Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بل فائٹنگ کھیل یا تشدد؟ فرانس میں بحث چھڑ گئی

By Akhtar Rasool
نومبر 24, 2022 3 Min Read
0

سولہ سالہ بپٹسٹ فرانس کے جنوبی شہر آرلس میں بل فائٹر بننے کی تربیت لے ر ہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون ساز، جو ملک بھر میں اس پر پابندی لگانا چاہتے ہیں، ان کی سمجھ میں یہ سیدھی بات نہیں آتی کہ وہ کس چیز کو تفریح کہتے ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک درجن طالب علموں میں سے ایک بپٹسٹ نے، جو آرلس بل فائٹنگ اسکول میں بیلوں کے سامنے روایتی سرخ ملیٹا کپڑا لہرانا سیکھ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ’کوریڈا‘ کے نام سے جانا جانے والا بل فائٹنگ کا یہ کھیل ایک ’روایت، ایک تفریح اور بیل کے ساتھ ایک رقص‘ ہے

اس میں عام طور پر چمکتا ہوا لباس پہنے ایک میٹاڈور کی تلوار کے زور سے ، جانور مارا جاتا ہے، اس کے چاہنے والوں کا خیال ہے کہ یہ ایک قدیم روایت ہے، جسے برقرار رکھا جانا چاہئے۔ لیکن ناقدین کے لیے یہ ایک ظالمانہ رسم ہے، جس کی جدید معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے

روزنامہ جرنل ڈو ڈیمانچے کے ایک تجزیہ کے مطابق تقریباً 75 فی صد فرانسیسیوں نے بل فائٹنگ پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کی ہے، اور بائیں بازو کے قانون ساز ایمریک کارون نے اس پابندی کے لیے ایک بل پیش کیا ہے، جس پر جمعرات کو پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی

اس ہفتے کے اختتام پر جنوبی فرانس کے کئی شہروں میں، جہاں کوریڈا کی اب بھی اجازت ہے، پابندی کے حامی اور مخالف مظاہرین نے مارچ کیا۔ مظاہرین میں سے ایک نے بینر اٹھا رکھا تھا: ’کوریڈا کوئی لڑائی نہیں ہے، یہ ایک تشدد سے بھرپور اور بے گناہ کو پھانسی دینے کا عمل ہے۔‘

قانون ساز ایمریک کارون کہتے ہیں کہ اس استثناء کو ، جو فرانس کے کچھ حصوں میں بل فائٹنگ کی اجازت دیتا ہے اور جہاں ہر سال ایک ہزار کے قریب بیل مارے جاتے ہیں، ختم کر دینا چاہیے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا ’اس روایت کا اخلاقی طور پر کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

مجوزہ بل زیادہ تر جماعتوں، حتیٰ کہ کیرون کے بائیں بازو کے نوپس اتحاد کے درمیان بھی تقسیم کی وجہ بن رہا ہے اور اس کے اپنائے جانے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن اس نے فرانس میں ایک گرما گرم بحث کو دوبارہ شروع کر دیا ہے

نمز شہر میں کوریڈا کے انچارج میونسپلٹی کونسلر ، پادری فریڈرک کا کہنا ہے یہ دو ہزار سال پرانی تاریخ ہے، انہوں نے کہا کہ ہم بیل کی بڑائی بیان کرتے ہیں

میونسپلٹی کا کہنا ہے کہ نیمز میں ہر سال منعقد ہونے والے چودہ بل فائٹنگ شوز سے تقریباً 60 ملین یورو کی آمدنی ہوتی ہے

دوسری طرف، احتجاج کرنے والی ٹیفنی سینمارٹن لارنٹ دلیل دیتی ہیں کہ ہمارے ساتھی شہریوں کی ایک بڑی اکثریت بل فائٹنگ کی مخالفت کرتی ہے جس میں ایک بیل کو مارنے کا شو بنایا جاتا ہے ۔تشدد کوئی شو نہیں ہے

بل فائٹنگ، جس کا آغاز اسپین میں ہوا تھا، وہاں پر بھی اس پر گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ 2010ع میں کاتالونیا میں اس پر پابندی عائد کی گئی تھی، لیکن آئینی عدالت نے چند سال بعد اس پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بل فائٹنگ کو ثقافتی اثاثہ قرار دیا۔ جانوروں کی بہبود سے متعلق ایک مجوزہ بل اب بھی زیر بحث ہے لیکن اس میں بل فائٹنگ کا ذکر نہیں ہے

آرلس بل فائٹنگ اسکول کے صدر یویس لیباس کا کہنا ہے کہ جب سے (بل فائٹنگ) شروع ہوئی ہے لوگ اس پر پابندی لگانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ، لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوئے، کیونکہ لوگوں نے اس پابندی کو ماننے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔

Tags:

BullBull fightingfightingViolence
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

دہائیوں تک مسائل کے بعد آخرکار ’لیپ سیکنڈ‘ ختم کرنے کا فیصلہ

Next

وائلڈ لائف سمٹ: شارک کو معدومیت کے خطرے سے بچانےکی جانب اہم پیش رفت

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme