Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Your-next-computer-will-probably-grow-in-a-compost-heap
اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

آپ کا اگلا کمپیوٹر شاید کسی کھاد کے ڈھیر میں اُگے گا۔

By Akhtar Rasool
نومبر 6, 2025 4 Min Read
0

ذرا لمحہ بھر کو تصور کیجیے کہ آپ کے باورچی خانے کے کاؤنٹر پر رکھا ہوا ایک مشروم نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ ڈیٹا بھی محفوظ کر رہا ہے، ردِعمل دے رہا ہے، اور وقت کے ساتھ ”سیکھ“ رہا ہے۔۔

یہ محض سائنسی افسانہ نہیں، بلکہ اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک حیران کن تحقیق ہے جس نے عام شیتاکے مشرومز (Shiitake Mushrooms) یا کُھمبیوں کو زندہ کمپیوٹر میں بدل دیا ہے۔

جی ہاں، اب کمپیوٹرز صرف فیکٹریوں میں نہیں، بلکہ کھاد کے ڈھیر سے بھی اگ سکتے ہیں۔

دماغ سے مشابہ کمپیوٹر

تحقیق کے مرکزی سائنس دان جان لاروکّو (John LaRocco) کے مطابق، یہ فنگس پر مبنی چِپس انسانی دماغ کے نیورونز کی طرح کام کرتی ہیں۔ ان میں وہی خاصیت ہے جو دماغی خلیوں میں ہوتی ہے، معلومات کو محفوظ کرنا اور وقت کے ساتھ ردِعمل کو بہتر بنانا۔

یہ دراصل میمِرسٹرز (Memristors) کہلاتے ہیں، یعنی میمری (memory) + ریزسٹر (resistor) — ایسے آلات جو بجلی کے بہاؤ کو ”یاد“ رکھتے ہیں۔

روایتی میمرسٹرز دھات یا سلِکان سے بنتے ہیں، مگر اوہائیو کی ٹیم نے پہلی بار انہیں فطرات (Fungi) سے تیار کیا ہے۔

شیتاکے مشرومز کو فارّو، گندم کے جرثومے اور سوکھی گھاس کے آمیزے میں اُگایا گیا۔
ان کے مائیسیلیم (Mycelium) ، یعنی زیرِ زمین سفید جال جیسے ریشے، ایک قدرتی نیورل نیٹ ورک کی طرح پھیل گئے۔ جب انہیں دھوپ میں خشک کیا گیا، پھر ہلکا سا نم کیا گیا اور Arduino سرکٹ سے جوڑا گیا، تو نتیجہ نکلا:
ایک زندہ فنگل چِپ، جو بجلی کے اشاروں کو محسوس کرتی، یاد رکھتی اور سیکھتی ہے۔

لاروکّو کے بقول: ”ہم مشروم کے مختلف حصوں پر تاریں لگاتے تھے، کیونکہ ہر حصہ الگ برقی خصوصیات رکھتا ہے۔ جب ہم وولٹیج بدلتے، تو ہر حصہ مختلف ردِعمل دیتا، جیسے دماغ کے مختلف خلیے۔“

کم فریکوئنسی پر یہ چِپس فی سیکنڈ 5,850 سگنلز تک حالت بدلنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، تقریباً 90 سے 95 فیصد درستگی کے ساتھ۔
یہی وہ سطح ہے جو ابتدائی سلِکان میمرسٹرز میں موجود تھی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرومز کی مزاحمت وقت کے ساتھ بدلتی رہتی تھی، بالکل انسانی نیورون کی طرح جو سیکھنے کے عمل میں خود کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔

 قدرت کا سرکٹ بورڈ

یہ پہلی بار نہیں کہ سائنس دانوں نے فنگس اور ٹیکنالوجی کو ملانے کی کوشش کی ہو۔ مائیسیلیم، فنگس کا زیرِ زمین جال، ایک قدرتی ’انٹرنیٹ‘ کی طرح کام کرتا ہے جو درختوں اور پودوں کے درمیان غذائی اجزاء اور کیمیائی پیغامات منتقل کرتا ہے۔ یہ نظام خود کو مرمت کر سکتا ہے، ماحول سے مطابقت پیدا کرتا ہے اور باریک برقی لہریں بھیجتا ہے جو نیورون کی فائرنگ جیسی لگتی ہیں۔

لیکن اوہائیو اسٹیٹ کی تحقیق اس سے ایک قدم آگے ہے۔ یہ سائنس دان صرف مشاہدہ نہیں کر رہے تھے، وہ فنگس کو تربیت دے رہے تھے۔ ہر مشروم ڈِسک ایک ”نوڈ“ کے طور پر کام کر رہی تھی، جو عارضی یادداشت رکھتی تھی۔

اور ایک انوکھا انکشاف یہ بھی ہوا: خشک کرنا ہی کامیابی کی کنجی تھا۔ خشک کرنے سے مشرومز زیادہ پائیدار بن گئے اور ان کی برقی خصوصیات محفوظ رہیں۔

تحقیقی رپورٹ میں درج ہے: ”ہم نے ثابت کیا کہ خشک ہونے کے باوجود، پہلے سے پروگرام شدہ نمونے اپنی برقی خصوصیات برقرار رکھتے ہیں۔“

 خلا تک پہنچنے والے مشروم

شیتاکے مشرومز میں قدرتی طور پر لینٹینان (Lentinan) نامی مرکب پایا جاتا ہے، جو انہیں تابکاری کے خلاف مزاحمت دیتا ہے۔ یہی خصوصیت انہیں خلائی تحقیق میں استعمال کے قابل بناتی ہے، مثلاً ایسے سرکٹس جو خلائی تابکاری کے باوجود خود کو مرمت کر لیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، فنگل الیکٹرانکس ماحول کے لیے بھی بہتر ہیں۔ روایتی سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں توانائی کی بے تحاشا کھپت اور زہریلا کچرا پیدا ہوتا ہے،
جبکہ مائیسیلیم کمرے کے درجہ حرارت پر اُگتا ہے اور قدرتی طور پر تحلیل ہو جاتا ہے۔

قدسیہ تہمینہ، جو اس تحقیق کی شریک مصنفہ اور اوہائیو اسٹیٹ میں پروفیسر ہیں، کہتی ہیں: ”ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ماحول کی حفاظت سائنسی ترقی کا بنیادی محرک بن رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بایو فرینڈلی ٹیکنالوجی جیسے نظریات اب حقیقت میں ڈھلنے لگے ہیں۔“

 مستقبل: زندہ کمپیوٹر، خودمرمت مشینیں

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی مشروم پر ایپس چلا سکیں گے؟ سیدھا جواب ہے: نہیں، ابھی نہیں۔

یہ ابتدائی نمونے تجارتی چِپس کے مقابلے میں بڑے اور سست ہیں۔ انہیں نینو سطح پر لانے کے لیے برسوں کی ریسرچ درکار ہوگی۔

لیکن اس کے باوجود، یہ ایک انقلابی خیال ہے: ایسے کمپیوٹر جو زندہ چیزوں کی طرح بڑھتے، سیکھتے اور فنا ہو جاتے ہیں۔

سوچئے، اگر مستقبل میں آپ کے پہننے والے آلات (Wearables) بایوڈیگریڈیبل سرکٹس سے بنے ہوں جو زمین میں تحلیل ہو جائیں؟ یا خلا میں ایسے کمپیوٹر سسٹمز ہوں جو تابکاری سے متاثر ہونے کے بعد خود کو مرمت کر لیں؟ یہ وہ راستے ہیں جن پر سائنس ابھی قدم رکھ رہی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق: ”فنگل نظاموں کی توانائی کی کھپت کم، وزن ہلکا، رفتار تیز، اور لاگت کم ہے۔ مستقبل کا کمپیوٹنگ نظام، فنگس پر مبنی ہو سکتا ہے۔“

یہ تحقیق سائنسی جریدے PLOS One میں شائع ہوئی،
اور اس نے ایک نیا سوال پیدا کر دیا ہے: کیا زندگی خود اپنی مشین بن سکتی ہے؟ شاید مستقبل میں کمپیوٹر چِپس فیکٹریوں میں نہیں، بلکہ زمین کی گود میں اُگا کریں گے، جہاں فنگس، دماغ، اور ٹیکنالوجی ایک ہی نظام بن جائیں گے۔

Tags:

bio computingbio inspired computingbio intelligencebio memorybio neural systemsbio sustainable designbiochipbiocomputer innovationbiocomputing revolutionbiodegradable circuitsbiodegradable techbioengineeringbiological computerbiological processorsbiology meets technologyBiotechnologybrain-like computerearth-friendly chipseco circuitseco computingeco electronicseco innovationeco researcheco-friendly technologyenvironment-friendly machinesenvironmental computingenvironmental technologyfungal chipfungal electronicsfungal innovationfungal innovation 2025fungal materialsfungal memristorfungal neural networkfungal resistancefungal sciencefungal sustainabilityfungal-based circuitsfungus as hardwarefungus-based AIfuture innovationfuture of computingfuture sciencefuture tech trendsgreen computinggreen future techgreen hardwaregreen tech revolutionJohn LaRoccolife-based computerlife-based machinesliving AIliving circuitsliving computerliving dataliving machinesliving processorliving technologylow energy computingmemristormushroom computermushroom data storagemushroom energy efficiencymushroom engineeringmushroom experimentmushroom growth technologymushroom intelligencemushroom processormushroom sciencemushroom technologymushroom-based electronicsmycelium chipsmycelium electronicsmycelium hardwaremycelium networkmycelium researchmycelium technologynature-inspired computingnature’s internetneuroscience and techOhio State University researchorganic computingorganic materials techorganic processororganic semiconductorPLOS One researchradiation-proof materialsregenerative computingsci-tech futureself repairing computersself-healing circuitsshiitake mushroomssmart fungismart naturespace technology fungiSustainable Developmentsustainable electronicsSustainable Futuresynthetic biology
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Malir-and-the-new-invasion-of-corporate-imperialism
Previous

ملیر اور کارپوریٹ سامراج کی نئی یلغار

Hajamro-Creek-marine-forests-a-source-of-foreign-exchange-and-ecological-balance
Next

ہجامڑو کریک کے سمندری جنگلات، زرمبادلہ اور ماحولیاتی توازن کا ذریعہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme