Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

satirical-column-by-Hussnain-Jamal
کالماہم ترینتازہ ترین

سر سلامت، جوتے بہت۔۔

By Akhtar Rasool
جنوری 28, 2025 4 Min Read
0

پچیس چھبیس سال کے وہ ٹرکش نوجوان صاحب فرش پہ بیٹھے اپنے جوتے پالش کر رہے تھے اور میں ایک دم خوشگوار حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا۔

میں نے پوچھا کہ یار آپ اچھے خاصے ترقی یافتہ ملک کے تقریباً جین زی بچے ہیں، نوجوانوں والی ہی آپ کی ڈریسنگ ہے لیکن صبح صبح جوتے پالش کرنے کی یہ کیا سنک آئی آپ کو؟ اور پالش، برش یہ کہاں سے ملے؟ سامان میں ساتھ لائے تھے کیا؟

کہنے لگے کہ اس معاملے میں ابا بہت سخت تھے، یہ عادت بچپن سے انہوں نے ڈالی تھی، تو اب بس کہیں بھی نکلنے سے پہلے یہ کام لازمی دماغ پہ سوار ہوتا ہے، اور کچھ نہیں تو کپڑا ضرور مارتا ہوں۔

جس فلیٹ پر میں ہوں، وہیں یہ نوجوان بھی تین چار دن کے لیے مقیم تھے، آئے، چلے گئے، لیکن دماغ پر ایسا نقش چھوڑ گئے کہ اب لاکھ یاد کرتا ہوں، چہرہ یاد نہیں آتا، چمکتے براؤن جوتے یاد ہیں۔

قصہ یہ ہوا کہ اسکول کالج کے زمانے میں مجھے لگتا تھا جیسے میلے جوتے فیشن ہیں، مجال ہے کبھی جو ہلکا سا کپڑا بھی مارا ہو۔۔ لیکن ابا، وہ غریب بہت ناراض ہوتے تھے، ان کے ساتھ کہیں جانا ہوتا تو وہ خاص طور پہ نظر رکھتے کہ اس نے جوتے صاف کیے ہیں یا نہیں؟ پھر نوکری شروع ہوئی تو خود بخود عقل آتی گئی، جوتے بھی صاف رہنے لگے، لیکن اب ۔۔۔ شارٹ موزوں اور بغیر جراب جوتوں کے اس دور میں پالش کرتے وہ بھائی صاحب مجھے صحیح طریقے سے ہلا گئے تھے۔

اپنی بیٹی کو میں دیکھتا ہوں، اس کی پتلون کے پائنچے جوتوں کے نیچے آ رہے ہوتے ہیں۔ جوگرز ہوں تو وہ عین ویسے ہوتے ہیں، جیسے میرے ہوتے تھے، لیکن اسے میں کچھ نہیں کہتا، ہنستا ضرور ہوں۔ ہنستا اس لیے ہوں کہ وہ کوفت یاد آتی ہے جو ابا بے چارے کو مجھے دیکھ کر ہوا کرتی تھی، اور کچھ بھی اس لیے نہیں کہتا کہ تھوڑی اور بڑی ہو گئی تو یہ مزے بھی ختم ہو جائیں گے۔

صاف جوتا نارمل دنیا میں ایک مجبوری ہے۔ نوکری، شادی، دعوت، میٹنگ، عید، فنکشن، تیمار داری، کاروبار، میل ملاقات، جدھر بھی دوسرے لوگوں سے آپ ملنے جائیں گے، پہلی چیز، اس میں کم بخت جوتا ہے جو اپنا آپ دکھائے گا اور اسے آپ کو خواہ مخواہ صاف رکھنا ہی پڑے گا۔

پالش والے چمکتے کالے اور براؤن جوتے آج کل فلموں یا انسٹاگرام پہ ہی نظر آتے ہیں ورنہ اب کے نوجوانوں اور میری عمر کے لوگوں میں سب سے بڑا فرق اگر آپ سوچیں تو جوتوں کے رنگ کا ہے۔

ہمارے زمانے میں سفید جوتے مائیکل جیکسن، جیتیندر، گووندا یا متھن چکرورتی کے علاوہ کھیپیے (جہازوں پہ چھوٹا موٹا سامان ادھر اُدھر لے جانے والے معصوم اسمگلر) پہنا کرتے تھے، پھر نوجوانی کے ٹائم نائیکی کے مائیکل جارڈن پاکستان میں نظر آنا شروع ہوئے لیکن تب جیب اجازت نہیں دیتی تھی اور ویسے بھی اتنا بڑا سفید جوتا کدھر سمجھ میں آتا؟ اپنا آپ بینڈ ماسٹر لگتا تھا، پر اب۔۔۔

اب سفید جوتے نئی نسل کا پہلا نشان ہیں۔ اب کوئی بینڈ ماسٹر نہیں لگتا، اب مائیکل جیکسن بھی یاد نہیں آتا، کھیپیے اب کالے جوتے پہننا شروع ہو گئے ہیں، کینوس شوز کی شکل میں سب کچھ بدل چکا ہے لیکن ایک روایت وہیں کھڑی ہے۔

جو مرضی کر لیں، جوتا صاف ہونا اب بھی ضروری ہے۔ سفید ہو، آتشیں گلابی یا پیلا ہی کیوں نہ ہو، جوتا صاف نہیں ہوگا تو اپنے ہم عمروں میں تو بچے شاید گھل مل جائیں گے لیکن جہاں ذرا سا بھی پروفیشنل دنیا کا تعلق ہوگا، بھلے بالکل ہلکا سا ہو، ترچھی نظریں اب بھی جوتوں پہ جائیں گی ہی جائیں گی۔

تو وہ جو فلیٹ پہ ترک نوجوان کو دیکھ کے حیرت ہوئی تھی مجھے، اس کی وجہ اصل میں یہ تھی کہ ہر ماہ، کم از کم ایک چھٹی کا دن ایسا ضرور ہوتا ہے جب میں اپنے جوتوں میں گھرا بیٹھا ہوتا ہوں اور چاہے وہ جتنے بھی پرانے ہوں، میلے ہوں، انہیں تمیز سے صاف کر کے، باقاعدہ شاپر چڑھا کے مقررہ جگہ پہ ضرور رکھتا ہوں۔

دس بارہ سال سے یہ اپنی روٹین ہے، پہلے جب میں ایسا کرتا تھا تو صرف ابو کا خیال آتا تھا اور میں سوچتا کہ یار اگر یہی کام تیس سال پہلے شروع کر دیتا تو کیا جاتا، اب مجھے لیکن وہ بھائی صاحب بھی یاد آتے ہیں اور میں ہمیشہ ہنس دیتا ہوں کہ اس دنیا میں اکیلا میں ہی خبطی نہیں ہوں، کم از کم ایک نمونہ دوسرا ایسا موجود ہے جو فوجی بھی نہیں لیکن چمکتے جوتوں کا شوق بھی رکھتا ہے۔

ایک چیز رہی جاتی ہے، میں اب بھی کسی نوجوان کو ہرگز نہیں کہوں گا کہ جوتے روز پالش کریں، انہیں ضرور صاف رکھیں، مٹی میں اٹے جوتے اچھا تاثر نہیں چھوڑتے ۔۔۔ نہ ۔۔۔ یہ میرا کام نہیں ہے، مجھے تب سمجھ نہیں آئی تو انہیں اب کیسے آ سکتی ہے؟

سمجھ کا معاملہ بڑا نازک ہے، اسے اپنے وقت پہ آنا ہوتا ہے۔ جب تک وقت نہیں آتا، تب تک لاکھ جتن کر لے بندہ، کوئی فرق نہیں پڑتا۔

باقی خیر ہے، امی ایک ہندکو محاورہ بولا کرتی تھیں، ’سر سلامت، جوتے بہت‘ اسے جن مرضی معنوں میں سمجھ لیجے۔ اجازت دیں!

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

appearance mattersbrushing shoescasual dressingchanging trendschildhood disciplinechildhood habitschildhood memoriesclean appearanceclean footwearclean lookclean shoe cultureclean shoes importanceclean shoes significanceCultural differencescultural groomingcultural insightscultural practicescultural reflectionsdaily routinesfamily grooming habitsfamily traditionsfashion evolutionfather-son relationshipfatherly advicefatherly lessonsfootwear fashionfootwear groomingfootwear maintenanceGen Z habitsgeneration gapgenerational habitshumorous reflectionsjob interviewsLife Lessonslife routinesmeeting etiquettemodern youthnostalgic anecdotesnostalgic humornostalgic humor in lifenostalgic memoriesnostalgic parentingnostalgic reflectionnostalgic storiesnostalgic storytellingnostalgic writingoffice attireold traditionsparenting influenceparenting lessonsparenting memoriesparenting strugglespersonal anecdotespersonal disciplinepersonal groomingpersonal growthpersonal habitspolished black shoespolished brown shoespolished footwearpolished shoe habitspolished shoesprofessional appearanceprofessional attire habitsprofessional dressingprofessional ethicsprofessional groomingprofessional presentationprofessional worldreflective habitsreflective writingself-disciplineshiny footwearshiny shoesshoe careshoe care productsshoe cleaning routineshoe colorsshoe fashionshoe habitsshoe polishingsneaker trendssocietal normsTurkish anecdotesTurkish cultureTurkish family valuesTurkish lifestyleTurkish parentingTurkish traditionsTurkish youthTurkish youth habitswhite shoes trendwhite sneakersyouth fashion trendsyouth reflections
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Another-nail-house-in-China-An-elderly-citizen-refuses-to-sell-his-house-a-motorway-is-built-around-the-house
Previous

چین میں ایک اور ’نَیل ہاؤس‘ : معمر شہری کی مکان فروخت نہ کرنے کی ضد، موٹر وے گھر کے اردگرد تعمیر

Millier-Expressway-has-been-inaugurated-but-dangers-remain
Next

’ملیر ایکسپریس وے کا افتتاح ہو چکا لیکن خطرات برقرار ہیں‘

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme