Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

معاشی بدحالی کا رونا اور پارلیمانی سربراہان کی تنخواہوں میں اضافہ

By Akhtar Rasool
ستمبر 30, 2022 4 Min Read
0

ایک جانب حکومتی عمائدین کی جانب سے ”حکومت کے پاس زہر کھانے کے پیسے بھی نہیں ہیں“ جیسے بیانات میڈیا کی زینت بن رہے، تو دوسری جانب ایوان بالا نے پیر کے روز ایک بل منظور کیا ہے، جس میں سینٹ کے چیئرمین اور نیشنل اسمبلی کے اسپیکر کی مراعات میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے

یہ بل ایک ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب ملک میں چار کروڑ کے قریب لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ افراد میں گیارہ ملین کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔ لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں

سیلاب کے باعث نو ملین ایکڑ سے زیادہ زمین تباہ ہوگئی ہے جبکہ بارہ ہزار کلو میٹر سے زیادہ کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور تین سو سے بھی زائد پلوں کو نقصان ہوا ہے

ناقدین سینیٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری کو بے حسی قرار دے رہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ اراکین پارلیمنٹ اپنی مراعات میں اضافہ کرنے کے بجائے اپنی تنخواہ اور مراعات سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وقف کر دیں

منظور شدہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے بیرونی دوروں کے موقع پر ان کے رتبے کے لحاظ سے پروٹوکول دیا جائے۔ اس طرح اب انہیں ڈپٹی ہیڈ آف دی اسٹیٹ کے لحاظ سے پروٹوکول دیا جائے گا

واضح رہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے کیے گیے ایک مطالبے کے بعد 21 ستمبر کو ایک حکومتی فیصلے میں ان کے لیے موٹر وے ٹیکس کو بھی ختم کر دیا گیا تھا

اس ضمن میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے دانشور امداد قاضی کا کہنا ہے ”ایک ایسے وقت میں جب کروڑوں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں ارکان سینیٹ کا اس طرح کا بل منظور کرنا انتہائی شرمناک ہے۔“

انہوں نے کہا ”سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کے پاس کھانے کے لیے روٹی نہیں ہے۔ ان کے گھر بار تباہ ہو گئے، مویشی مر گئے، ان کا روزگار ختم ہو گیا ہے۔ ایسے موقع پر اراکین پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام مراعات سے دستبردار ہوں اور اپنی تنخواہ اور مراعات کو سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وقف کریں لیکن ایک ایسے وقت میں جب ملک ڈوبا ہوا ہے، یہ انتہائی شرم کا مقام ہے کہ سینیٹ کے ارکان قومی اسمبلی کے چیئرمین اور سینیٹ کے چیئرمین کی مراعات میں اضافہ کر رہے ہیں‘‘

امداد قاضی کے مطابق ڈپٹی ہیڈ آف اسٹیٹ کا پروٹوکول دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر مزید پیسے خرچ کیے جائیں۔ ان کے لیے مزید گاڑیوں کا انتظام کیا جائے۔ سیکورٹی سخت کی جائے اور ان کے لیے مزید پر تعیش ہوٹلوں میں قیام کا انتظام کیا جائے

امداد قاضی نے ٹول ٹیکس کے خاتمے پر بھی اراکین اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ”یہ اسمبلیاں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ یہ عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنی مراعات میں اضافہ کرنے کے لیے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے عوام پر بے تحاشہ ٹیکسز لگائے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ جو تنخواہ دار طبقہ ہے اس کی تنخواہ سے بھی سیلاب زدگان کے لیے پیسے کاٹے گئے ہیں لیکن جب اراکین اسمبلی کی مراعات کی بات آتی ہے تو وہ اپنی مراعات کم کرنے کے بجائے اس میں اضافے کی بات کرتے ہیں“

رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی طور پر بہت مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اس طرح کے بل کو منظور کرنا مناسب نہیں

وہ کہتی ہیں ”سینیٹ کے چیئرمین اور اسپیکر قومی اسمبلی کی پہلے ہی بہت ساری مراعات ہیں۔ میرا تو خیال یہ ہے کہ مالدار اراکین اسمبلی کو نہ صرف اپنی تنخواہیں سیلاب ذدگان کے لیے وقف کرنی چاہیے بلکہ انہیں خود رضا کارانہ طور پر اپنی مراعات سے بھی دستبردار ہو جانا چاہیے۔‘‘

کشور زہرہ نے مزید کہا ”تاہم صرف اراکین اسمبلی کے حوالے سے ہی بات نہیں کی جانی چاہیے۔ ہمارے افسر شاہی کے لوگوں کو بھی بہت ساری مراعات ملتی ہیں۔ ایک رکنِ اسمبلی کو تنخواہ تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار ملتی ہے، جس میں سے بہت ساری کٹوتیاں بھی ہوتی ہیں اور اس سے بہت سارے بلوں کی ادائیگی بھی اس کو کرنی پڑتی ہے لیکن ہمارے افسر شاہی کے ارکان کو سات سے آٹھ لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے۔ ان کو پلاٹ ملتے ہیں۔ ان کا علاج پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ ’ارکان اسمبلی کے لیے سرکاری ہسپتال مختص ہیں۔‘ تو صرف ارکان اسمبلی کو ہی اپنی مراعات سے دستبرداری نہیں کرنا چاہیے بلکہ بیوروکریسی کے افراد پر سادگی کے اصولوں کا اطلاق ہونا چاہیے“

واضح رہے کہ 2020 میں بھی ایک بل پیش کیا گیا تھا، جس میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تجویز دی گئی تھی، لیکن عوامی تنقید کی وجہ سے پھر اس کو واپس لے لیا گیا تھا اور یہ تجویز بل میں شامل نہیں ہو سکی تھی۔

Tags:

FloodFundsPakistanPoliticiansPoverty
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

قابل استعمال لینسز دوبارہ لگانے سے آنکھوں کے نایاب انفیکشن ہو سکتے ہیں: تحقیق

Next

ٹاٹا کمپنی نے بھارت کی سستی ترین الیکٹرک گاڑی متعارف کرا دی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme