
وائٹ ہاؤس میں لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں کی متوقع ملاقات
امریکی انتظامیہ کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی اور لبنانی نمائندوں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ حکام کے مطابق اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ بندی میں توسیع اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
امریکی حکومت اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے معاملے کو ایران کے ساتھ جاری تنازع سے الگ دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم ایران کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ لبنان کو کسی بھی وسیع تر مذاکراتی عمل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
یہ بھی واضح نہیں تھا کہ ملاقات سے کیا نتائج برآمد ہوں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حزب اللہ نے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا اور اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں میں موجود رہیں۔
ٹرمپ کا جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کا اعلان
اوول آفس میں اسرائیلی اور لبنانی حکام سے ملاقات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔
صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ملاقات نہایت مثبت رہی اور امریکہ لبنان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ اسے حزب اللہ سے لاحق خطرات سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔ اس ملاقات میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔
ٹرمپ نے اس پیش رفت کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے بھی ملاقات کے خواہاں ہیں۔
اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب کا بیان
جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے باوجود اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا کہ لبنانی حکومت حزب اللہ پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتی۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملے جنگ بندی کو متاثر کر سکتے ہیں اور ایسی کسی بھی کارروائی کے جواب میں اسرائیل اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کا نفاذ مکمل طور پر یقینی نہیں اور اس کا انحصار لبنانی فوج کی صلاحیت پر ہوگا۔
سرحدی جھڑپیں اور راکٹ حملوں کے دعوے
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے لبنان کی جانب سے داغے گئے متعدد گولوں کو فضا میں ہی روک لیا۔ شٹولا کے علاقے میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ اس نے مذکورہ علاقے پر راکٹ حملے کیے ہیں۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایک راکٹ لانچر کو نشانہ بنایا ہے جو ان حملوں میں استعمال ہوا تھا۔
یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے جب واشنگٹن میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری تھے۔
جنگ بندی کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافہ
اگرچہ جنگ بندی میں توسیع سے عالمی منڈیوں میں استحکام کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم ایشیائی مارکیٹ میں جمعے کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کی قیمت تقریباً 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 96 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً آبنائے ہرمز سے ترسیل میں رکاوٹ، عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر رہی ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری نازک سفارتی توازن کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں اس وقت تک محدود رکھے گا جب تک ایران کسی قابلِ قبول تجویز پر آمادہ نہیں ہوتا۔
اگرچہ سفارتی سطح پر پیش رفت ہوئی ہے اور جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے، تاہم زمینی حقائق اب بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ سرحدی جھڑپیں، حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے بیانات، اور عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں مکمل استحکام ابھی دور دکھائی دیتا ہے۔
جنگ بندی کی کامیابی کا انحصار نہ صرف اسرائیل اور لبنان بلکہ وسیع تر علاقائی سیاست اور عالمی سفارت کاری پر بھی ہوگا۔
____________________________




