Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

تین عورتیں، ایک کہانی

By Akhtar Rasool
مارچ 5, 2023 4 Min Read
0

ایک عورت پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے، ایک بارکھان کے ایک کنویں میں پائی گئی۔ ایک اٹلی کے پاس سمندر میں ڈوب گئی

تینوں عورتیں بلوچ ہیں، تینوں کا زندگی گزارنے کا طریقہ الگ الگ، تینوں کے انجام کے بارے میں ہم اس لیے جانتے ہیں کہ ان کے نام ٹی وی کے ٹیکر پر آ گئے۔ اسمبلی کے فلور پر بات ہوئی، انسانی حقوق والوں نے پریس ریلیز جاری کی۔ اس سے پہلے کہ ٹی وی کے ٹیکر پر چوتھی کا ذکر ہو، اور فکر نہ کریں، کہانی آیا ہی چاہتی ہے، یاد کر لیں کے یہ عورتیں کون تھیں اور ان کا انجام کیسے ہوا

ماہل بلوچ پر الزام ہے کہ وہ خود کش بمبار بننے جا رہی تھی۔ بحث صرف یہ ہے کہ کیا اسے ایک پارک سے اٹھایا گیا یا گھر سے بچوں کے ساتھ، کیا تشدد اس کے بچوں کے سامنے ہوا یا کسی مہربان نے بچوں کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے دہشتگردی کے الزام میں گرفتار خاتون ماہل بلوچ کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان کا کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے کوئی تعلق نہیں اور ان کے پاس سے خود کش جیکٹ کی برآمدگی کے دعوؤں میں بھی کوئی حقیقت نہیں

اس پر بھی بحث ہے کہ اسے اٹھایا کاؤنٹر ٹیررازم والوں نے یا ایف سی والوں نے یا فوج والوں نے۔ اور اگر اٹھایا تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا

ریاست کے جس ادارے نے بھی اٹھایا ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ماہل کو مِسنگ پرسن نہ کہا جائے، حالانکہ اس سے پہلے یہ بتایا جا رہا تھا کہ بلوچستان میں مِسنگ پرسن کا مسئلہ ہے ہی نہیں اور کئی سالوں سے جو بلوچ عورتیں سمی دین بلوچ کے ساتھ اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے پریس کلبوں کے باہر کھڑی ہیں, وہ یا تو جھوٹی اور مکار ہیں یا اتنی معصوم ہیں کہ دشمن کے پراپیگنڈے میں آ کر وطن دشمنی کر رہی ہیں، ملک کو بدنام کر رہی ہیں

اس سارے مباحث میں اس نقطے کی گنجائش بالکل نہیں ہے کہ اگر ریاست کا الزام سچ ہے، تو کوئی یہ ہی بتا دے کہ اپنے اتنے خوبصورت بچوں کو چھوڑ کر خودکش بننے پر ماہل کیوں مجبور ہوئی

اٹلی میں کشتی کے حادثے میں زندگی کی بازی ہارنے والی شاہدہ رضا کا تعلق کوئٹہ کے علاقے مری آباد سے تھا اور وہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی تھیں

شاہدہ رضا سب سے اچھی، محب وطن عورت تھی۔ اس کی تصویر اس لیے بھی دستیاب ہے کہ اس نے پاکستان کی قومی ٹیم بلیزز پہن رکھا تھا اور اتنے میڈل لگا رکھے تھے کہ جو عام طور پر صرف سینیئر جرنیلوں کی وردی پر ہوتے ہیں۔ ہمارے سب سے بڑے قومی ہیرو عمران خان، وسیم اکرم، جاوید میانداد بھی صرف ایک کھیل میں پاکستان کی نمائندگی کر پائے۔ شاہدہ فٹ بال اور ہاکی میں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی تھی

کھیلوں کے بارے میں بہت سطحی علم ہے لیکن اگر پاکستان کے علاوہ بھی کسی ملک میں، عورتوں اور مردوں میں، کوئی ایسا کھلاڑی ہو تو اس کا نام اور انجام ڈھونڈ لیں۔ لیکن شاہدہ پاکستان کی ہزارہ برادری سے تھی جن کے تواتر سے ہونے والے قتل عام پر نہ ریاست اُف کرتی ہے نہ عوام۔ وہ اپنے جنازوں کو سڑکوں پر لے کر بیٹھتے ہیں تو بلیک میلر کہلاتے ہیں۔ پانچ سال پہلے انھی صفحات پر کوئٹہ سے جان بچا کر بھاگنے اور غیر قانونی طریقے سے جہاز پر بیٹھ کر بھاگنے والے ایک ہزارہ نوجوان نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ اور کچھ نہ ہوا تو مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے

مجھے یقین ہے کہ شاہدہ رضا کے نام پر کوئی چھوٹا موٹا اسٹیڈیم یا کسی فٹبال یا ہاکی کلب کا نام رکھ دیا جائے گا۔ بالکل اس طرح جیسے کراچی میں سبین محمود اور پروین رحمان کے نام پر سڑکیں موجود ہیں لیکن ان کے قاتلوں کا کوئی پتہ نہیں

20 فروری کو بلوچستان کے علاقے بارکھان کے ایک کنویں سے ایک خاتون اور دو نوجوانوں کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بعد یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ گراناز بی بی اور ان کے دو بیٹوں کی لاشیں ہیں

بارکھان کے کنویں کی تہہ میں پلنے والی لڑکی کا مصدقہ نام ابھی تک ہمیں نہیں پتہ، صرف یہ پتہ ہے کہ اس کی عمر اٹھارہ سال تھی اور قتل سے پہلے ریپ ثابت ہے۔ بحث ابھی یہ جاری ہے کہ وہ قرآن ہاتھ میں اٹھا کر اپنے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگنے والی بلوچ عورت تو زندہ ہے تو یہ کنویں سے اٹھارہ سال کی مردہ لڑکی ہم نے کیسے برآمد کر لی۔ کیا اس بے نام کا نام بلوچستان کے معاشرتی نظام کو بدنام کرنے کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ جس سردار کو گرفتار کیا گیا ہے وہ تو پاکستان کا جھنڈا لپیٹ کر قوم کے محافظوں کے ساتھ دعوتیں اڑاتا تھا۔ یہ اٹھارہ سالہ ریپ شدہ مردہ لڑکی ہمارے مثالی خاندانی نظام کو بدنام کیوں کر رہی ہے

مارچ کا مہینہ ہے، عورت مارچ سر پر ہے۔ سینکڑوں عورتیں اور بچیاں مارچ کے لیے پوسٹر بنا رہی ہوں گی، پاکستان کے ہزاروں لاکھوں نوجوان اور بزرگ اس تیاری میں ہوں گے کہ ان بدزبان عورتوں کا منہ بند کیسے کرنا ہے

زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہم نے تین ہفتوں کے اندر تین طریقے دیکھ لیے ہیں۔ یا اٹھا لو، یا مار کر کنویں کی تہہ میں پھینک دو اور زیادہ رحم آئے تو کسی ڈوبتے جہاز میں بٹھا کر سمندر کی مچھلیوں کی خوراک بننے کے لیے چھوڑ دو۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

autistic womencarnivore womencomfort womenenglish storyghost storyhindi story newHistorylearn english through storylisten english storymoral storyone last cryone sportspersonal storyprison story robloxprison storysscary storystories of womenStorystory in englishstory urduthe little womenthe story of three women and an alien creaturethree womenUrdu StoryWomenwomen in stemwomen's historywomen's lifestyle
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارت کے ایک متنازع ہندو گرو کی کہانی، جس نے فرار ہو کر ’اپنا علیحدہ ملک‘ بنایا!

Next

کیا اسٹاک ہوم سنڈروم حقیقی ہے؟ تشخیص کی عجیب و غریب کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme