Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Bhutto-Expressway-Malir-Expressway
اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

سندھ حکومت کے متنازع منصوبے پر سوالات: ماحولیاتی کارکنوں کا شاہراہِ بھٹو ختم کرنے کا مطالبہ

By Akhtar Rasool
ستمبر 16, 2025 1 Min Read
0

کراچی:

ملیر کے رہائشیوں، سول سوسائٹی گروپوں، ماحولیاتی کارکنوں اور وکلاء نے سندھ حکومت کے میگا روڈ پراجیکٹ "شاہراہِ بھٹو” (سابقہ ملیر ایکسپریس وے) کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ حالیہ مون سون کی بارشوں میں افتتاح شدہ راستے کے کئی حصے بہہ گئے۔

پیر کے روز کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن موومنٹ، سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس اور گرین چیمبر کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ منصوبہ ماحولیاتی اور مالی طور پر تباہ کن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 39 کلومیٹر طویل ملٹی لین ایکسپریس وے ملیر ندی کے کنارے اور سیلابی میدان پر تعمیر کیا جا رہا ہے، حالانکہ 2022 سے ہی ماہرین اس کے خطرات سے آگاہ کرتے آرہے ہیں۔ منصوبے کی ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ (ای آئی اے)، جو اپریل 2022 میں منظور ہوئی تھی، ابھی بھی سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

مقررین نے نشاندہی کی کہ جام گوٹھ  کے قریب ایکسپریس وے کا حصہ حالیہ بارشوں میں بہہ گیا، جسے حکومت نے "زیرِ تعمیر حصہ” قرار دے کر معاملے کو کم اہمیت دی۔ انہوں نے حکام پر الزام لگایا کہ وہ سیلابی خطرات کو نظرانداز کر رہے ہیں، بحالی کے منصوبے چھوڑ دیے گئے ہیں، اور زرعی زمین، دیہات اور ثقافتی مقامات کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کی لاگت 27.5 ارب روپے سے بڑھ کر 55 ارب روپے تک جا پہنچی ہے، اور اس کا زیادہ تر بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔

Tags:

civil societyclimate actionClimate change pakistancultural sitesenvironmental activistsEnvironmental Destructionenvironmental impact assessmentfarmland destructionfinancial corruptionflood risksGreen Chamberindigenous rightsindigenous rights SindhInfrastructure Failurekarachi developmentKarachi Environmentkarachi newslitigation Sindh High CourtMalir ExpresswayMalir Rivermega projects Pakistanmonsoon floodsPakistan Environmental Protection Movementpress conference Karachiresettlement issuesroad washed awayShahrah-e-BhuttoSindh government projectsSindh politicstaxpayers burdenUrban Planning Failure
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Education-City-Siege-of-land-environment-and-local-livelihoods-in-the-name-of-education
Previous

ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین، ماحول اور مقامی ذریعہ معاش کا محاصرہ

Wealthy-ancient-Romans-tomb-discovered-in-Albania
Next

البانیہ میں قدیم رومی دور کی شاندار قبر دریافت

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme