Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

دریاؤں کا عالمی دن: ستر سالہ صدیق بلوچ ملیر ندی کو بچانے کے مشن پر۔۔

By Akhtar Rasool
مارچ 15, 2023 4 Min Read
0

ایک ڈھابے پر ٹانگیں پسارے بیٹھا کاغذات سے بھری فائلوں کو چھان رہا تھا، جب ایک بیرا اس کے لیے چائے لے کر آتا ہے، محمد صدیق بلوچ کپ اٹھاتا ہے، گھونٹ لیتا ہے، اوپر دیکھتا ہے اور اچانک یاد آتا ہے کہ اس ہوٹل سے آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فارم ہاؤس ہے، جس نے محمد علی جناح کی ان کے آخری ایام میں میزبانی کی تھی

تب صدیق بلٹ اپنے آبائی علاقے ملیر کی تباہی سے قبل اس کی شان و شوکت کو دوبارہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں ”ملیر اتنا سرسبز و شاداب ہوا کرتا تھا کہ اپنی صحتیابی کے دوران قائد اعظم کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنا کام دوبارہ شروع کرنے سے پہلے یہاں کچھ وقت گزاریں“

14 مارچ کو دریاؤں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس سال کا موضوع ہے: ’دریاؤں کے حقوق‘ تاہم، ستر سالہ صدیق بلوچ ملیر کی زراعت کی شہہ رگ ملیر ندی کے تحفظ کے لیے ایک دہائی سے ایک کے بعد ایک کیس لڑ رہے ہیں

وہ بتاتے ہیں ”ملیر کے فارموں کی مختلف پیداوار کو لے جانے کے لیے پک اپ ٹرکوں کا ایک بیڑا ہوا کرتا تھا، لیکن 1970ع کی دہائی سے جب کراچی میں ریت کی کھدائی بہت زیادہ تعمیرات کے لیے شروع ہوئی، تو زراعت میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی“

بلوچ عرف ماما کا کہنا ہے کہ اب زرعی پیداوار کی باقیات کو سبزی منڈی (کراچی کی مرکزی سبزی اور فروٹ منڈی) تک پہنچانے کے لیے شاید ہی کچھ گاڑیاں ہیں

ماما صدیق، جو خود ایک کسان ہیں، ایک فعال درخواست گزار کے طور پر ملیر ندی اور اس سے ملحقہ زرعی زمینوں اور گوٹھوں کی ماحولیات کو بحال کرنے یا بچانے کے لیے مقدمات لڑ رہے ہیں، جس کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ کمرشلائزیشن اور زمینوں پر قبضوں نے انہیں نقصان پہنچایا ہے

2013 میں، انہوں نے ملیر ندی کے کناروں سے ریتی کی چوری اور ڈریجنگ کے خلاف ایک مقدمہ جیتا جو کہ ریت اور بجری کی کھدائی پر پابندی لگانے والے قانون کی واضح دفعات کے باوجود ندی کے کنارے پھیلی ہوئی تھی

سندھ (کسی بھی زمین سے ریتی اور بجری سمیت معدنیات نکالنے پر پابندی) بل، 2003 واضح طور پر ریتی کی غیر قانونی کان کنی سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ماحولیات کو نقصان پہنچے گا

مذکورہ قانون کا سیکشن 3 کہتا ہے: ’حکومت کی پیشگی پابندیوں کے علاوہ، کوئی بھی شخص کسی بھی زمین سے کھدائی یا دوسری صورت میں ریتی (ریت) اور بجری سمیت معدنیات نہیں اٹھا سکتا

بشرطیکہ اس علاقے کے ٹوپوگرافی، آثار قدیمہ، ایکولوجی اور ماحولیات پر منفی اثر پڑنے پر کوئی منظوری نہیں دی جائے گی

انہوں نے کہا ”2013 میں میرے کیس جیتنے کے بعد اس ایکٹ کے نفاذ کے باوجود ریت اور بجری کی کھدائی بند نہیں ہوئی“

ابھی حال ہی میں، ماما صدیق نے ایک مقدمہ جیتا، جو انہوں نے برساتی نالے میں گندے پانی کو پھینکنے کے خلاف دائر کیا تھا جو کہ ملیر ندی میں جاتا ہے۔ ”یہ ملیر ندی کی معاون ندی ہے، جو ناگوری کیٹل کالونی کی وجہ سے گٹر میں تبدیل ہو گئی ہے، جہاں ہزاروں بھینسوں کو پالنے والے متعدد ڈیری فارمز اپنا فضلہ اس میں ڈالتے ہیں“

انہوں نے کہا کہ ”انہوں نے ابتدائی طور پر سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) سے رابطہ کیا تھا تاکہ وہ اس معاون ندی میں آلودگی پھیلانے کے خلاف کارروائی کریں

یہاں تک کہ جب ایک اتھارٹی، جس کا مینڈیٹ ماحولیاتی انحطاط کو روکنا ہے، وہ چند طاقتور آدمیوں کو فضلہ پھینکنے سے نہیں روک سکتا، جان لیں کہ میں صرف ایک فرد ہوں اور میری سرگرمی ایک بہت ہی کمزور ہدف بناتی ہے۔“

سیپا SEPA ایکٹ کا سیکشن 21 (2) (a) ’فوری طور پر روکنے، کم کرنے یا خارج کرنے، ضائع کرنے، ہینڈلنگ، ایکٹ یا غلطی، یا منفی ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے یا اس کا تدارک کرنے‘ کی ہدایت کرتا ہے

صدیق بلوچ نے مزید کہا کہ ایک متعلقہ شہری اور ملیر کے رہائشی کی حیثیت سے انہوں نے قانونی راستے کا انتخاب کیا اور سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ 23 فروری کو ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ سیپا ایکٹ کی دفعہ 21 (2) (a) کو 45 دنوں کے اندر لاگو کیا جائے۔ مطلب مدعا علیہ ناگوری ڈیری سوسائٹی کی طرف سے غیر قانونی پریکٹس کو فوری طور پر روکنا

2021 میں، SEPA نے ایک حکم کے ذریعے دریائے ملیر میں گندے پانی کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت کی، لیکن اس کی خلاف ورزی پر ماما صدیق نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا

اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 23 فروری 2023 کو ایک حکمنامے کے تحت آئینی پٹیشن D-1226 کی مد میں سابقہ ​​SEPA آرڈر پر عمل درآمد کی ہدایت کی اور 45 دنوں میں رپورٹ طلب کی

تاہم صدیق بلوچ بتاتے ہیں ”وہ اب بھی ڈمپنگ کر رہے ہیں، اور حالات زیادہ بہتر نہیں ہوئے ہیں، اس لیے میں عدالت کی فراہم کردہ مدت کے پینتالیس دن ختم ہونے پر سیپا اور ڈیری فارمرز کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کروں گا“

ماما کا کہنا ہے ”اپنی عمر کے باعث یہ ساری دوڑ دھوپ کرنا میرے لیے آسان نہیں ہے، حالانکہ یہ ریاست کا کام ہے، اس چیز کو تو قانون کے ذریعے اور خود ریاست کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے“

وہ کہتے ہیں ”خوبصورت ملیر ندی کی ماحولیات کو بچانے کی جدوجہد مشکل ہے، لیکن میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ یہ میرے آبائی علاقے کو برباد کر رہے ہیں“

انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام غیر قانونی طریقوں کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے، وہ کریں گے۔ جنہوں نے ملیر کو، جو کبھی زراعت اور پانی کی فراہمی میں خود کفیل تھا، کراچی کے لیے آکسیجن ٹینک کو ایک سوکھی اور بنجر زمین میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے رہائشی اب اس کے لیے فکرمند ہیں کہ پینے کا صاف پانی کیسے حاصل کریں۔

نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں حنین امین کی اے آر وائی انگریزی میں شائع رپورٹ سے مدد لی گئی۔

Tags:

and malir rivers in karachias usual malir river closed after raincar drowning in malir rivercar drowning incident in malir riverIndus Riverkarachi malir riverMalirmalir nadiMalir Rivermalir river after rainmalir river bride karachimalir river bridgemalir river bridge openedmalir river floodmalir river karachimalir river overflowsmalir river rainmalir riversRiverriver malirwhy korangi malir river closed
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

گریٹر لندن کے سائز کے برابر برفانی تودے، جو سمندر میں تیر رہے ہیں۔۔

Next

عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی اطلاعات اور صدام حسین کے ربڑ بینڈ اور پیپر کلپ!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme