
برٹش فلم اسکالر لورا مالوی (Laura Mulvey) کے طویل مضمون Visual pleasure and narrative cinema کو سینما کے فیمن اسٹ مطالعے میں سنگِ میل کا درجہ حاصل ہے ـ ان کے مطابق کمرشل سینما ”مردانہ نگاہ“ (male gaze) پر مبنی ہے ، کیمرہ، ہیرو اور فلمی بیانیہ مل کر عورت کو دیکھی جانے والی شے (تماشا) بنا کر بصری تلذذ فراہم کرتے ہیں ـ مالوی نے کلاسیک امریکی سینما کے تجزیے میں لکھا کہ ہیرو فاعل ہوتا ہے یعنی نگاہ کا مالک ہوتا ہے، وہی دیکھتا ، فیصلہ کرتا اور بیانیے کو آگے بڑھاتا ہے ـ
مالوی کے نظریے کو ہندی سینما پر منطبق کیا جاسکتا ہے مگر چوں کہ ہندی سینما کی ساخت پوسٹ کالونیل ہے اس لئے بصری تلذذ کی نظریاتی بحث میں ہیرو کو بیانیے کا کا مالک قرار دینا درست نہیں ہوگا ـ ایم مادھو پرساد (M. Madhava prasad) نے اپنی کتاب ideology of the Hindi film میں ہندی سینما کے مارکسی تجزیے میں ثابت کیا ہے کہ بیانیے کی ملکیت ہیرو نہیں بلکہ (ظاہری یا پوشیدہ) ریاست کے پاس ہوتا ہے ـ اس لئے ہندی سینما میں میل گیز کا اطلاق مشوط اور ایک حد تک ہی ہوسکتا ہے ـ بحث کو پیچیدگی سے بچانے کے لئے زیادہ واضح اور آسان کرنے کی کوشش کرنا چاہوں گا ـ پہلے مالوی کے نظریے کے تحت دھرمیندر کا تجزیہ کریں گے اس کے بعد ریاستی اتھارٹی پر مختصر بحث کرکے اس کی حدود واضح کریں گے ـ
دھرمیندر کی فلموں (زیادہ تر 60s اور 70s) میں mise-en-scene ، کیمرے کا زاویہ اور شاٹ کمپوزیشن انہیں نگاہ رکھنے والے فاعل کے طور پر پیش کرتے ہیں ـ انہیں عموماً لو اینگل پر فریم کے مرکز میں رکھا جاتا ہے جس سے وہ ہیروئن سے طاقت ور اور غالب نظر آتے ہیں ـ جیسے فلم ”شعلے“ ، ”پرتگیا“ ، ”لوفر“ یا ”آیا ساون جھوم کے“ وغیرہ ـ ان کی نگاہوں سے ہی ہیروئن کو شوٹ کیا جاتا ہے جو میل گیز کو مضبوط بناتا ہے ـ
گانوں کی پکچرائزیشن میں عموماً مالوی کے تینوں گیز یعنی کیمرہ، بیانیہ اور ناظر تینوں ایک ساتھ نظر آتے ہیں ـ جیسے ”شعلے“ کے گیت ”جب تک ہے جاں، جانِ جہاں میں ناچوں گی“ یا ”میرے ہمدم میرے دوست“ کے گیت ”چھلکائیں جام، آئیے! آپ کی آنکھوں کے نام، ہونٹوں کے نام۔“ آخرالذکر گیت کے بول: ”لچکائیے شاخِ بدن، مہکائیے زلفوں کی شام“ پر شرمیلا ٹیگور کو کیمرہ ایروٹک بناتا ہے ـ اس میں شرمیلا کے بدن کو ہلکا سا خم دے کر ان کی چھاتی اور کولہے نمایاں کئے جاتے ہیں ـ فلم ”چرس“ کے گیت: ”کل کی حسیں ملاقات کے لئے، آج رات کے لئے،ہم تم جدا ہو جاتے ہیں، اچھا چلو سو جاتے ہیں۔“ میں نہ صرف ہیمالینی کا بدن (بالخصوص لباس تبدیل کرنے والا سین) بصری تلذذ فراہم کرتا ہے بلکہ ”چلو سو جاتے ہیں“ کے بول پر دھرمیندر کی شرارتی مسکراہٹ اس کو ذومعنی بنا کر سماعتی تلذذ کی مثال بھی بن جاتی ہے ـ
گیتوں کی پکچرائزیشن میں عموماً عورت کو ٹکڑوں میں بانٹ کر بھی جنسی تلذذ کا سامان پیدا کیا جاتا ہے ـ کیمرہ عورت کی رانوں، چھاتیوں، ہونٹ، آنکھوں اور چہرے کو تقسیم کرتا ہے ـ جسم کے الگ الگ ٹکڑوں میں بٹی عورت انسان سے شے میں تبدیل ہوجاتی ہے ـ اس حوالے سے اہم ترین مثال فلم ”ڈریم گرل“ کا ٹائٹل سونگ / ڈریم گرل/ ہے ـ اس گیت میں عورت کی شناخت کو مردانہ خواہش کے مطابق ترتیب دے کر اسے اسٹیریوٹائپ کیا جاتا ہے ـ ”کسی شاعر کی غزل ڈریم گرل، کسی جھیل کا کنول ڈریم گرل“ کیمرہ کبھی ہیمامالینی کے ہونٹوں پر جاتا ہے تو کبھی آنکھوں پر اور کبھی فل فریم میں تصوراتی لائٹنگ میں رنگا رنگ اور شوخ لباس میں لپٹے سراپے پر ـ دھرمیندر پسِ منظر میں رہ کر اس کی اسٹیریوٹائپ تعریف کرتا ہے، جب کہ کیمرہ مسلسل عورت کے حسن کو نظارہ بناتا ہے ـ اس سے حقیقی عورت مٹ جاتی ہے اور مردانہ خواہش پر مبنی ایسی شے وجود میں آتی ہے جس کا مقصد مرد کو لذت پہنچانا ہے ـ اس تکنیک کو سینمائی پدرشاہیت سے بھی شناخت کیا جاسکتا ہے ـ
اوپر اشارہ دیا جاچکا ہے کہ دھرمیندر کا دیہی جسم، دیہی محافظ مرد کا امیج اور نگاہ میل گیز کو شدت تک لے جاتا ہے ـ یہ میل گیز مالوی کے کلاسیک امریکی ہیرو کی نسبت شدید تر ہے لیکن ان کی یہ مردانگی امریکی ہیروؤں کے برعکس کبھی بھی فلمی بیانیے پر قبضہ نہیں کرپاتا ـ
ہندی سینما کے پوسٹ کالونیل نظریاتی ڈھانچے میں ہیرو کی طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے ـ آخری تجزیے میں یا تو وہ ریاست کے اخلاقی قانون میں جذب ہوکر تحلیل ہوجاتا یا اس کے سامنے جھک کر اس کی تعظیم کرتا ہے ـ اس نکتے کی مختصر وضاحت کرتے ہیں ـ
بھارت کی آزادی (1947) کے بعد نئی ریاستی انتظامیہ کو یہ خوف دامن داگیر ہوا کہ طبقاتی، قومی، لسانی اور مذہبی تضادات ریاست کو منہدم کرسکتے ہیں ـ ایسے میں ریاست کو ایک ایسے نظریاتی آلے کی ضرورت تھی جو مختلف تضادات سے پیدا ہونے والے عوامی غصے کو خارج کرے اور اس غصے کو انقلاب/انارکی کی جانب مڑنے سے روک کر ریاستی اتھارٹی کو بحال کرے ـ التھوسر کی اصطلاح ideological state apparatus کے تحت ریاست کا سب سے بڑا ہتھیار ہندی سینما بنا ـ
ہندی سینما عوامی غصے کو جائز اور برحق دکھاتا ہے ـ ظلم اور جبر کے خلاف لڑنے کا حق بھی دیتا ہے ـ مگر اس کا بنیادی پیغام یہی رہتا ہے کہ یہ سب کچھ آئین و قانون کے دائرے میں رہے تاں کہ ریاستی نظم برقرار رہے ـ جیسے فلم ”مدر انڈیا“ ، ”شعلے“ ، ”میرا گاؤں میرا دیش“ ، ”دیوار“ وغیرہ ـ
دھرمیندر اپنی نگاہ سے عورت کو objectify کرتا ہے ـ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ میز این سین، کیمرے کا زاویہ اور شاٹ کمپوزیشن مل کر دھرمیندر کو فاعل بناتے ہیں اس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ بیانیے کی ملکیت دھرمیندر کے پاس ہے ـ جیسے جیسے فلم اختتام کی جانب جاتی ہے ہندی سینما کا نظریاتی تضاد واضح ہونے لگتا ہے ـ فلم کے کلائمکس میں وہ بدلہ لینے، سماج کو نجات دینے یا نظام کو توڑنے کے قریب پہنچ کر اپنی قدر کھو دیتا ہے ـ وہ ریاست کے سامنے سرینڈر کرکے ریاستی اتھارٹی کو تسلیم کرلیتا ہے یا اس میں جذب ہوجاتا ہے ـ
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے ریاستی اتھارٹی کی بحث دھرمیندر تک (60s سے 80s) محدود ہے کیوں کہ لبرلائزیشن (1991) کے بعد ہندی سینما کی ساخت میں ایک بہت بڑی نظریاتی تبدیلی آئی ـ ”ہم آپ کے ہیں کون“ اور ”دل والے دلہنیا لے جائیں گے“ جیسی لبرل فلموں کے بعد بیانیے کی ملکیت میں عالمی سرمایہ داریت بھی شریک ہوگئی ہے ـ یعنی اب ریاست اور مارکیٹ دونوں مل کر فلمی بیانیے کو کنٹرول کرتے ہیں ـ یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ آگے چل کر جب ہم دھرمیندر کی مردانگی کے اثرات پر بحث کریں گے تو اس اہم تبدیلی کے اثرات کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا ـ
مالوی کے نظریہِ میل گیز کی بحث لیکن اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ”دہری نگاہ کی معیشت“ (Dual gaze economy) کا جائزہ نہ لیا جائے ـ کیوں کہ لورا مالوی کے نظریے میں ہیرو کو تماشا نہیں سمجھا جاتا، ان کی پوری بحث عورت کو دیکھی جانے والی شے سمجھے جانے پر ہے لیکن بعد کے ادوار میں مختلف اسکالرز نے ثابت کیا کہ فلموں میں مرد بھی تماشا بنتا ہے ـ اس حوالے سے دھرمیندر ایک کلاسیکی مثال ہیں ـ اس لئے دھرمیندر کی مردانگی کے اثرات کی جانب بڑھنے سے پہلے اس نکتے پر مختصر بحث ضروری ہے ـ
جاری ہے




