
سورج کی تپش ابھی مدھم نہیں ہوئی تھی کہ الاباما کی کوئلے کی کانوں سے سسکتی ہوئی آوازیں ابھرنے لگیں۔ یہ آوازیں کسی آزاد مزدور کی نہیں، بلکہ ان بدنصیبوں کی تھیں جنہیں قانون کی آڑ میں ”لیز“ یعنی ٹھیکے پر لیا گیا تھا۔ زنجیروں میں جکڑے ہوئے پاؤں، کوئلے کی گرد سے اٹے ہوئے چہرے اور کوڑوں کے نشانات سے چھلنی پیٹھیں۔۔ یہ 1880 کے عشرے کا وہ امریکہ تھا جہاں غلامی کاغذوں پر تو ختم ہو چکی تھی، لیکن پسِ دیوار ایک ایسا بھیانک کاروبار جنم لے رہا تھا، جس نے انسان کو محض ایک پرزہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ ایک ایسا نظام جہاں ریاست خود جلاّد بن گئی اور انصاف کے ایوانوں سے نکلا ہر فیصلہ کسی نجی کمپنی کے منافع کی ضمانت بن گیا۔ یہ ”کنوکٹ لیزنگ“ (Convict Leasing) یعنی قیدیوں کو ٹھیکے پر دینے کے نظام کی وہ داستان ہے، جسے تاریخ کے اوراق میں ”دوسری غلامی“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
تعمیرِ نو کا بھیانک چہرہ اور ریاست کی تجارت
امریکی خانہ جنگی (1865) کے شعلے ابھی پوری طرح ٹھنڈے نہیں ہوئے تھے کہ امریکی ریاستیں معاشی طور پر اپاہج ہو گئیں۔ جنگ نے انفراسٹرکچر تباہ کر دیا تھا، کھیت اجڑ چکے تھے، ریلوے لائنیں تباہ تھیں اور ریاستی خزانے خالی ہو چکے تھے۔ دوسری طرف غلامی کے خاتمے کے بعد وہ مفت مزدوری بھی ختم ہو گئی تھی جس پر جنوبی معیشت صدیوں سے کھڑی تھی۔ اس صورتحال میں ریاستوں کو ایک ایسے حل کی تلاش تھی جو سستا بھی ہو اور منافع بخش بھی۔ قیدی مزدوری کا نظام اسی تلاش کا نتیجہ تھا۔ امریکی کانگریس کی جانب سے امداد نہ ملنے کے باعث ریاستوں نے ایک ایسی راہ نکالی جو اخلاقی طور پر دیوالیہ لیکن مالی طور پر بے حد نفع بخش تھی۔
1844 میں لوزیانا سے شروع ہونے والا یہ تجربہ خانہ جنگی کے بعد وباء کی طرح پھیل گیا۔ ریاستوں نے سوچا کہ کیوں نہ جیلوں کے قیدیوں کو، جو ریاست پر ”بوجھ“ ہیں، نجی کمپنیوں کو ٹھیکے پر دے دیا جائے؟ یوں ”مجرموں کو ٹھیکے پر دینے کا نظام“ (Convict Leasing) وجود میں آیا۔ اس سودے میں ریاست کو قیدیوں کی خوراک، لباس اور رہائش کی فکر سے نجات مل گئی اور بدلے میں ٹھیکیداروں سے خطیر رقم وصول ہونے لگی۔
الاباما کی مثال ہوش ربا ہے؛ 1846 میں قیدیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ریاست کے کل بجٹ کا محض 10 فیصد تھی، لیکن 1889 تک یہ بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی یعنی ریاست کا پورا ڈھانچہ ان مجبور قیدیوں کے خون پسینے پر کھڑا تھا۔
اس نظام کا بنیادی تصور نہایت سادہ لیکن خوفناک تھا۔ ریاستی جیلیں اپنے قیدی نجی افراد یا کمپنیوں کو مزدوری کے لیے ٹھیکے پر دے دیتی تھیں۔ زرعی جاگیروں کے مالک، کوئلے کی کانوں کے ٹھیکیدار، ریلوے کمپنیاں اور صنعتی ادارے جیلوں سے قیدی حاصل کرتے اور انہیں اپنے کاروبار میں استعمال کرتے۔ ان قیدیوں کی نگرانی، خوراک، لباس اور رہائش کی ذمہ داری ٹھیکہ لینے والوں پر ہوتی، جبکہ ریاست کو اس کے بدلے میں خطیر رقم ملتی۔ یوں قیدی مزدوری ریاست کے لیے ایک منافع بخش کاروبار بن گئی۔
بلیک کوڈز: آزادی کی زنجیریں
اس نظام کے فروغ میں ایک اور عنصر نے اہم کردار ادا کیا، اور وہ تھے بدنام زمانہ ”بلیک کوڈز“ قوانین۔ دراصل غلامی کے باقاعدہ خاتمے کے بعد جنوبی سفید فام طبقہ ”سیاہ فام محنت کشوں“ کے بغیر جینے کا عادی نہ تھا۔ اس لیے انہوں نے ”بلیک کوڈز“ نامی امتیازی قوانین متعارف کرائے، جو بظاہر نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے تھے، لیکن درحقیقت ان کا ہدف سابق غلام ہی تھے۔ آوارہ گردی، معمولی قرض ادا نہ کرنا یا محض بے روزگار ہونے جیسے معمولی معاملات کو بھی جرم قرار دے دیا گیا۔ ان قوانین کا مقصد واضح تھا: جیلوں کو بھرنا تاکہ نجی کمپنیوں کو سستی مزدوری فراہم کی جا سکے۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ ٹھیکے پر دیے جانے والے قیدیوں کی اکثریت سیاہ فاموں پر مشتمل تھی۔ یہ قوانین دراصل کاغذوں پر آزاد کیے گئے غلاموں کے دوبارہ شکنجے میں کسنے کا بہانہ تھےن تیرہویں آئینی ترمیم میں موجود ایک باریک قانونی خلا (”سوائے اس کے کہ یہ کسی جرم کی سزا ہو“) کو ڈھال بنا کر لاکھوں انسانوں کو دوبارہ جبری مشقت کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں سیاہ فام افراد جیلوں میں پہنچنے لگے۔ یوں جیلیں بھر گئیں اور ریاستوں کو قیدیوں کے لیے نئی جگہیں درکار ہوئیں، لیکن جیلیں بنانے کے بجائے ایک زیادہ منافع بخش راستہ اختیار کیا گیا: قیدیوں کو جیلوں میں رکھنے کی بجائے نجی مالکان کے حوالے کر دیا گیا۔
-
ایک نظم، جو سات سو برس تک ’بلیک ڈیتھ‘ کے بارے میں غلط فہمی کی بنیاد بنی رہی!
-
ڈی این اے نے کرسٹوفر کولمبس کے بارے میں حیران کن انکشاف کیا ہے!
-
”میں نے پہاڑ کی چوٹی سے ارضِ موعودہ کو دیکھا ہے۔۔“ وہ تقریر جس کے بعد مارٹن لوتھر کنگ کو قتل کر دیا گیا!
جلد ہی یہ نظام ایک مکمل کاروباری ماڈل بن گیا۔ نجی ٹھیکیدار قیدیوں کے معاہدے خریدتے اور بیچتے تھے۔ ریاستی خزانے میں پیسہ آنے لگا۔ مثال کے طور پر الاباما میں 1846 میں ریاست کی کل آمدنی کا تقریباً دس فیصد حصہ قیدی مزدوری سے حاصل ہوتا تھا، لیکن 1889 تک یہ شرح بڑھ کر تقریباً تہتر فیصد تک پہنچ گئی۔ یعنی ریاست کی معیشت کا بڑا حصہ قیدیوں کی محنت پر کھڑا ہو چکا تھا۔
اس نظام کا انسانی پہلو انتہائی ہولناک تھا۔ چونکہ قیدیوں کو حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا اور ان پر مالکان کی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر تھی، اس لیے ان کے ساتھ سلوک بھی انتہائی بے رحمانہ ہوتا تھا۔ اگر کوئی قیدی بیمار ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کی جگہ دوسرا قیدی حاصل کر لیا جاتا۔ یوں انسان کی قیمت مشین سے بھی کم ہو گئی، کیونکہ خراب مشین کی تو پھر بھی مرمت کی جاتی ہے، لیکن ان انسانوں کو پھینک دیا جاتا تھا۔ کوئلے کی کانوں اور زرعی جاگیروں میں قیدیوں سے انتہائی سخت مشقت کروائی جاتی۔ انہیں ناکافی خوراک دی جاتی، شدید گرمی اور خطرناک حالات میں کام کرنا پڑتا، اور معمولی غلطی پر انہیں سخت سزا دی جاتی۔
مورخ الیکس لیخٹن اسٹائن کے مطابق، شمالی ریاستوں میں بھی قیدیوں سے کام لیا جاتا تھا، لیکن جنوبی ریاستوں نے قیدیوں کا مکمل کنٹرول نجی ٹھیکیداروں کو دے دیا تھا۔ کوئلے کی کانوں، ریلوے لائنوں اور کپاس کے کھیتوں میں ظلم کی ایسی داستانیں رقم ہوئیں کہ روح کانپ جائے۔
مورخین کے مطابق اس نظام میں قیدیوں کی اموات کی شرح عام جیلوں کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ تھی۔ 1873 میں ایک اندازے کے مطابق ٹھیکے پر دیے گئے سیاہ فام قیدیوں میں سے تقریباً پچیس فیصد اپنی سزا مکمل کرنے سے پہلے ہی مر گئے تھے۔ بعض مقامات پر قیدیوں کی لاشیں خاموشی سے زمین میں دفن کر دی جاتی تھیں۔ کوئلے کی کانوں کے قریب ایسے خفیہ قبرستان دریافت ہوئے جہاں ان بے نام مزدوروں کو دفن کیا گیا تھا۔
گواہوں کے بیانات اس نظام کی سفاکی کی ایک اور تصویر پیش کرتے ہیں۔ بعض جگہوں پر قیدیوں کی نگرانی پر مامور افراد قیدیوں کے درمیان لڑائیاں کرواتے تھے، بالکل ویسے جیسے قدیم روم میں گلیڈی ایٹر لڑتے تھے۔ یہ لڑائیاں تفریح کے لیے ہوتی تھیں اور اکثر ان کا انجام موت پر ہوتا تھا۔ ایسے ماحول میں قیدیوں کی مزدوری دراصل ایک منظم استحصال کا نظام بن چکی تھی۔
سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ان قیدیوں کا ریکارڈ دانستہ طور پر غائب کر دیا جاتا تھا۔ کئی بدنصیب اپنی سزا پوری کر چکے ہوتے یا جرمانہ ادا کر چکے ہوتے، لیکن ٹھیکیداروں کے ریکارڈ میں وہ ہمیشہ کے لیے ”محصور“ رہتے۔ وہ یہ ثابت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ وہ اب آزاد شہری ہیں، کیونکہ ان کی شناخت کاغذوں کے پلندوں میں کہیں دفن کر دی جاتی تھی۔
زوال کی ابتدا اور ”چین گینگز“ Chain Gangs کا عروج
انیسویں صدی کے آخر میں جب اخبارات نے ان مظالم کی تصاویر اور کہانیاں شائع کیں، تو عوامی ضمیر جاگ اٹھا۔ مزدور یونینوں نے بھی احتجاج کیا، لیکن اس کے پیچھے بھی قیدی مزدوروں سے ہمدردی سے زیادہ اپنا مفاد کارفرما تھا، کیونکہ قیدیوں کی سَستی مزدوری کی وجہ سے آزاد مزدوروں کے لیے روزگار ختم ہو رہا تھا۔
دوسری جانب کاروباری حلقوں میں بھی آہستہ آہستہ یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ جبری مزدوری ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتی۔ قیدی مزدور اکثر کم پیداوار دیتے تھے اور کام کا معیار بھی خراب ہوتا تھا۔ اس طرح معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھنے لگا۔
آخرکار انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں اس نظام کو بتدریج ختم کیا جانے لگا۔ الاباما وہ آخری ریاست تھی جس نے 1928 میں سرکاری طور پر قیدیوں کو ٹھیکے پر دینے کے نظام کا خاتمہ کیا۔ لیکن کیا ظلم واقعی ختم ہوا؟ نہیں۔ اس نے صرف اپنی شکل بدلی۔ نجی ٹھیکیداری کی جگہ ”چین گینگز“ (Chain Gangs) نے لے لی، جہاں قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑ کر سڑکوں کی تعمیر پر لگا دیا گیا۔ یہ سلسلہ دسمبر 1941 تک جاری رہا جب وفاقی حکومت نے باقاعدہ مداخلت کی۔
اسی لیے بہت سے مؤرخین اور انسانی حقوق کے کارکن اس سوال کو آج بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا قیدیوں کو ٹھیکے پر دینے کا نظام دراصل غلامی ہی کی ایک نئی شکل تھا۔ امریکی آئین کی تیرہویں ترمیم نے غلامی کو ختم تو کیا، لیکن اس میں ایک استثنا موجود تھا: اگر کسی شخص کو جرم کی سزا کے طور پر جبری مشقت کرنی پڑے تو وہ غلامی نہیں سمجھی جائے گی۔ جنوبی ریاستوں نے اسی قانونی خلا کو استعمال کرتے ہوئے بلیک کوڈز جیسے قوانین بنائے اور ہزاروں سیاہ فام افراد کو قید میں ڈال کر انہیں مزدوری پر لگا دیا۔
ایک ادھوری آزادی کا نوحہ
صحافی اور مصنف ڈگلس اے بلیکمن اپنی کتاب Slavery by Another Name میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ یہ نظام پرانی غلامی سے کچھ مختلف تھا، لیکن اس کی روح وہی تھی۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا نظام تھا جس میں آزاد انسانوں کو دوبارہ غلام بنا دیا گیا۔ انہیں بغیر معاوضے کے کام پر مجبور کیا گیا، خریدا اور بیچا گیا، اور شدید جسمانی تشدد کے ذریعے ان سے مشقت کروائی گئی۔
اس کے باوجود اس نظام کے حامیوں کا مؤقف بالکل مختلف تھا۔ ان کے مطابق قیدی مزدوری دراصل سابق غلاموں کو نظم و ضبط اور محنت کی عادت سکھانے کا ایک ذریعہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کی سختی اور کام کا تجربہ انہیں ایک بہتر شہری بننے میں مدد دے گا۔ مگر تاریخ کے صفحات اس دعوے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آج جب مورخین اس دور کو دیکھتے ہیں تو انہیں یہ نظام آزادی اور غلامی کے درمیان ایک عجیب تضاد کی علامت نظر آتا ہے۔ ایک طرف قانون کہتا تھا کہ غلامی ختم ہو چکی ہے، اور دوسری طرف ہزاروں لوگ زنجیروں میں جکڑے ہوئے کانوں، کھیتوں اور کارخانوں میں کام کر رہے تھے۔ شاید اسی لیے قیدی مزدوری کی تاریخ ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی آزادی کا اعلان ہو جاتا ہے، مگر آزادی کی حقیقت آنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔
دنیا کے دیگر خطوں میں صورت حال کیسی تھی؟
امریکہ کا ”کنوکٹ لیزنگ“ (Convict Leasing) نظام اپنی نوعیت اور وحشت میں منفرد ضرور تھا، لیکن 19ویں اور 20ویں صدی کے آغاز میں دنیا کے دیگر حصوں میں بھی قیدیوں سے جبری مشقت لینے اور انہیں معاشی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے مختلف طریقے رائج تھے۔
ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران کالا پانی اور جبری مشقت اس کی ایک مثال ہے۔ برطانوی ہند میں قیدیوں کو صرف سزا ہی نہیں دی جاتی تھی بلکہ انہیں سلطنت کی توسیع اور تعمیرات کے لیے بطور ”سستی لیبر“ استعمال کیا جاتا تھا۔ انڈومان (کالا پانی) میں قیدیوں کو بھیجنے کا ایک بڑا مقصد جزیرے کو آباد کرنا اور وہاں گھنے جنگلات صاف کر کے بستی بنانا تھا۔ قیدیوں سے سڑکوں کی تعمیر، عمارتوں اور دلدلوں کی صفائی کا کام لیا جاتا تھا۔ ہندوستان کے کئی ریلوے ٹریکس اور نہریں قیدیوں کی محنت سے تیار ہوئیں۔ برطانوی قانون کے تحت ”بامشقت“ قید کا مطلب ہی یہ تھا کہ ریاست ان کے جسم سے معاشی فائدہ حاصل کرے گی۔
آسٹریلیا کی بات کریں تو اس کی جدید تاریخ کی بنیاد ہی قیدیوں کی مشقت پر رکھی گئی تھی۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں برطانیہ نے اپنے ہزاروں قیدیوں کو آسٹریلیا منتقل کیا۔ ان قیدیوں کو ”اسائنمنٹ سسٹم“ کے تحت نجی آبادکاروں (Settlers) کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ یہ نظام امریکہ کے نظام سے مشابہہ تھا کیونکہ نجی افراد ان قیدیوں سے اپنے کھیتوں اور گھروں میں کام لیتے تھے، جس کے بدلے انہیں صرف خوراک اور رہائش دینی پڑتی تھی۔
سوویت یونین (روس) کا گولاگ (Gulag) کون بھول سکتا ہے۔ اگرچہ یہ دور تھوڑا بعد کا ہے، لیکن روس میں قیدیوں سے جبری مشقت لینے کا نظام ”گولاگ“ دنیا کے بدترین نظاموں میں سے ایک تھا۔ اسٹالن کے دور میں لاکھوں قیدیوں کو سائبیریا کے برفانی علاقوں میں کان کنی، نہریں کھودنے اور ریلوے لائن بچھانے پر لگایا گیا۔ یہاں قیدیوں کی جان کی قیمت صفر تھی اور معاشی اہداف (مثلاً ”وائٹ سی کینال“ کی تعمیر) انسانی زندگیوں سے زیادہ اہم تھے۔
فرانسیسی گیانا (Devil’s Island) پر نظر دوڑائیں تو فرانس اپنے ”خطرناک“ قیدیوں کو جنوبی امریکہ کے قریب ”ڈیولز آئی لینڈ“ بھیج دیتا تھا۔ یہاں قیدیوں سے شدید گرمی اور بیماریوں کے سائے میں سخت مشقت لی جاتی تھی۔ فرانس کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ ان دور دراز علاقوں میں فرانسیسی موجودگی کو برقرار رکھنا اور وسائل نکالنا تھا۔
بر اعظم افریقہ میں بیلجیم، فرانس اور برطانیہ نے مقامی آبادی کو ”مجرم“ قرار دے کر یا ٹیکس ادا نہ کرنے کے جرم میں قیدی بنایا اور پھر ان سے ربڑ کے باغات اور سونے کی کانوں میں کام لیا۔ خاص طور پر بیلجیئم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے دور میں کانگو میں جو کچھ ہوا، وہ کنوکٹ لیزنگ سے بھی زیادہ بھیانک تھا۔ وہاں قیدیوں اور مقامی لوگوں کو جبری مشقت کے لیے اپاہج تک کر دیا جاتا تھا۔
اس تقابل کا خلاصہ یہ ہے کہ 19ویں صدی کے آخر تک دنیا کے بڑے صنعتی ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ قیدیوں سے مفت کام لینا ریاست کو طاقتور بنانے کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کہیں یہ کام براہِ راست حکومتیں کر رہی تھیں اور کہیں امریکہ کی طرح نجی سرمایہ کاروں کو ”موت کا ٹھیکہ“ دے دیا گیا تھا۔
ایک اہم فرق ان نشانہ بننے والے طبقات کا تھا۔ امریکی نظام میں یہ سارا عمل نسلی بنیادوں پر کھڑا تھا، جہاں خانہ جنگی کے بعد سابقہ غلاموں (سیاہ فاموں) کو دوبارہ زنجیروں میں جکڑنے کے لیے قانون کا سہارا لیا گیا۔ اس کے مقابلے میں برطانوی، فرانسیسی اور بیلجیئم کے نظاموں میں یہ مشقت نوآبادیاتی تسلط کا حصہ تھی۔ وہاں ”مجرم“ وہ مقامی لوگ کہلاتے تھے جو نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھاتے یا ان کے معاشی قوانین (مثلاً ٹیکس) کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ یوں جہاں امریکہ میں یہ ”اندرونی غلامی“ کی ایک شکل تھی، وہیں باقی دنیا میں یہ ”غیر ملکی قبضے“ کو برقرار رکھنے کا ایک وحشیانہ آلہ تھا۔
جدید دور میں اگرچہ 19ویں صدی جیسا ”کنوکٹ لیزنگ“ کا کھلم کھلا نظام قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے، لیکن انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور مستند محققین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جبری قیدی مشقت (Forced Prison Labor) آج بھی مختلف شکلوں میں دنیا کے کئی حصوں میں موجود ہے۔ عالمی ادارہ محنت (ILO) کے مطابق، دنیا بھر میں لاکھوں قیدیوں سے اب بھی ایسی مشقت لی جاتی ہے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق جبری مشقت کے زمرے میں آتی ہے۔
بہرحال اس جدید غلامی کی نذر ہو کر گمنام قبروں میں دفن ہونے والوں کی چیخیں آج بھی تاریخ کی راہداریوں میں سنائی دیتی ہیں۔ وہ لوگ جو آزادی کے خواب دیکھ کر جاگے تھے، انہیں قانون کی کتابوں نے دوبارہ قیدی بنا دیا۔ یہ کہانی صرف ماضی کا ایک قصہ نہیں، بلکہ یہ آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب انصاف کا ترازو منافع کی ترازو میں بدل جاتا ہے، تو انسانیت سب سے پہلے دم توڑتی ہے۔
حوالہ جات:
1۔ الیکس لیخٹن اسٹائن، ”ٹوائس دی ورک آف فری لیبر: دی پولیٹیکل اکانومی آف کنوکٹ لیبر ان دی نیو ساؤتھ“، ورسو پریس، 1996
2۔ میتھیو جے مانسینی، ”ون ڈائز، گیٹ این ادر: کنوکٹ لیزنگ ان دی امریکن ساؤتھ، 1866–1928“، یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا پریس، 1996
3۔ ڈگلس اے بلیکمن، سلیوری بائی این ادر نیم: دی ری-اینسلیومینٹ آف بلیک امریکنز فرام دی سول وار ٹو ورلڈ وار2“، 2008
4۔ لیون ایف لٹواک، ”ٹربل ان مائنڈ: بلیک سدرنرز ان دی ایج آف جِم کرو“، 1998




