Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

PTI-Imran-Khan-Protest-and-Pakistan-Government
کالماہم ترینتازہ ترین

بدترین رات

By Akhtar Rasool
دسمبر 5, 2024 5 Min Read
0

جرمن ناول نگار فرانز کافکا کے بقول، ’یہ صرف ان کی حماقت سے ہوا کہ وہ خود پر اتنا زیادہ اعتماد کرتے ہیں‘۔

آدھی رات گزر چکی تھی کہ جب وزیر داخلہ نے ڈی چوک پر کھڑے ہوکر فخریہ انداز میں اعلان کیا کہ بغیر گولیاں چلائے دارالحکومت کو مظاہرین سے خالی کروا لیا گیا ہے۔

ان کے عقب میں وہ کنٹینر بھی دیکھا جا سکتا تھا، جس میں کچھ لمحات قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت سوار تھی، شعلوں کی لپیٹ میں تھا جبکہ گاڑیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو کہ مظاہرین بھاگتے ہوئے یہیں چھوڑ گئے تھے۔ 26 نومبر کی رات کو رونما ہونے والے واقعات وزیر داخلہ کے دعووں کے برعکس انتہائی مختلف کہانیاں سناتے ہیں۔

یہ بلاشبہ خون سے رنگی سب سے بدترین رات تھی، جس کی دارالحکومت کے ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ جب سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کی بڑی تعداد کو مبینہ طور پر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ کم از کم 12 افراد اس واقعے میں جان سے گئے۔ لیکن متزلزل حکومت کی اس ’جیت‘ کے لیے انہیں بھاری قیمت چکانا پڑی۔ طاقت کا استعمال کرکے شاید وہ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہوں لیکن اس خونریز واقعے نے ملک کو مزید غیرمستحکم کیا ہے اور افراتفری کی صورت حال میں دھکیل دیا ہے۔

اس واقعے نے پی ٹی آئی کی خرابیوں کو بھی آشکار کیا، جوکہ اب مکمل انتشار کی حالت میں نظر آتی ہے۔ عوام کی وسیع تر حمایت کے باوجود پارٹی اندرونی طور پر تقسیم اور انتشار کا شکار ہے۔ لانگ مارچ کا پُرتشدد اختتام اور بڑی تعداد میں کارکنان کی گرفتاری سے بھی پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ تاہم دونوں فریقین کو ہی نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ حکومت اس اقدام سے عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔

انتظامیہ کی تردید کے باوجود چند مصدقہ رپورٹس میں جاں بحق افراد کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی کریک ڈاؤن میں ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے بھی جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ورچوئل سنسرشپ کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے اس سے متعلق خبروں کا مکمل بلیک آؤٹ ہے۔ پابندیوں نے میڈیا کو مجبور کیا کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے صرف حکومتی بیانیے کا پروپیگنڈا کرے۔ ان تمام عوامل نے آمرانہ دور میں ہونے والی بندشوں کی یاد تازہ کردی ہے۔

سینئر صحافی اور وی لاگر مطیع اللہ جان جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق تحقیقات کر رہے تھے، انہیں منشیات رکھنے کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔ ان کی گرفتاری نے ظاہر کیا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ 26 نومبر کے واقعے کی رپورٹنگ ہو۔ بعدازاں انہیں ضمانت مل گئی لیکن ان کی گرفتاری نے ان افراد کے لیے تنبیہ کا کام کیا جو اس معاملے کو کریدنا چاہتے تھے۔

سوشل میڈیا کے دور میں آوازوں کو دبانا آسان نہیں، حالانکہ حکومت ڈیجیٹل مواد پر پابندیاں لگانے کے لیے فائروال بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب سائبرکرائم قانون کو دوبارہ نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت سوشل میڈیا کے گرد حکومت کا شکنجہ تنگ ہوگا۔ لیکن حقائق چھپانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

26 نومبر کے اقدامات کو چھپانے کی کوششوں میں حکومت نے الیکٹرونک میڈیا پر ایک پروپیگنڈا مہم کا آغاز کردیا ہے، جس میں پی ٹی آئی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا رہا ہے جس نے افغان تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کی مدد سے داراحکومت پر حملہ کیا۔ اس طرح کی مذموم مہمات سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔

اس پورے منظرنامے میں پی ٹی آئی کی محاذ آرائی کی سیاست اور دارالحکومت کے ریڈ زون میں دھاوا بولنے کے منصوبے کو درست قرار دیا جا سکتا ہے، نہ ہی اپوزیشن پارٹی کو دارالحکومت میں ریلی نکالنے کی اجازت دینے سے حکومتی انکار کو سراہا جا سکتا ہے، جس کے لیے انہوں نے موٹروے اور ہائی ویز کو بند کیا تاکہ مظاہرین آگے نہ بڑھ سکیں۔ اس فیصلے نے پی ٹی آئی کو خلاف ورزی کرنے پر اکسایا۔ جمہوری حقوق پر پابندیاں لگانے سے صرف انتہا پسندی جنم لیتی ہے، جس کے نتائج پُرتشدد جھڑپوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

مبینہ طور پر نہتے مظاہرین کی اموات کے لیے حکومت کا کوئی بھی جواز قابلِ قبول نہیں۔ اس سے توازن مزید بگڑ گیا ہے۔ مظاہرے ختم ہو چکے ہیں لیکن 26 نومبر کی رات رونما ہونے والے واقعات کے طویل مدتی اثرات ہوں گے جو ملکی سیاسی منظرنامے میں ظاہر ہوں گے۔ اس سے بھی تشویش ناک یہ ہے کہ چند وفاقی وزرا کی جانب سے دیے گئے بیانات میں مظاہروں کو نسلی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ شاید کسی حد تک درست بھی ہو کیونکہ مظاہرین کی بڑی تعداد کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا لیکن پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی افراد نے مظاہرے میں شرکت کی تھی۔ مظاہرے کو تعصب کا رنگ دینا انتہائی سنگین غلطی ہے۔

حکومت کے حالیہ اقدامات کا دفاع کرنے والے یہ قبول کرنے سے قاصر ہیں کہ فروری میں مینڈیٹ کی چوری اور ان کے غیرجمہوری اقدامات جیسے آئین کی پامالی اور سینئر اپوزیشن رہنماؤں کو قید میں رکھنے نے عوام میں حکومت کے لیے عدم اعتماد کو ہوا دی ہے۔ خیبرپختونخوا کے لیے سینیٹ انتخابات ابھی تک نہیں ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ صوبہ جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، ایوانِ بالا میں نمائندگی سے محروم ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اکثریتی فیصلہ دیے جانے کے باوجود قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔

حکومت کی ہٹ دھرمی اور جمہوری ماحول تنگ کرنے کی وجہ سے سیاسی ماحول پُرتشدد ہوتا ہے جوکہ ملکی سیاسی نظام کے لیے سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔ ہم نے ماضی میں دارالحکومت میں مظاہرے ہوتے دیکھے ہیں لیکن ریاست نے کبھی ان کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تصادم کی سنگین صورت حال نے مذاکرات کے وہ تمام راستے بند کردیے ہیں جو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور تناؤ پیدا کرنے والے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے تھے۔

سب سے خطرناک یہ بات ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور پی ٹی آئی پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔ یہ دونوں اقدامات ہی اپنے طور پر ملکی اتحاد اور سیاسی استحکام کے لیے تباہ کُن ثابت ہو سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس طرح کے اقدامات کی تجویز دینے سے بھی تنازع بڑھ سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے مظاہرے کی ’ناکامی‘ پر خوش ہونے کے بجائے حکومت کو سیاسی گرما گرمی کم کرنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔

حکومت کی جانب سے تشدد کے راستے اختیار کرنے سے صورت حال مزید خراب ہوگی۔ وقت ہے کہ پی ٹی آئی تصادم کی اپنی پالیسیز پر نظرثانی کرے اور مذاکرات کی میز پر آئے۔ تشدد کی سیاست سے محض غیرجمہوری قوتیں مضبوط ہوں گی۔ موجودہ حالات کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ ڈان
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

d chowkd chowk protestImran Khanimran khan anchorimran khan arrestimran khan arrestedimran khan casesimran khan latestimran khan latest newsimran khan liveimran khan newsimran khan only hopeimran khan ptiimran khan releaseimran khan todayimran khan today newsImran Riazimran riaz khanimran riaz khan latestimran riaz khan newsimran riaz khan todayislamabad d chowkPM Imran Khanprime minister imran khanpti d chowk protest
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Pakistan-Islamabad-and-Imran-Khan-PTI
Previous

جو مارے گئے مگر گِنے نہیں گئے۔۔ پاکستان کے تازہ سیاسی تصادم کے پوشیدہ متاثرین کے بارے میں الجزیرہ کی رپورٹ

Human-Rights-Activist-Mahrang-Baloch-Manzoor-Pashteen-and-Pakistan
Next

عوام کا خوف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme