Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-medicine-we-were-looking-for-was-already-within-us
تعلیم و صحتاہم ترینتازہ ترینخبریں

ہم جس دوا کی تلاش میں تھے، وہ پہلے سے ہی ہمارے اندر موجود تھی!

By Akhtar Rasool
مارچ 8, 2025 4 Min Read
0

یہ کہانی ایک خزانے کی تلاش کی ہے، ایسے خزانے کی جسے سائنسدان صدیوں سے کھوج رہے تھے، اور جب ملا، تو معلوم ہوا کہ وہ سونے کی کان ہمارے جسم کے اندر ہی موجود تھی۔

یہ کوئی روایتی دریافت نہیں، بلکہ ہمارے مدافعتی نظام کے بارے میں ایک بالکل نئی بصیرت ہے، ایسی بصیرت جو جدید بیکٹیریل انفیکشنز کے خلاف جنگ میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

پروٹیزم: مدافعتی نظام کا خفیہ محافظ

تحقیق کے اس حیران کن سفر میں مرکزی کردار ’پروٹیزم‘ نامی ایک ننھا سا ڈھانچہ ہے، جو ہمارے جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔ برسوں تک اسے محض ایک ’ری سائیکلنگ سسٹم‘ سمجھا جاتا رہا، ایک ایسا نظام جو پرانے پروٹینز کو توڑ کر نئے پروٹین بنانے میں مدد دیتا ہے۔۔ مگر اب معلوم ہوا ہے کہ یہ اس سے کہیں زیادہ طاقتور اور غیرمعمولی کردار ادا کر رہا ہے۔

اسرائیل کے ویزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں محققین نے دریافت کیا ہے کہ پروٹیزم درحقیقت ایک خفیہ ہتھیار بھی رکھتا ہے، ایک ایسا نظام جو بیکٹیریا پر حملہ کرنے والے کیمیکلز خارج کر سکتا ہے۔ یہ انسانی جسم میں موجود قدرتی اینٹی بایوٹکس کا ایک ذخیرہ ہے، جو نہ صرف انفیکشن سے بچانے میں مدد دیتا ہے بلکہ ممکنہ طور پر ایسی نئی دوائیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے جو اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا (سپر بگز) کے خاتمے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

جب خلیہ جنگی موڈ میں آ جائے

یہ دریافت کسی معمولی سائنسی تجربے کا نتیجہ نہیں، بلکہ نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک وسیع تحقیق کی پیداوار ہے۔

محققین نے تجربات کے ذریعے ثابت کیا کہ جب کوئی خلیہ بیکٹیریا سے متاثر ہوتا ہے، تو پروٹیزم اپنے عام کام سے ہٹ کر ’جنگی موڈ‘ میں آ جاتا ہے۔ وہ اپنے اندر محفوظ پرانے پروٹینز کو ایسے مہلک ہتھیاروں میں بدل دیتا ہے، جو بیکٹیریا کی بیرونی تہہ چیر کر رکھ دیتے ہیں۔

یہ عمل کسی سائنسی تخیل کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے اپنے جسم کا ایک ناقابلِ یقین حقیقت پر مبنی دفاعی نظام ہے، جسے ہم اب تک نظرانداز کرتے آئے تھے۔

ویزمین انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر عفت مربل کہتی ہیں، ”یہ واقعی ایک بڑی دریافت ہے کیونکہ ہم نے پہلے کبھی نہیں جانا تھا کہ ہمارے خلیے ایسا بھی کر سکتے ہیں۔“

ان کے مطابق، ”یہ نظام ہمارے پورے جسم میں موجود ہے، اور یہ قدرتی اینٹی بایوٹکس کی ایک نئی کلاس تشکیل دیتا ہے۔“

یہ تحقیق صرف تھیوری تک محدود نہیں رہی۔ تجربات میں محققین نے لیبارٹری میں اگائے گئے بیکٹیریا، نمونیا کے شکار مریضوں، اور سیپسس جیسی سنگین بیماری میں مبتلا چوہوں پر ان قدرتی اینٹی بایوٹکس کو آزمایا۔

جب انہوں نے پروٹیزم کو ناکارہ بنایا، تو خلیے حیرت انگیز طور پر بیکٹیریا کے رحم و کرم پر آ گئے، حتیٰ کہ وہ سالمونیلا جیسے عام بیکٹیریا سے بھی نہیں بچ سکے۔

لندن کے امپیریل کالج میں حیاتیاتی سائنسز کے سربراہ، پروفیسر ڈینیئل ڈیوس اس دریافت پر بے حد حیران ہیں، ”یہ تحقیق ایک بالکل نیا دروازہ کھول رہی ہے کہ ہمارا جسم انفیکشن کے خلاف کیسے لڑتا ہے۔“

ان کے مطابق، ”یہ ممکنہ طور پر ایک مکمل طور پر غیر دریافت شدہ عمل ہے، جس کے ذریعے ہمارے خلیے اندر ہی اندر اینٹی بایوٹک جیسے جراثیم کش مالیکیول بنا رہے ہیں۔ یہ ایک نہایت اہم اور حیران کن دریافت ہے!“

کنگز کالج لندن کی مائیکرو بایولوجی کی ماہر، ڈاکٹر لنڈسے ایڈورڈز کہتی ہیں، ”یہ تحقیق اینٹی بایوٹکس کی ایک ممکنہ سونے کی کان کی دریافت کے مترادف ہے۔“

ان کے مطابق، ”سائنسدانوں نے نئی اینٹی بایوٹکس تلاش کرنے کے لیے عشروں سے کوششیں کیں، مگر یہ ایک حیران کن انکشاف ہے کہ وہ خزانہ خود ہمارے جسم کے اندر موجود تھا۔“

مستقبل کا سفر: کیا ہم اسے دوائی میں بدل سکتے ہیں؟

یہ سب کچھ جتنا حیران کن ہے، اتنا ہی محتاط انداز میں مزید تحقیق کا متقاضی بھی ہے۔

پروفیسر ڈینیئل ڈیوس خبردار کرتے ہیں کہ، ”اس دریافت کو اینٹی بایوٹکس کے ایک نئے ذریعے میں بدلنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، اور یہ وقت طلب مرحلہ ہوگا۔“

مگر اچھی خبر یہ ہے کہ یہ کوئی اجنبی کیمیکل نہیں، بلکہ انسانی جسم کی اپنی مصنوعات ہیں، اس لیے انہیں دوائی میں بدلنا آسان ہو سکتا ہے۔

ایک نئی امید یا ایک نئی جنگ؟

یہ دریافت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب اینٹی بایوٹک مزاحمت ایک عالمی بحران بنتی جا رہی ہے۔ ہر سال دس لاکھ سے زائد افراد ایسے انفیکشنز سے مر رہے ہیں، جو عام اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے ہیں۔

نئی اینٹی بایوٹکس کی اشد ضرورت ہے، مگر دوائیوں کی صنعت میں اس پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

اب، اس تحقیق نے ایک نئی امید کی کرن دکھائی ہے، یہ ظاہر کر دیا ہے کہ شاید ہم جس دوا کی تلاش میں تھے، وہ پہلے سے ہی ہمارے اندر موجود تھی۔

یہ دریافت صرف بیکٹیریا کے خلاف ایک نیا ہتھیار ہی نہیں، بلکہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی سمجھ میں بھی ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے۔

سائنس کی دنیا میں کچھ دریافتیں تاریخ بدل دیتی ہیں، یہ بھی انہی میں سے ایک ہو سکتی ہے۔

Tags:

alternative medicineantibacterial mechanismantibiotic alternativesantibiotic discoveryantibiotic resistanceantibiotic revolutionantimicrobial peptidesbacterial attackbacterial defensebacterial eradicationbacterial infectionsbiological defense systembiological discoverybiological sciencebiological warfarebiosecurityBiotechnologybody’s natural antibioticsbody’s natural defensebody’s own antibioticscell defensecellular defensecellular immunitycellular microbiologycellular researchchronic infectionsdefense proteinsdisease preventiondisease resistancedrug developmentdrug discoveryenzyme activityexperimental medicinefighting infectionsglobal health impactgroundbreaking sciencehealth crisis solutionhealth innovationhealthcare innovationhost defensehuman biologyhuman body researchhuman defense networkhuman defense systemhuman healthhuman microbiomeimmune adaptationimmune boosterimmune cell functionimmune mechanismimmune protectionimmune resilienceimmune responseimmune response enhancementimmune supportImmune Systemimmune system insightsimmune-driven antibioticsimmunological functioninfection controlinfection resistanceinfectious disease researchinnate immunitylaboratory experimentsmedical breakthroughmedical findingsmedical innovationMedical Sciencemedicine revolutionmicrobial resistancemicrobiology advancementsmolecular biologymolecular immunologynatural antibioticsnatural healingnature journalnew treatment possibilitiesnext-generation antibioticspathogen controlpathogen destructionpathogen eliminationpersonalized medicinepharmaceutical researchpneumoniaProteasomeproteasome functionproteasome roleprotein degradationprotein recyclingprotein-based antibioticspublic health researchresearch studyrevolutionary researchscientific advancementScientific Breakthroughscientific discoveryscientific progresssepsissuperbugstherapeutic potentialWeizmann Institute
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-horrifying-situation-of-the-dying-Indus-Delta
Previous

موت کے منہ میں جاتے انڈس ڈیلٹا کی ہولناک صورتحال

Colonization-of-Malir-illegal-housing-schemes-and-agricultural-lands
Next

ملیر کی کالونائزیشن

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme