کائنات میں گم شدہ اینٹی مَیٹر (ANTIMATTER)کا معما: کیا ایک پراسرار ذرّہ راز کھول دے گا؟

سنگت ڈیسک

ہم اپنے پیروں کے نیچے کی زمین سے لے کر کائنات کی دور ترین کہکشاؤں تک اپنے اردگرد جو کچھ بھی دیکھتے ہیں، سب مادّے سے بنا ہے۔ لیکن سائنس دانوں کے لیے یہ حقیقت ایک دیرینہ پہیلی بھی ہے۔ طبیعیات کے موجودہ نظریات کے مطابق بگ بینگ کے لمحے میں مادّہ اور اس کا مخالف، یعنی ضدِ یا اینٹی مَیٹر، تقریباً برابر مقدار میں پیدا ہونا چاہیے تھا، لیکن آج کی کائنات میں اینٹی مَیٹر نہایت کم نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقی اینٹی مَیٹر آخر کہاں غائب ہو گیا؟

اب تک طبیعیات دان اس معمّے کا قطعی جواب نہیں دے سکے، لیکن بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اس راز کی کنجی مادّہ اور اینٹی مَیٹر کے رویّے میں موجود کسی نہایت باریک فرق میں چھپی ہے۔ اور اس فرق کو سمجھنے کے لیے نظریں ایک پراسرار ذیلی ایٹمی ذرّے، نیوٹریونو پر مرکوز ہو گئی ہیں۔

برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی کی نظریاتی طبیعیات دان جیسیکا ٹرنر کہتی ہیں، ”یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیوٹریونو ہی مادّہ اور اینٹی مَیٹر کے عدم توازن کی وضاحت کرتے ہیں، لیکن بہت سے نظریاتی ماڈلز ایسے ہیں جو اس معمّے کو سمجھانے کے لیے نیوٹریونو کو اہم کردار دیتے ہیں۔“

مادّہ اور اینٹی مَیٹر کیا ہیں؟

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سائنس دان جب مادّے کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد وہ بنیادی اجزا ہوتے ہیں، جن سے کائنات کی ہر چیز بنی ہے، جیسے پروٹون اور نیوٹران، جو ایٹم کے مرکزے بناتے ہیں، اور ان کے گرد گردش کرنے والے ہلکے ذرّات جیسے الیکٹران۔

اینٹی میٹر سننے میں اگرچہ کسی سائنسی فلم کی اصطلاح لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مادّے کا ہی عکس ہوتا ہے۔ اکثر فرق صرف برقی چارج کا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پوزیٹرون، جو دریافت ہونے والا پہلا اینٹی میٹر ذرّہ تھا، وزن میں الیکٹران کے برابر ہوتا ہے لیکن اس کا چارج منفی کے بجائے مثبت ہوتا ہے۔

کچھ ذرّات کے معاملے میں صورت حال کچھ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر فوٹون کو اپنا ہی مخالف ذرّہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ اینٹی نیوٹران عام نیوٹران سے اس لحاظ سے مختلف ہوتا ہے کہ وہ عام کوارکس کے بجائے اینٹی کوارکس سے بنا ہوتا ہے۔

 اینٹی میٹر (Antimatter)کہاں پایا جاتا ہے؟

اینٹی میٹر کوئی فرضی چیز نہیں بلکہ فطرت میں واقعی موجود ہے۔ یہ کاسمک ریز، گرج چمک والے بادلوں اور بعض قسم کی تابکار تحلیل کے دوران پیدا ہوتا رہتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے جسم میں بھی اس کی نہایت معمولی مقدار بنتی رہتی ہے۔ انسانوں کے جسم اور یہاں تک کہ کیلے میں بھی تابکار پوٹاشیم موجود ہوتا ہے، جو انتہائی قلیل مقدار میں پوزیٹرون خارج کرتا ہے، اور یہی پوزیٹرون دراصل اینٹی مَیٹر ہیں۔

سائنس دانوں نے تجربہ گاہوں میں ذراتی پارٹیکل ایکسیلیریٹرز کے ذریعے اینٹی مَیٹر تیار بھی کیا ہے، لیکن یہ عمل اتنا پیچیدہ اور مہنگا ہے کہ سائنس فکشن میں دکھائے جانے والے اینٹی مَیٹر سے چلنے والے راکٹ یا سیاروں کو تباہ کرنے والے ہتھیار ابھی حقیقت سے بہت دور ہیں۔

 جب مادّہ اور اینٹی میٹر آمنے سامنے آتے ہیں۔۔

مادّہ اور اینٹی مَیٹر کا سامنا ہو جائے تو دونوں فوراً فنا ہو جاتے ہیں اور اپنی پوری کمیت توانائی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ عمل آئن اسٹائن کی مشہور مساوات E = mc² کے مطابق ہوتا ہے، جس کے مطابق معمولی سی کمیت بھی بہت بڑی توانائی میں بدل سکتی ہے۔

اسی وجہ سے اینٹی میٹر کو بڑی مقدار میں محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ وہ معمولی سے رابطے پر بھی عام مادّے کے ساتھ ٹکرا کر ختم ہو جاتا ہے۔ نظریاتی طور پر اینٹی مَیٹر سے بنے سیارے یا ستارے بھی موجود ہو سکتے ہیں، لیکن اب تک کائنات میں ایسی کسی شے کا سراغ نہیں ملا۔

 اصل سوال کہاں پیدا ہوتا ہے؟

یہیں سے ایک بنیادی معما جنم لیتا ہے۔ اگر بگ بینگ کے وقت مادّہ اور اینٹی مَیٹر برابر مقدار میں پیدا ہوئے تھے تو دونوں کو ایک دوسرے کو مکمل طور پر فنا کر دینا چاہیے تھا۔ ایسی صورت میں کائنات صرف توانائی پر مشتمل ہوتی، نہ ستارے ہوتے، نہ سیارے، اور نہ ہی زندگی۔۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کائنات مادّے سے بھری ہوئی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ ابتدائی کائنات میں کوئی ایسا عمل ضرور ہوا ہوگا، جس نے مادّے کو اینٹی مَیٹر پر معمولی سی برتری دے دی۔ یہی معمولی فرق بعد میں پوری کائنات کی صورت اختیار کر گیا۔

اسٹینڈرڈ ماڈل کی محدودیت

مسئلہ یہ ہے کہ طبیعیات کا موجودہ بنیادی نظریہ، ”اسٹینڈرڈ ماڈل آف پارٹیکل فزکس“ اس فرق کی مکمل وضاحت نہیں کر پاتا۔ اسی وجہ سے سائنس دان ایسے نظریات تلاش کر رہے ہیں جو اس ماڈل سے آگے کی طبیعیات کی طرف اشارہ کریں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نیوٹریونو اہم کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔

 نیوٹریونو(Neutrino): کائنات کا خاموش مسافر

نیوٹریونو نہایت ہلکے اور برقی چارج سے محروم ذرّات ہوتے ہیں۔ ان کا نام لاطینی لفظ سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ہے ”چھوٹا غیر جانبدار ذرّہ“۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹینڈرڈ ماڈل کے مطابق انہیں بے وزن ہونا چاہیے تھا، لیکن 1990 کی دہائی کے تجربات نے ثابت کیا کہ ان کا وزن صفر نہیں بلکہ نہایت معمولی ہے، الیکٹران سے بھی کم از کم دس لاکھ گنا ہلکا۔

چونکہ نیوٹریونو پہلے ہی نظریات کو حیران کر چکے ہیں، اس لیے سائنس دانوں کو امید ہے کہ ان کے مزید راز طبیعیات کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔

نیوٹریونو کو پکڑنا کیوں مشکل ہے؟

نیوٹریونو کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ وہ تقریباً کسی بھی ذرّے کے ساتھ تعامل نہیں کرتے۔

ہر سیکنڈ سورج سے آنے والے تقریباً ساٹھ ارب نیوٹریونو آپ کے جسم کے ہر مربع سینٹی میٹر سے گزر جاتے ہیں۔ اگر وہ ہمارے جسم کے ایٹموں سے ٹکراتے تو شاید ہمیں شدید نقصان پہنچاتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے سیدھے گزر جاتے ہیں۔

اسی لیے طبیعیات دان کہتے ہیں کہ ممکن ہے انسان اپنی پوری زندگی میں ایک بھی نیوٹریونو کے ساتھ تعامل نہ کرے۔

 نیوٹریونو کی عجیب تبدیلیاں

تجربات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیوٹریونو سفر کے دوران اپنی شناخت بدلتے رہتے ہیں۔ اس عمل کو ”نیوٹریونو آسِلیشن“ کہا جاتا ہے۔

سائنس دان نیوٹریونو کی تین بنیادی اقسام یا ”فلیورز“ بیان کرتے ہیں: الیکٹران نیوٹریونو، میون نیوٹریونو اور ٹاؤ نیوٹریونو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں کے وزن میں بھی معمولی فرق پایا جاتا ہے۔

 سی پی CP سمٹری کیا ہے؟

نیوٹریونو کی یہی خصوصیات طبیعیات کے ایک اہم اصول کو جانچنے میں مدد دیتی ہیں جسے چارج–پیریٹی سمٹری (CP symmetry) کہا جاتا ہے۔

اس اصول کے مطابق اگر ہم کسی ذرّے کا چارج الٹ دیں، یعنی مادّے کو اینٹی مَیٹر میں بدل دیں اور ساتھ ہی اس کی آئینہ دار شکل بنائیں، تو اس کا رویّہ ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا اصل ذرّے کا تھا۔

اگر ایسا نہ ہو تو اسے سی پی سمٹری کی خلاف ورزی کہا جاتا ہے۔ اور یہی خلاف ورزی اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ کائنات میں مادّہ کیوں غالب ہے۔



 ایک بڑا تجربہ: DUNE

اسی راز کو سمجھنے کے لیے ایک عظیم تجربہ تیار کیا جا رہا ہے جسے ڈیپ انڈرگراؤنڈ نیوٹریونو ایکسپیریمنٹ (DUNE) کہا جاتا ہے۔

اس منصوبے کے تحت امریکہ میں فرمی لیب سے نیوٹریونو اور اینٹی نیوٹریونو کی طاقتور شعاع تقریباً 800 میل دور ساؤتھ ڈکوٹا کی زیر زمین لیبارٹری تک بھیجی جائے گی۔ یہ ذرّات زمین کے اندر سے سیدھے گزر جائیں گے۔

دونوں مقامات پر نصب حساس ڈیٹیکٹر یہ دیکھیں گے کہ سفر کے دوران نیوٹریونو کس طرح اپنی شکل بدلتے ہیں اور آیا ان کا رویّہ اینٹی نیوٹریونو سے مختلف ہے یا نہیں۔

توقع ہے کہ اس تجربے سے 2029 کے قریب اہم ڈیٹا ملنا شروع ہو جائے گا۔

 ایک ممکنہ بڑی دریافت

بعض طبیعیات دانوں کے مطابق اگر نیوٹریونو میں سی پی سمٹری کی خلاف ورزی ثابت ہو گئی تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نیوٹریونو کی دو قسمیں موجود ہیں: ہلکے بائیں ہاتھ والے نیوٹریونو (جنہیں ہم دیکھ چکے ہیں) اور بہت بھاری دائیں ہاتھ والے نیوٹریونو (جو ابھی صرف نظریاتی ہیں)

ممکن ہے کہ یہ بھاری نیوٹریونو بگ بینگ کے فوراً بعد موجود تھے اور جلد تحلیل ہو گئے۔ اسی عمل نے شاید مادّے کو اینٹی مَیٹر پر برتری دی ہو۔

کیا نیوٹریونو اپنے ہی مخالف ہو سکتے ہیں؟

ایک اور حیران کن امکان یہ بھی ہے کہ نیوٹریونو دراصل اپنے ہی مخالف ذرّے ہوں، یعنی نیوٹریونو اور اینٹی نیوٹریونو بنیادی طور پر ایک ہی چیز ہوں۔

اگر یہ بات درست ثابت ہو گئی تو یہ الیکٹران یا کوارکس جیسے عام ذرّات سے بالکل مختلف خاصیت ہوگی۔

اس نظریے کو پرکھنے کے لیے سائنس دان ایک نہایت نایاب عمل کی تلاش میں ہیں جسے نیوٹریونو لیس ڈبل بیٹا ڈیکے کہا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل دریافت ہو گیا تو یہ ثبوت ہوگا کہ نیوٹریونو واقعی اپنے ہی مخالف ہو سکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے جاپان، کینیڈا، اسپین اور اٹلی کی زیر زمین تجربہ گاہوں میں کئی تجربات جاری ہیں۔



کائنات کو سمجھنے کی نئی امید

نیوٹریونو آج بھی طبیعیات کے سب سے پراسرار ذرّات میں شمار ہوتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ ان کے راز کھلنے لگے ہیں۔

ممکن ہے کہ انہی کی مدد سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہماری کائنات میں مادّہ کیوں غالب ہے، اور کیوں ایسی کائنات وجود میں آئی جس میں ستارے، سیارے اور بالآخر ہم جیسے تجسس رکھنے والے انسان پیدا ہو سکیں۔

جیسا کہ جیسیکا ٹرنر کہتی ہیں، ”ہم طبیعیات کے ایک نہایت سنسنی خیز دور کے دہانے پر کھڑے ہیں۔“



 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button