Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینیوں پر جیل میں کیا بیتی؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 1, 2023 4 Min Read
0

غزہ میں جمعے کی صبح شروع ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد کئی فلسطینی باشندے اسرائیلی قید سے رہا ہونے کے بعد اپنے گھروں کو پہنچے۔۔ ایک جانب جہاں حماس کی قید سے آزاد ہونے اسرائیلی دوران قید حماس کے اچھے سلوک کے بارے میں ذکر کر رہے ہیں، وہیں اسرائیل کی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینیوں نے خود پر بیتے اذیت ناک لمحوں کا ذکر کیا ہے

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت منگل کو حماس نے دس شہریوں اور دو تہائی باشندوں کو رہا کر دیا تھا، جنہیں اسرائیل کے حوالے کردیا گیا تھا، 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد گرفتار ہونے والے تقریباً 240 افراد میں سے رہائی پانے والوں کی کُل تعداد 86 ہو گئی ہے

اس کے فوراً بعد اسرائیل نے اپنی جیلوں سے تیس فلسطینیوں کو رہا کر دیا تھا، جس کے بعد رہا ہونے والے فلسطینیوں کی کُل تعداد 180 ہو گئی ہے

رہا ہونے والے فلسطینیوں کی فہرست میں پندرہ بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے بارہ کا تعلق یروشلم سے اور تین کا مقبوضہ مغربی کنارے سے ہے۔ ان میں پندرہ خواتین بھی شامل ہیں، جن میں سے پانچ کا تعلق یروشلم سے اور دس کا مغربی کنارے سے ہے

اسرائیل کی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینیوں نے بتایا کہ انہیں اسرائیل کی جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، طبی امداد سے محروم رکھا جاتا اور انہیں اپنے وکیل یا خاندان سے بھی ملنے سے بھی روکا جاتا تھا

اس کے علاوہ انہیں بجلی، پانی اور ضروری بنیادی اشیا سے بھی محروم رکھا جاتا

7 اکتوبر سے اسرائیلی حراست میں کم از کم چھ فلسطینی قیدی جاں بحق یا مارے جا چکے ہیں

رہائی پانے والے اٹھارہ سالہ محمد نزل فلسطینی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی گارڈ نے جیل میں اس کی انگلیاں اور بازو توڑ دیے، ایک سے زیادہ بار تشدد کا نشانہ بنایا اور علاج کرانے سے انکار کر دیا

اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت رہا ہونے والوں میں اٹھارہ سالہ محمد صلحاب تمیمی بھی شامل تھے جو آٹھ ماہ تک اسرائیل کی جیل میں بغیر کسی الزام یا کارروائی اسرائیل کی قید میں رہے

آٹھ ماہ بعد جب ان کی ملاقات اپنے والدین سے ہوئی تو ان کے چہرے پر سنجیدہ اور پریشان کن تاثرات تھے

اسرائیل کی قید سے رہا ہونے سے قبل اسرائیلی گارڈز نے محمد صلحاب کو آخری وارننگ دی تھی کہ اگر ان کے خاندان یا دوستوں نے کوئی جشن یا خوشی منائی تو انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا جائے گا

اٹھارہ سالہ رہا ہونے والے فلسطینی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیلی گارڈز نے خبردار کیا تھا کہ اپنے دوستوں کو بتادینا کہ اگر ہم نے کوئی بڑا جشن منایا تو میں واپس جیل چلا جاؤں گا‘

قریبی اسرائیلی چیک پوائنٹس اور بستی کی وجہ سے محمد کے خاندان کے افراد ان کی واپسی پر خوشی نہ منانے پر مجبور تھے، محمد کی واپسی کی خوشی میں انہوں نے گھر میں صرف قریبی رشتہ داروں کو مدعو کیا تھا

محمد صلحاب فلسطینی قیدیوں کے چوتھے گروپ کا حصہ تھے جنہیں منگل کی صبح رام اللہ کے قریب عفر جیل سے رہا کیا گیا تھا، رہا ہونے سے قبل آخری لمحے تک وہ اس بارے میں بے یقینی کا شکار تھے کہ ان کے ساتھ آخر کیا ہو رہا ہے

رہا ہونے سے قبل اسرائیلی فوجیوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اس حوالے سے محمد صلحاب بتایا کہ ’27 نومبر کی صبح 7 بجے ریمون جیل کے ایک گارڈ نے مجھے ہدایت کی کہ میں عفر جیل منتقلی کے لیے تیار رہوں، انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی، مجھے صرف یہ کہا گیا کہ میں سرمئی رنگ کے جیل کے کپڑے پہن لوں اور اپنا سارا سامان اکٹھا کر لوں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنے کپڑے ان پلاسٹک کے لفافوں میں رکھے اور جیل کے دروازے پر چلا گیا، جہاں انہوں نے میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگائیں اور میرے سر کو زبردستی نیچے کر دیا۔‘

محمد صلحاب کا کہنا تھا ’ایک افسر نے مجھے زور سے لات ماری، اس کے جوتے میں اسٹیل تھا، ایسا لگا جیسے اس نے میرے پاؤں کچل دیے ہوں، مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی۔‘

اٹھارہ سالہ فلسطینی لڑکے نے خوف زدہ ہوکر بتایا کہ ’وہ مجھے گھسیٹتے ہوئے جیل کے صحن میں لے گئے، لیکن جیسے ہی وہ مجھے جیل سے باہر نکال رہے تھے، انہوں نے میرے کپڑے کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیے، پھر مجھے فحش زبان سے برا بھلا کہتے ہوئے مجھے گھسیٹتے رہے۔‘

محمد صلحاب کو قیدیوں کو منتقل کرنے والی ایک گاڑی میں بٹھایا گیا جسے ’بوسٹا‘ کہا جاتا ہے (یہ ایک وین ہے جس میں سیاہ رنگ کے شیشے ہوتے ہیں اور یہ سیل دھاتی سے لیس تھیں، جس میں قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے)۔

محمد صلحاب نے بتایا کہ ’مجھے رات گئے تھے بغیر کسی کھانے اور پانی کے بغیر گاڑی کے سیل میں رکھا گیا۔‘

تاہم جب منگل کو وہ عفر جیل پہنچے تو محمد صلحاب کے والد اور چچا عفر جیل کے باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے تاکہ وہ محمد کو اپنے ساتھ واپس گھر لے جاسکیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے، تیئیس لاکھ افراد کو پانی، کھانے اور ایندھن کی فراہمی معطل، مواصلاتی نظام منقطع ہے جبکہ غزہ میں 50 فیصد گھر تباہ ہو گئے

اسرائیل اور حماس کے درمیان 21 نومبر کو ابتدائی طور پر چار روزہ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت اسرائیل میں قید ڈڑھ فلسطینیوں کے بدلے غزہ میں قید پچاس یرغمالیوں کی رہائی اور محصور علاقے میں انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دی گئی تھی۔

جمعے کو اسرائیل نے حماس سے عارضی جنگ بندی کے خاتمے پر غزہ پر دوبارہ وحشیانہ حملے شروع کر دیے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کی رفاح پر بمباری سے 6 جب کہ شمالی علاقوں میں 14 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

Tags:

first palestinian prisoner releasedhostage releasehostage release israelIsraelisrael hamasisrael hamas ceasefireisrael hostage releaseisrael prison swapisrael releases hostagesisrael warisraeli prisonpalestine israelPalestinianpalestinian detainees releasedpalestinian prisonerpalestinian prisoner israelpalestinian prisoner releasedpalestinian prisoners in israelpalestinian prisoners releasedpalestinians released
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

قبل از وقت دل کے دورے کی بہتر تشخیص کے لیے نیا بلڈ ٹیسٹ تیار

Next

کیا پاکستان، آسٹریلیا میں لگاتار پانچ وائٹ واش کا داغ واش کر پائے گا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme