
مردانگی کا فیمن اسٹ تجزیہ اور اثرات
دھرمیندر کی masculinity کا دو فیمن اسٹ نظریات کے تحت جائزہ لیتے ہیں ـ آسٹریلوی فیمن اسٹ اسکالر آر ڈبلیو کونیل (R.W Connell) کی ہیجمونک مردانگی کا نظریہ اور برٹش فیمن اسٹ فلم اسکالر لورا مالوی (Laura Mulvey) کے نظریہِ میل گیز اور بصری تلذذ کو دھرمیندر پر منطبق کرکے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں ـ
کونیل کے مطابق معاشرے میں مرد کی بالادستی کو میڈیا، ریاستی ادارے، فلم انڈسٹری اور سماجی قوانین پھیلاتے ، مضبوط کرتے اور جواز دیتے ہیں ـ وہ لکھتی ہیں سماج میں مرد کی قبولیت محض ظلم و جبر کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ سماجی، ثقافتی اور تاریخی ضرورت کے تحت آئیڈیل مرد کا امیج بنا کر بھی عورت کی رضامندی حاصل کی جاتی ہے۔
دھرمیندر کی وسیع سطح پر قابلِ قبول مردانگی کا امیج بھی محض ان کی جسمانی خصوصیت کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یہ معروضی ضرورت کے تحت تشکیل پائی ـ 62, 65 و 71 کی جنگوں اور سبز انقلاب نے دیہی محافظ مرد کی ضرورت کو پیدا کیا ـ دھرمیندر کا کھلا سینہ ، دیہاتی جسم، جسمانی لڑائیوں کے سینز، عورت کی حفاظت فوجی اور جاسوس کرداروں نے مل کر ایک ثقافتی معیار بنایا جس سے ہیجمونک مردانگی کو جواز ملا ـ واضح رہے ہندی فلموں میں عموماً عورت قومی عزت و غیرت اور بعض اوقات خود قوم (بھارت ماتا) کی علامت ہوتی ہے ـ کونیل کے مطابق سماج اکثر عورت کی حفاظت کے نام پر مردانہ بالادستی کو نارمل بناتا ہے ـ دھرمیندر کی فلموں میں یہ بار بار دہرایا جاتا رہا ہے ـ ہیروئن کو خطرات سے بچانے والا، ماں بہن کی عزت کا پرتشدد دفاع یا ان کی بے توقیری پر غضب ناک ہوکر دشمن پر شدید حملہ کرنا ـ دھرمیندر کی فلموں میں عورت کی با اختیاری بھی ایک حد میں رہتی ہے، فیصلہ کن کردار ہیرو کا ہی رہتا ہے ـ
کونیل نے اس عمل کو "complicit femininity” کی اصطلاح میں سمویا ہے ـ ان کے مطابق بعض اوقات عورت ظاہری طور پر آزاد دکھائی دیتی ہے مگر عملی طور پر وہ مردانہ اختیار کی اخلاقی توثیق کرتی ہے۔ 60 اور 70 کی دہائیوں کے ہندی سینما میں عورت کی نیم آزادی مردانہ بالادستی کو مزید نرم اور قابل قبول بناتی رہی ہے ـ
مثلاً: فلم "دھرم ویر” (1977) میں شہزادی پلّوی (زینت امان) اکھڑ مزاج لڑکی ہے جو جنگی لباس پہنتی اور گھوڑا دوڑاتی ہے ـ اس کے مقابل دھرم (دھرمیندر) ایک غریب لوہار ہے ـ اسکرین پلے زینت امان کو مغرور اور اس کی مزاحمت کو گم راہی قرار دے کر اس کی طبقاتی طاقت کو مردانہ بالادستی کے نظم میں جذب کردیتی ہے ـ یہ پورا عمل بظاہر رومانس یا محبت کی طاقت کہلاتا ہے مگر فیمن اسٹ زاویے کے مطابق یہ سماجی اصولوں کے مطابق عورت کو تشکیل دینا ہے ـ عورت کی مزاحمت اور اور اس کا جنگی لباس جو بظاہر اس کی آزادی کو ظاہر کرتے ہیں دراصل مردانہ بالادستی کی توثیق کے ذرائع ہیں ـ
عین یہی واردات فلم "شعلے” (1975) میں بھی نظر آتی ہے ـ بسنتی گاؤں کی ایک شوخ، چنچل اور بہادر لڑکی ہے جو گزر بسر کے لئے کسی مرد کی محتاج نہیں بلکہ خود تانگہ چلاتی ہے ـ اس کی یہ جزوی قوت مگر صرف زیبِ داستاں کے لئے ہے ـ گاؤں میں ویرو کے آنے کے بعد وہ بتدریج ایک ایسی لڑکی میں ڈھل جاتی ہے جسے حفاظت کی ضرورت ہے ـ بالخصوص فلم کے آخری سیکوینسز میں اس کا گبر سنگھ (مرد) کے حکم پر ویرو (دوسرے مرد) کو نیچا دکھانے کے لئے ناچنے کا حکم اس کی کم زوری کو عیاں کردیتے ہیں ـ بالآخر بسنتی کی جزوی قوت اور کامل کم زوری ویرو کو ہی فیصلہ ساز بناتی ہے ـ یہی ہیجمونک مردانگی کا اخلاقی چہرہ ہے ـ
بسنتی کا رقص تاہم لورا مالوی کے میل گیز کے تناظر میں بھی اہم ہے کیونکہ یہاں عورت مردوں کے باہمی طاقت کے مظاہرے میں استعمال ہوکر بصری تلذذ فراہم کرتی ہے ـ اس موضوع پر آگے چل کر مزید بات کریں گے ـ ابھی ایک چھوٹی سی مثال "سیتا اور گیتا” (1974) سے لیتے ہیں ـ سیتا (ہیما مالینی) ایک لڑاکو لڑکی ہے جو مردوں کو بھی چیلنج دیتی ہے ـ راکا (دھرمیندر) اسے رومانس کے عمل سے گزار کر دوبارہ عورت بنا دیتا ہے ـ سیتا اپنی ساری اکھڑ طاق میں رکھ کر ساڑی میں ملبوس بیوی بن جاتی ہے ـ فیمن اسٹ تناظر میں سیتا کی آزادی سماجی بے ترتیبی کا مظہر ہے جسے راکا کا رومانس دوبارہ "مثالی بھارتی ناری” کی صورت ترتیب دے کر مستحکم کرتا ہے ـ
اندرا گاندھی کی طاقت ور سیاسی شخصیت سے متاثر معروض میں بننے والی ہندی فلموں میں یہ عام فارمولا رہا ہے ـ عورت کو محدود اور سیمبولک آزادی دے کر ماڈرن ازم کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے ـ یہ آزادی ایک طرف پدر شاہیت کو چیلنج نہیں کرتی دوسری جانب اس آزادی کے ذریعے مردانہ بالادستی کو جواز دیا جاتا ہے ـ ایسا صرف دھرمیندر نہیں تقریباً تمام ہیروؤں کی فلموں میں نظر آتا ہے مگر چوں کہ موضوع دھرمیندر کی ہیجمونک مردانگی ہے اس لئے بحث کو انہی تک محدود رکھنا ہوگا ـ
خیر یہ تو جملہِ معترضہ تھا، آمدم بر سرِ مطلب معروض نے دھرمیندر کی مردانگی کو قومی معیار بنا دیا جس کے نتیجے میں عورت کی طاقت نمائشی، جزوی اور اسٹیریوٹائپ بن گئی ـ "قومی معیار” کی اصطلاح دھرمیندر کی ہیجمونک مردانگی کے تناظر میں استعمال کی گئی ہے ـ کونیل کے مطابق سماج میں کئی طرح کی مردانگیاں موجود ہوتی ہیں جن میں سے ایک ہیجمونک بنتی ہے ـ دھرمیندر کے عہد میں بھی شمی کپور کی متوسط طبقے کی جذباتی، راجیش کھنہ کی شہری رومانی اور امیتابھ بچن کی اینگری ینگ مین مردانگی وغیرہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے ـ ان سب میں مگر دھرمیندر کی دیہی محافظ مردانگی نے ہی ہیجمونک کا درجہ حاصل کیا ـ اس وجہ سے اسے قومی معیار قرار دینا بنتا ہے ـ پھر اس امیج کی تشکیل صرف فلمی ضرورت نہیں تھی بلکہ بھارت کی ریاستی پالیسی ، جنگی پروپیگنڈا اور زرعی ترقی کے بیانیے (جے جوان جے کسان) نے دیہی محافظ مرد کو قومی ستون بنا کر پیش کیا۔ دھرمیندر اسی ریاستی بیانیے کے ثقافتی نمائندہ بنے ـ
دھرمیندر کی مردانگی میں عورت پر جبری غلبہ پانے کا عنصر نظر نہیں آتا ـ وہ عورت کی رضامندی سے اس پر تسلط قائم کرتے ہیں ـ ان کی مردانگی دیہی سادگی پر مبنی کسان ثقافت سے مشتق تھی ـ البتہ مردانگی کا یہ تصور جب ارتقائی عوامل سے گزر کر نوے کی دہائی تک پہنچا تو آزار دہندہ، الفا اور متشدد ہوگیا تاہم اس نئی مردانگی کے نمائندے دھرمیندر نہ تھے ـ یہ مردانگی نیو لبرل معاشی پالیسی سے پیدا ہونے والی باڈی بلڈر جمالیات سے متعلق تھی جس کا دھرمیندر کے اسٹار امیج سے کوئی تعلق نہیں تھا ـ سوال اٹھتا ہے پھر اس مردانگی کے نمائندے کون تھے؟ ـ اس سوال کا جواب آگے دینے کی کوشش کریں گے فی الحال بصری تلذز اور میل گیز کی جانب چلتے ہیں ـ
(جاری ہے)




