے محفوظ ہے۔

50 سالہ بزرگ شہری اللہ بخش نے رائٹرز کو بتایا بارش اور سیلاب کے دوران گھر تباہ ہوگیا، ہم اپنے رشتہ داروں کے پاس کراچی جارہے ہیں۔

Tags:

DaduFloodIndusSindh
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان کے نظام تعلیم میں زبان کی افسوس ناک کہانی

Next

کوئی غلط کہے تو کہنے دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ توہین عدالت قوانین پر یقین نہیں رکھتی، چیف جسٹس

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme