Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Bla-bla-dalala-dalala-situation-is-ours-to-go-
کالماہم ترینتازہ ترین

بلا بلا ڈالا ڈالا حال ہمارا جانے ہے

By Akhtar Rasool
جنوری 15, 2024 5 Min Read
0

اگر پولٹیکل ہرڈل ریس (رکاوٹوں والی دوڑ) کی عالمی چیمپیئن شپ ہر چار برس بعد منعقد ہو تو اس میں پاکستان کا وہی مقام ہوگا، جو فٹ بال میں ارجنٹینا، کرکٹ میں آسٹریلیا، ہاکی میں جرمنی اور رگبی میں جنوبی افریقہ کا ہے۔

اس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو سب سے پہلے خود کو منتظم کے دفتر میں رجسٹر کروانا پڑتا ہے۔ انھیں قواعد و ضوابط کا ایک کتابچہ تھمایا جاتا ہے۔ اس کتابچے میں حلف نامے کا فارم بھی ہوتا ہے۔

’میں نے ٹورنامنٹ ہٰذا کے تمام قواعد و ضوابط شق وار دھیان سے پڑھ لیے ہیں۔ ان قواعد و ضوابط میں منتظمین جب چاہیں ترمیم و اضافہ کا مکمل حق رکھتے ہیں۔ میں ان قواعد و ضوابط پر خلوصِ نیت کے ساتھ عمل پیرا رہوں گا۔ مقابلہ جیتنے کے لیے کسی مسکن یا طاقت بخش ممنوعہ دوا کا استعمال نہیں کروں گا۔‘

’نامزد امپائر، پینل آف ایمپائرز، جج یا پینل آف ججز کے ہر فیصلے کو مکمل طور پر تسلیم کروں گا اور اس بابت براہِ راست و بلاواسطہ کوئی ایسا تبصرہ، اشارہ، تحریر و بیان دینے یا جاری کرنے سے گریز کروں گا کہ جس سے ٹورنامنٹ یا اس کے منتظمین کی بابت کوئی منفی تاثر جنم لے۔ خدا میرا حامی و ناصر ہو۔‘

اس ہرڈل ریس کے کوالیفائنگ راؤنڈز کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں منعقد ہوتے ہیں اور پوائٹس پر کامیاب ہونے والے کھلاڑی بالآخر اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس کے آخری اور فیصلہ کن راؤنڈ میں حصہ لینے کے اہل قرار پاتے ہیں۔

ہر بار رکاوٹیں بدل دی جاتی ہیں یا آگے پیچھے کر دی جاتی ہیں تاکہ کھلاڑی گذشتہ رکاوٹوں کو عبور کرنے کی مشق کر کے آنے کے بجائے نئے چیلنجز کا سامنا کریں۔ یوں میرٹ پر سب کھلاڑیوں کو جیتنے کے یکساں مواقع مل سکیں۔

مثلاً گذشتہ دوڑ بلکہ ’ادواڑ‘ میں گریجویشن کی شرط، نیب، باسٹھ تریسٹھ کے تحت صداقت و امانت کی سند، پارٹی لیڈر اور پارلیمانی لیڈر میں فرق، بلیک لا ڈکشنری سے اخذ کردہ ایمان داری کے مطالب، نوے دن میں انتخابات کی آئینی شرط کو ایک سو نوے دن کی چیونگم میں تبدیل کرنے جیسی رکاوٹیں شامل ہوتی رہیں۔

اس بار کی ہرڈل ریس کو مزید دلچسپ و چیلنجنگ بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات کو قومی انتخابات میں حصہ لینے سے نتھی کر دیا گیا۔

اس شق پر مکمل عمل درآمد کا اختیار اس الیکشن کمیشن کے پاس ہے جو اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد نوے دن کے اندر اندر انتخابی عمل مکمل کروانے کی لازمی شرط ایک برس میں تین بار اولانگھنے کے باوجود سرخرو چل رہا ہے۔

محمد بوٹا پردیسی اور اس کی تائی سمیت پچیس کروڑ پاکستانی جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں انتخابی عمل کا معیار کیا ہے۔ سوائے جماعتِ اسلامی کے کوئی جماعت ایسی نہیں، جہاں ایک مقررہ مدت مکمل ہوتے ہی پارٹی انتخابات ہوتے ہوں۔

باقی جماعتوں میں قیادت ایسے ہی چنی جاتی ہے، جیسے شمالی کوریا میں ورکرز پارٹی کی قیادت کا چناؤ ہوتا ہے یا مصر اور شام میں صدارتی انتخابات یا میانمار میں حکمراں جماعت کے اندرونی انتخابات ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود کل سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ الیکشن کمیشن نے کسی بھی جماعت کو اس بنیاد پر عام انتخابات میں حصہ لینے سے روکا ہو کہ اس کا مالیاتی یا اندورنی انتخابی نظام گڑ بڑ ہے۔ عام طور پر رسمی تادیبی کارروائی کا عمل مکمل کرنے کے بعد انتخابی نشان الاٹ کیا جاتا رہا ہے۔

مثلاً عوامی نیشنل پارٹی کو پابند کیا گیا کہ وہ مئی تک اپنے اندرونی انتخابات کا مرحلہ مکمل کر لے اور اب تک پارٹی انتخابات نہ کروانے کی پاداش میں کمیشن نے اس پر بیس ہزار روپیہ جرمانہ عائد کر کے لالٹین بطور انتخابی نشان الاٹ کر دی۔

سپریم کورٹ نے قانونی و تکنیکی شواہد کی روشنی میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ الٹ کر الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کا بلا چھیننے کے فیصلے کی توثیق بالکل درست کی۔۔ مگر اسی سپریم کورٹ نے کچھ روز پہلے تک اپنے ہی سابقہ و حالیہ برادر ججوں کے گذشتہ فیصلوں پر خود ہی سوالیہ نشان بھی ڈالا اور انھیں بدلا بھی۔

اسی سپریم کورٹ میں انھی ہائی کورٹس کے جج ترقی پا کے مسند سنبھالتے ہیں کہ جن کے فیصلے سپریم کورٹ معطل کر دیتا ہے۔

گویا کسی بھی آئینی فیصلے کا دار و مدار قانون کی روح یا ٹیڑھ یا سیاق و سباق جانچنے سے زیادہ اس قانون کی خاص زاویے سے تشریح پر ہے۔ فیصلہ متفقہ ہونا ضروری نہیں کثرتِ رائے سے ہونا ضروری ہے۔

لیکن کوئی بھی فیصلہ جو رائج قانون کی کسوٹی پر پورا اترے، کیا ہر بار انصاف کی کسوٹی پر بھی پورا اترتا ہے؟ یہ وہ بحث ہے جو قانون داں برداری میں عشروں سے جاری ہے۔

یہ بھی تو ممکن ہے کہ فیصلہ ہر اعتبار سے درست ہو مگر اس کے لیے وقت کا چناؤ درست نہ ہو۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ فیصلہ درست ہو مگر عوام کے ایک بڑے طبقے کی نگاہ میں وہ اپنی ٹائمنگ کے اعتبار سے مشکوک ٹھہرے۔ یوں درست فیصلے کے باوجود عدلیہ پر عوامی اعتماد مستحکم ہونے کے بجائے مزید کمزور ہو۔

ہم چاہیں تو جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اسے لیول پلیئنگ فیلڈ کہہ سکتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ صرف پی ٹی آئی کو ہی نہیں تیرہ دیگر رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو بھی ناقص پارٹی انتخابات کروانے یا بالکل نہ کروانے کی سزا کے طور پر انتخابی نشان الاٹ نہیں ہوا۔

ان میں کیسی کیسی پاپولر، ملک گیر مضبوط جماعتیں شامل ہیں۔ مثلاً آل پاکستان مائنارٹی الائنز، آل پاکستان تحریک، عوامی پارٹی پاکستان، بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی، سب کا پاکستان پارٹی، پاکستان امن کونسل، نیشنل مسلم لیگ، پاکستان امن پارٹی، مساوات پارٹی، کرسچن عوامی پارٹی، نیشنل یونٹی پارٹی، سنی تحریک اور نظامِ مصطفی پارٹی۔۔!

حالانکہ ان تیرہ پارٹیوں نے نہ صرف نو مئی کے افسوس ناک واقعات کی لگاتار بھرپور مذمت کی بلکہ ان واقعات میں ملوث ملزموں کو مثالی سزائیں دینے کا بھی بڑھ چڑھ کے مطالبہ کیا۔۔

مگر الیکشن کمیشن نے محض میرٹ کو معیار بنایا اور صرف یہ دیکھا کہ آیا ان جماعتوں نے اندرونی انتخابات جمہوری انداز میں کروائے یا نہیں۔ بالکل ایسے، جیسے مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی، جمعیت علماِ اسلام، ایم کیو ایم اور باپ پارٹی وغیرہ وغیرہ نے کروائے ہیں۔

سوائے پی ٹی آئی کے تمام جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر اظہارِ اطمینان کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آٹھ فروری کے انتخابات گذشتہ تمام انتخابات سے کہیں زیادہ شفاف اور مثالی ثابت ہوں گے۔

بلا بلا، ڈالا ڈالا حال ہمارا جانے ہے،
جانے نہ جانے تیر نہ جانے شیر تو سارا جانے ہے۔۔

بشکریہ بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

anwaar ul haq kakaranwar ul haq kakaranwar ul haq kakar interviewanwar ul haq kakar latestbaat se baat | wusatullah khan fansbaat se baat wusatullah khancaretaker pm anwar ul haq kakarlatest column of wusatullah khanpm anwar ul haq kakarsaeed ghaniwasatullah khanwasatullah khan |talk |ayaz melo 2018wusatullahwusatullah khanwusatullah khan baat se baatwusatullah khan baat se baat latestwusatullah khan fans
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
New-solar-paint-technology-replaces-solar-panels-with-billions-of-light-sensitive-particles-mixed-in-
Previous

سولر پینلز کی جگہ سولر پینٹ کی نئی ٹیکنالوجی، جس میں اربوں روشنی کے حساس ذرات مکس ہوتے ہیں

Injured-child-Western-media-and-two-sources
Next

زخمی بچہ، مغربی میڈیا اور دو ذرائع

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme