جنگ بندی سے چند لمحے قبل صور میں شدید اسرائیلی حملہ، 13 افراد جاں بحق

سنگت ڈیسک

لبنان کے جنوبی ساحلی شہر صور میں جنگ بندی کے نفاذ سے کچھ دیر پہلے ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔

لبنانی سرکاری ذرائع کے مطابق رات گئے ہونے والی بمباری کے بعد امدادی ٹیمیں صبح تک ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف رہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ 15 افراد اب بھی لاپتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والی دس روزہ عارضی جنگ بندی کے نافذ العمل ہونے سے عین قبل کیے گئے۔ ایک مقامی سرکاری ذریعے نے بتایا کہ بمباری آدھی رات سے کچھ پہلے کی گئی۔

جنگ بندی کی خلاف ورزی پر جواب کے لیے تیار ہیں: حزب اللہ

لبنان میں نافذ ہونے والی عارضی جنگ بندی کے باوجود حزب اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا حملہ کیا گیا تو وہ فوری ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔

تنظیم نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے “چوکنا” ہے۔ گروپ کے مطابق 2 مارچ سے 16 اپریل کے دوران اس نے اسرائیل کے خلاف 2 ہزار سے زائد کارروائیاں کیں۔

یاد رہے کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ جنگ بندی مذاکرات میں حزب اللہ براہِ راست شریک نہیں تھی کیونکہ اسرائیل نے بات چیت لبنانی حکومت کے ساتھ کی۔

تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان کے پورے علاقے پر ہونا چاہیے اور اسرائیلی افواج کو کسی قسم کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیلی فوج لبنانی حدود میں قائم اپنے سکیورٹی زون میں موجود رہے گی۔



صدر ٹرمپ کا دس روزہ سیزفائر کا اعلان

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی اسرائیلی وزیر اعظم اور لبنانی صدر جوزف عون سے گفتگو ہوئی جو مثبت رہی۔ ان کے مطابق دونوں فریق عارضی فائر بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

تاہم امریکی صدر نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ جنگ بندی کس تاریخ سے مؤثر ہوگی، البتہ انہوں نے لکھا کہ یہ اقدام شام پانچ بجے (عالمی وقت کے مطابق رات نو بجے) سے نافذ العمل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق صور پر حملہ اور اس کے فوراً بعد جنگ بندی کا اعلان اس خطے کی پیچیدہ صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ عارضی سیزفائر کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن فریقین کے سخت بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال بدستور نازک ہے اور کسی بھی خلاف ورزی سے دوبارہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔



Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button