Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

انسان اور جنگلی حیات کا تصادم

By Akhtar Rasool
دسمبر 19, 2022 4 Min Read
0

اسلام آباد میں واقع مارگلہ ہلز میں اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ نے حال ہی میں ٹریکنگ کرنے والوں میں خاصی مقبول ٹریل نمبر تین کو بند کر دیا تھا

اس ٹریل کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب قریب ہی واقع سیدپور گاؤں کے قریب میں چند تیندوے آگئے اور گاؤں میں کھلبلی مچ گئی

اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کی سربراہ رینا خان نے تو دو سال قبل ہی کہا تھا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں پانچ تیندووں کی نشاندہی کی گئی جو اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ نیشنل پارک کا ایکو سسٹم وائلڈ لائف کے لیے مثبت ہے

اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ نے چار اور چھ نمبر ٹریلز پر لوگوں کو متنبہ کیا تھا کہ اس دونوں ٹریلز پر اکیلے مت جائیں بلکہ گروپ کی صورت میں جائیں اور اس کے علاوہ سورج غروب ہونے کے بعد مت جائیں

ان کا کہنا تھا کہ تیندوے دن کے وقت سوتے ہیں اور رات کو شکار کی تلاش میں نکلتے ہیں

اس کے علاوہ چار نمبر ٹریل نئی کھلی ہے اور جنگلی جانوروں کو کچھ وقت لگے گا کہ وہ اس علاقے میں انسانوں کی موجودگی کے عادی ہوں

لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان کے مطابق یہ بات تو صاف ہے کہ جانور ہمارے علاقے میں داخل نہیں ہو رہے بلکہ انسان جانوروں کے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں

دو صدیوں سے انسان کرہ ارض کے ہر خطے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور تقریباً سارے ہی ماحولیاتی نظام پر اثر انداز ہورہے ہیں

اس طرح انسانی سرگرمیوں کےآغاز سے کرہ ارض اس دور میں داخل ہو گئی جہاں آب و ہوا اور ماحولیاتی نظام انسانی سرگرمیوں سے متاثر ہونا شروع ہوئیں

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے جانوروں کے مسکن پر بھی قبضہ کرنا شروع کر دیا

انسانی قبضے کے خلاف اور جانوروں کے مساکن کو بچانے کے لیے دنیا کا 13 فیصد حصہ حفاظتی علاقے کے طور پر مختص ہے لیکن زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں کئی جنگلی حیات کے مساکن ان مختص کیے گئے علاقوں سے باہر ہیں جہاں اکثر وہ اور انسانی آبادی آمنے سامنے آ جاتے ہیں

جنگلی حیات اور انسان کا تصادم کی شرح کا براہ راست تعلق انسانی آبادی سے ہے

یعنی انسانی آبادی کے بڑھنے سے اور سبزہ زار ختم ہونے سے، جو ممکنہ طور پر جنگلی حیات کا مسکن ہے، سے اس تصادم میں اضافہ ہو سکتا ہے اور شدت بھی آ سکتی ہے

انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم عالمی مسئلہ ہے لیکن ایسے واقعات ایشیا اور افریقہ میں زیادہ ہوتے ہیں جہاں لوگ زراعت کرتے ہیں اور مویشی پالتے ہیں

عالمی اندازے کے مطابق ہر سال 10 سے 15 فیصد فصل جننگلی جانور کھا جاتے ہیں

قومی سطح پر یہ اعداد و شمار خاص نہیں ہیں لیکن ان لوگوں کے کے لیے بہت زیادہ ہیں جن کی روزی ان کی زراعت سے وابستہ ہے لیکن جب فصل یا مویشی پر حملہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں ان جنگلی جانوروں کے لیے غصہ مزید بڑھ جاتا ہے اور پھر ان کو دیکھتے ہی مار دیا جاتا ہے

پاکستان میں انسان اور جنگلی جانروں کے تصادم کے حوالے سے تحقیق بہت کم کی گئی ہے اور وہ تحقیق بھی ملک کے شمالی علاقوں تک محدود ہے جہاں پر جنگلی حیات زیادہ ہے اور انسانی آبادی کم

دنیا بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انسان اور حیوان کے درمیان تصادم میں سب سے بڑی وجہ خطرے کا احساس ہے چاہے وہ اصل میں موجود ہو یا نہ ہو

خطرے کا احساس زیادہ تر ماضی کے واقعات کے حوالے سے پائے جاتے ہیں اور اسی لیے انسان اس کو خطرہ سمجھتے ہوئے مارنے کو ترجیح دیتے ہیں

جنگلات ہماری روز مرہ کی زندگی سے لے کر وہ ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں کا اہم جزو ہے

جنگلی حیات کو خوراک سے لے کر ان کی پناہ گاہ تک جنگلات کی اہمیت کو جتنا زیادہ اجاگر کیا جائے اتنا ہی کم ہے

لیکن اس کے باوجود ہم جنگلات کی تباہی کو خاموش تماشائی کی طرح دیکھ رہے ہیں

تقسیم ہند کے وقت پاکستان میں جنگلات کُل رقبے کے 33 فیصد تھے جو 1990 میں کم ہو کر محض 3.3 فیصد رہ گئے

2015 میں اس سے بھی مزید کم ہو کر 1.9 فیصد رہ گیا۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ ایک تو ان کے مسکن میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کرے اور دوسرا لوگوں کو ان کے مسکنوں اور ان سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی دی جائے

ان دونوں کاموں کے لیے حکومت کو طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

causes of human-wildlife conflictConflicthuman wildlife conflict documentaryhuman-wildlifehuman-wildlife conflicthuman-wildlife conflict newshuman-wildlife conflict upscman animal conflict in assamman animal conflict in indiaman-animal conflictsolution to minimize human-wildlife conflictwhat is human-wildlife conflictwwf and unep report on human-wildlife conflict
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بائیوپائریسی کیا ہے؟

Next

غصہ قابو میں رکھنا بھی چینیوں سے سیکھ لیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme