تھلاپتی کا تختِ تمل ناڈو: اسکرین کے ہیرو سے ریاست کے وزیرِ اعلیٰ تک کا سفر

سنگت ڈیسک

تمل ناڈو کی سیاست میں 10 مئی 2026 کی صبح ایک ایسی تاریخ رقم کر گئی جس نے پچھلی آدھی صدی کے سیاسی جمود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ چنائی کے نہرو اسٹیڈیم میں جب 51 سالہ جوزف وجے چندر شیکھر نے ریاست کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا، تو یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک عہد کا خاتمہ اور ایک نئے ”ٹی وی کے“ (TVK) دور کا آغاز تھا۔ وجے، جنہیں کروڑوں مداح پیار سے ”تھلا پتی“ (کمانڈر یا سپہ سالار) کہتے ہیں، اب باقاعدہ طور پر تمل ناڈو کے عوامی کمانڈر بن چکے ہیں۔

اس پروقار تقریب میں جہاں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور فلم انڈسٹری کے بڑے ستاروں نے شرکت کی، وہیں وجے کے ساتھ ان کی کابینہ کے نو دیگر وزراء نے بھی حلف اٹھا کر ریاست کی باگ ڈور سنبھالی۔

 بچپن اور فلمی سفر: ”نجات دہندہ“ کا روپ

جوزف وجے کی زندگی کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ 22 جون 1974 کو پیدا ہونے والے وجے کے والد ایس اے چندر شیکھر ایک مشہور فلم ڈائریکٹر اور والدہ شوبھا چندر شیکھر ایک نامور گلوکارہ تھیں۔ فلمی ماحول گھر میں ہی میسر تھا، لہٰذا محض 10 سال کی عمر میں انہوں نے فلم ”ویتری“ (1984) میں بطور چائلڈ آرٹسٹ قدم رکھا۔

تاہم، وجے کی شخصیت میں خاموشی اور گہرائی ان کی چھوٹی بہن ودیا کی موت کے بعد آئی۔ 18 سال کی عمر میں انہوں نے بطور ہیرو فلم ”نالایا تھیرپو“ (1992) سے آغاز کیا، جو کہ ناکام رہی۔ لیکن وجے نے ہمت نہ ہاری۔

1996 میں فلم ”پووے اناکاگا“ وجے کے کیریئر کا پہلا بڑا موڑ ثابت ہوئی جس نے انہیں گھر گھر میں مقبول کر دیا۔ اس کے بعد ”کادھلوکو مریادھائی“ اور ”تھُلا دھا منم تُلُم“ جیسی رومانوی فلموں نے انہیں تمل سنیما کا نیا اسٹار بنا دیا۔ 2003 میں فلم ”تھیروملائی“ سے انہوں نے اپنا امیج ایک ایکشن ہیرو کے طور پر بدلا اور پھر ”گھلی“ (2004) اور ”پوکری“ (2007) جیسی بلاک بسٹر فلموں نے انہیں ”تھلا پتی“ کے لقب سے نواز دیا۔

بعد ازاں وجے کی فلموں میں آہستہ آہستہ سماجی اور سیاسی پیغامات شامل ہونے لگے تھے۔ ”تھلاوا“، ”مرسل“ اور ”سرکار“ جیسی فلموں میں انہوں نے نظام کی خرابیوں، جی ایس ٹی اور انتخابی نظام پر سخت سوالات اٹھائے، جس کی وجہ سے وہ کئی بار سیاسی عتاب کا شکار بھی ہوئے، لیکن یہی وہ وقت تھا جب عوام میں ان کا ایک ”نجات دہندہ“ کے طور پر روپ ابھرا اور ان کے مداحوں کو ان میں ایک سیاسی لیڈر نظر آنے لگا تھا۔

 سیاسی بیداری: مداحوں سے ”ورچوئل جنگجوؤں“ تک

وجے کا سیاسی سفر اچانک شروع نہیں ہوا۔ انہوں نے دہائیوں پہلے ہی اپنے فین کلبوں کو منظم کرنا شروع کر دیا تھا۔ 2009 میں ان کے لاکھوں مداحوں کو ”وجے مکل ایئکم“ (عوامی تحریک) میں ضم کر دیا گیا، جس نے مقامی سطح پر فلاحی کاموں کے ذریعے اپنی جڑیں مضبوط کیں۔

فروری 2024 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنی سیاسی جماعت ”تملگا ویترِی کڑگم“ (TVK) کے قیام کا اعلان کیا اور مداحوں کو حیران کر دیا جب انہوں نے کہا کہ ، ”میں اپنے کیریئر کے عروج پر فلمی دنیا کو خیرباد کہہ رہا ہوں تاکہ عوام کی خدمت کر سکوں۔“

اکتوبر 2024 میں وکرونڈی میں منعقدہ ان کی پہلی سیاسی کانفرنس میں 8 لاکھ سے زائد افراد کی شرکت نے سیاسی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی۔ وجے نے واضح کیا کہ ان کی سیاست ”سیکولر سماجی انصاف“ اور ”تمل قوم پرستی“ پر مبنی ہوگی۔

انہوں نے اپنے 85,000 فین کلبوں کو ہولوگرام، ورچوئل ریلیوں اور مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرنے والے ”ورچوئل جنگجوؤں“ میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے والدین کو اپنے ”وجے ماما“ (انکل) کو ووٹ دینے کے لیے قائل کریں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وجے کی سب سے بڑی طاقت پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوان اور خواتین ووٹرز تھے، جنہوں نے انہیں ‘نئی امید’ کے طور پر دیکھا۔

 2026 کے انتخابات: چھ دہائیوں کے جمود کا خاتمہ

تمل ناڈو کی سیاست پچھلے 50 سالوں سے دو بڑی جماعتوں، ڈی ایم کے (DMK) اور اے آئی اے ڈی ایم کے (AIADMK) کے گرد گھوم رہی تھی۔ وجے نے ایک ”بیرونی شخص“ کے طور پر اس دو جماعتی نظام کو توڑا۔ انتخابی نتائج نے سب کو دنگ کر دیا جب ”ٹی وی کے“ نے 234 میں سے 108 نشستیں حاصل کیں۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اداکار کی جماعت نے طاقتور موجودہ حکمران ڈی ایم کے کو شکست دی، جس کی قیادت ایم کے اسٹالن کر رہے تھے۔ ایم کے اسٹالن خود بھی اپنی روایتی نشست کولاتھور سے ہار گئے۔ یوں 1967 کے بعد پہلی بار تمل ناڈو میں کسی غیر دراوڑی جماعت نے اقتدار حاصل کیا۔

وجے اکثریت سے 10 نشستیں پیچھے تھے، انڈیا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس، جس کے پاس پانچ نشستیں ہیں، نے نتائج کے چند گھنٹوں کے اندر ہی سی جوزف وجے کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم ریاستی گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے زور دیا کہ حکومت سازی کے لیے درکار 118 ارکان کی حمایت کا واضح ثبوت پیش کیا جائے۔ اس طرح ایک نیا سیاسی ڈرامہ شروع ہوا۔ ان کی جماعت کے قائدین اور اتحادیوں نے گورنر کی جانب سے وجے کو حکومت بنانے کی دعوت نہ دینے پر تنقید کی تھی۔ بعض آئینی ماہرین کے مطابق ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں گورنر نے واحد سب سے بڑی جماعت یا اتحاد کو حکومت بنانے کی دعوت دی اور انھیں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے وقت دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وجے کو اس موقع سے محروم رکھنا نا انصافی ہے۔

اس دوران ’ٹی وی کے‘ کے مستقبل پر بے یقینی چھائی ہوئی تھی۔ انڈین میڈیا میں ہر طرح کے ممکنہ سیاسی جوڑ توڑ کی خبریں سامنے آئیں۔ ایک امکان یہ بھی تھا کہ الیکشن ہارنے والی دونوں جماعتیں مل کر حکومت بنانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ مخالف جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ کی خبروں کے درمیان سنیچر کی شب وجے نے کانگریس کی (5 نشستوں سمیت دو دو نشتستیں جیتنے والی تین دیگر چھوٹی جماعتوں (سی پی آئی، سی پی آئی-ایم اور وی سی کے) کی حمایت حاصل کر کے اپنی اکثریت ثابت کر دی۔

 منشور اور معاشی وژن: 1.5 کھرب ڈالر کی معیشت

وجے نے محض جذباتی نعروں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک ٹھوس معاشی وژن پیش کیا۔ انہوں نے اگلی دہائی کے دوران تمل ناڈو کو 1.5 کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کا عہد کیا۔ ان کے منشور کے بڑے نکات میں شامل ہے:

● خواتین کو شادی کے وقت 8 گرام سونا اور گھر کی سربراہ خاتون کو 2500 روپے ماہانہ۔
● خاندانوں کو سالانہ 6 مفت ایل پی جی سلنڈر اور بسوں میں مفت سفر۔
● تمل قوم پرستی اور سیکولر سماجی انصاف کا فروغ۔

 حلف برداری: ایک نئے دور کا طلوع

وجے کی حلف برداری کا موازنہ 1977 کے میٹنی آئیڈیل ایم جی رامچندرن (MGR) سے کیا جا رہا ہے، جنہوں نے پہلی بار فلمی دنیا سے نکل کر ریاست کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ چنئی کے نہرو اسٹیڈیم میں وجے کی حلف برداری کی تقریب ہوئی، جس میں کانگرس کے رہنما راہل گاندھی اور فلم انڈسٹری کے دیگر اداکاروں سمیت متعدد معروف شخصیات شریک تھیں۔ حلف اٹھانے کے بعد وجے نے تمل ناڈو کے عوام کے نام اپنے پہلے پیغام میں کہا: ”مجھے مذاق کا نشانہ بنایا گیا، مجھ پر حملے ہوئے، لیکن میں میدانِ جنگ میں اس لیے کھڑا رہا تاکہ عوام کا قرض اتار سکوں۔ آج سے تمل ناڈو میں ایک ایسے دور کا آغاز ہو رہا ہے جہاں کوئی بادشاہ نہیں ہوگا، صرف خادم ہوں گے۔“

آج تمل ناڈو کے عوام وجے کی آخری فلم ”جنا نائگن“ کی ریلیز کے منتظر ہیں، جو ان کے فلمی سفر کا اختتام اور سیاسی زندگی کا مکمل آغاز ہے۔ تمل ناڈو کی سیاست میں اب سنیما کا طلسم اور اقتدار کا اختیار ایک بار پھر یکجا ہو چکا ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس پر ہیں کہ کیا یہ ”تھلا پتی“ اسکرین کی طرح حقیقی زندگی میں بھی ایک ”سپر ہٹ“ وزیرِ اعلیٰ ثابت ہو سکے گا؟

بڑے پردے سے اقتدار کے ایوانوں تک

تامل ناڈو کی سیاست محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ ایک سنیماٹک ایپک ہے، جہاں سلور اسکرین کے سائے اسمبلی کی کرسیوں تک پھیل جاتے ہیں۔ یہاں سیاست اور سنیما کا رشتہ ایسا ہے جیسے فلم کا اسکرپٹ اور اس کی موسیقی دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔

تامل ناڈو کی مٹی میں یہ روایت جڑ پکڑ چکی ہے کہ جو عوام کے دلوں پر راج کرتا ہے، وہی ریاست کی باگ ڈور سنبھالتا ہے۔ اس کہکشاں میں کئی ایسے نام چمکے جنہوں نے کیمرے کی چکا چوند کو سیاسی ریلیوں کے جوش و خروش میں بدل دیا:

● ایم جی رامچندرن (MGR): وہ پہلے سپرسٹار تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ فلمی ہیرو عوام کا مسیحا بن سکتا ہے۔
● جے للیتا: فلمی دنیا کی ملکہ، جو 14 سال تک ریاست کی ‘امّا’ بن کر اقتدار کے تخت پر براجمان رہیں۔
● دیگر ستاروں کی کہکشاں: رجنی کانت، کمل ہاسن، خوشبو اور وجے کانت—ان سب نے اپنی مقبولیت کو سیاسی طاقت میں بدلنے کی کوشش کی۔

سیاست کے اس کھیل میں کامیابی کا گر کیا ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ عوام اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں جو سب کچھ چھوڑ کر ان کا ہو جائے۔

ایم جی آر اور جے للیتا نے اقتدار کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے فلمی دنیا کو الوداع کہہ دیا تھا۔ اس کے برعکس، کمل ہاسن کا ‘ہائبرڈ ماڈل’ (سنیما اور سیاست ساتھ ساتھ) انتخابی میدان میں وہ جادو نہ جگا سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

اب اس اسکرپٹ میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ جوزف وجے اس قدیم روایت کو زندہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ ناقدین کے نزدیک ان کا موازنہ رجنی کانت یا کمل ہاسن سے کرنا قبل از وقت ہے، لیکن ان کے پاس کچھ ایسے پتے ہیں جو بازی پلٹ سکتے ہیں: جیسا کہ نوجوان نسل میں ان کی بے پناہ مقبولیت، عوامی نبض کی سمجھ اور وہ ‘پاپولسٹ’ (عوام پسند) سنیما کے فن میں ماہر ہیں۔

فلمی نقاد پریتم کے چکرورتی کا ماننا ہے کہ وجے کی یہ مقبولیت کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک منظم محنت کا نتیجہ ہے۔

تامل ناڈو کی سیاست کے اس نئے باب میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا وجے کا ’سنیماٹک کرشمہ‘ انہیں حقیقی زندگی کا ’تھلاپتی‘ (سپہ سالار) بنا پاتا ہے یا نہیں؟

___________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button