Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتاریختازہ ترینخبریں

ہزاروں برس قبل تدفین کی رسومات میں افیون کا استعمال

By Akhtar Rasool
ستمبر 22, 2022 2 Min Read
0

اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ نے ملنے والے شواہد کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ ہزاروں برس قبل انسانی لاشوں کی تدفین کے وقت آخری رسومات کے دوران افیون بھی استعمال کی جاتی تھی۔ ایسا افیون کی ساڑھے تین ہزار برس پرانی باقیات ملنے کے باعث ممکن ہوا

اس بارے میں اسرائیل کے محکمہ آثار قدیمہ اور وائزمین انسٹیٹیوٹ آف سائنس نے اپنی مشترکہ سائنسی چھان بین 2012ع میں اس وقت شروع کی تھی، جب اسرائیل کے وسطی حصے میں یہود نامی قصبے میں کھدائی کے دوران ماہرین کو کانسی کے عہد کے آخری دور کی کئی قبریں ملی تھیں

ان قبروں سے ملنے والے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پرانے برتنوں میں ماہرین کو افیون کی ایسی باقیات ملی تھیں، جن کے تجزیے کے نتائج کے بعد اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ اس دور میں اس نشہ آور مادے کو انتقال کر جانے والے انسانوں کی آخری رسومات کے وقت استعال کیا جاتا تھا

آثار قدیمہ کی اسرائیلی اتھارٹی نے بتایا ہے کہ ماہرین کو پوست کے پھول جیسی دکھائی دینے والی ایک جگہ سے کئی قدیمی برتن ملے۔ یہ نوادرات چودہویں صدی قبل از مسیح کے دور کے ہیں

ماضی میں کئی قدیمی مسودوں سے بھی اس امر کے اشارے ملے تھے کہ تب کنعان میں مُردوں کی تدفین کے وقت افیون استعمال کی جاتی تھی۔ ان اشاروں کی روشنی میں ماہرین نے یہ جائزہ لینے کی کوشش کی کہ آیا ان برتنوں کو افیون رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تو ثابت یہ ہوا کہ ہزاروں سال پرانے ان برتنوں میں سے کم از کم آٹھ میں افیون کی باقیات موجود تھیں

اسرائیلی آرکیالوجیکل اتھارٹی کے ایک ماہر رون بیئری نے بتایا ”یہ برتن مرنے والوں کے اہل خانہ کی طرف سے یا تو قبروں میں کھانے کے ساتھ رکھے جاتے یا پھر آخری رسومات کے دوران استعمال ہوتے تھے‘‘

رون بیئری کا کہنا ہے ”ان رسومات کے دوران مرنے والوں کے اہل خانہ یا ان کی طرف سے کوئی مقامی مذہبی شخصیت مرنے والوں کی روحوں کو بلانے کی کوشش کرتے تھے اور اس عمل کے دوران ’ذہنی اور فکری تیاری‘ کے لیے افیون استعمال کی جاتی تھی‘‘

تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ”اب بھی بہت سی باتوں کا ہمیں علم نہیں۔ ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ تب اس نشہ آور مادے کو دراصل کیسے استعمال کیا جاتا تھا۔ ہم ہزاروں سال پہلے افیون کے اس طرح استعمال کے بارے میں اندازے ہی لگا سکتے ہیں۔‘‘

Tags:

Archaeological SitesIsraelOpiumopium in funeral ritesthousands of years ago
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارت: پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن، سو مسلمان شہری گرفتار

Next

تین سال بعد دنیا کا ہر چوتھا آئی فون بھارت میں بنا ہوا ہوگا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme