
تاریخ کے نقشے پر بعض ریاستیں جغرافیائی ضرورت کے تحت وجود میں آتی ہیں، لیکن پروشیا کی کہانی اس سے بالکل مختلف ہے۔ مشہور مؤرخ سباسٹیان ہیفنر کے بقول، "دنیا کو شاید پروشیا کی ضرورت نہیں تھی اور یہ اس کے بغیر بھی اپنا کام چلا سکتی تھی، لیکن یہ ریاست ہر صورت وجود میں آنا چاہتی تھی۔” یہ ایک ایسی چھوٹی اور بکھری ہوئی ریاست تھی جسے یورپی طاقتوں کی صف میں شامل ہونے کی کوئی دعوت نہیں دی گئی تھی، بلکہ اس نے اپنے جنون، بے مثال نظم و ضبط اور طاقت کے بل بوتے پر عالمی سیاست میں زبردستی اپنی جگہ بنائی۔ یہ کسی قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ انسانی عزم اور عسکری قوت کی تخلیق تھی۔
مشرقِ وسطیٰ سے بالٹک تک: تلوار اور صلیب کا سفر
پروشیا کی جڑیں جرمنی کے دل میں نہیں بلکہ بارہویں صدی کے گرم ساحلی شہر عکا (Acre) میں پیوست تھیں۔ یہاں "ٹیوٹونک نائٹس” نامی ایک مذہبی عسکری گروہ تشکیل پایا، جو درحقیقت "لالچی کرائے کے صلیبی جنگجوؤں” کا ایک جتھہ تھا۔ یہ جنگجو صرف عقیدے کے علمبردار نہیں تھے بلکہ مستقل طور پر مال و دولت اور نئی زمینوں کی تلاش میں رہتے تھے۔
1211ء میں یہ گروہ ہنگری کے بادشاہ کی مدد کے لیے ٹرانسلوانیا (Transylvania) پہنچا اور پھر وہاں سے بالٹک کے ساحلوں کا رخ کیا۔ یہاں انہوں نے "تلوار اور صلیب” کی پالیسی اپنائی اور "اولڈ پروشین” کہلانے والے مقامی لوگوں کا اس بیدردی سے صفایا کیا کہ آج ان کی زبان اور ثقافت کا نام و نشان تک باقی نہیں۔ یہ ایک ایسی "جنگجو سوسائٹی” تھی جس نے خونریزی کے ذریعے اپنی جگہ بنائی اور آگے چل کر اسی بنیاد پر پروشیا کی عمارت کھڑی ہوئی۔
جغرافیائی بکھراؤ اور خود مختاری کا جادو
1648ء میں تیس سالہ جنگ کے خاتمے پر پروشیا کے حکمران خاندان "ہوہنزولرن” (Hohenzollern) کو پانچ ایسے علاقوں کا کنٹرول ملا جو ایک دوسرے سے جغرافیائی طور پر مکمل کٹے ہوئے تھے۔ ان بکھرے ہوئے ٹکڑوں کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہیں تھا اور ہر علاقے کے اپنے قوانین اور بااثر امراء تھے۔ اس جغرافیائی ڈراؤنے خواب نے ریاست کو مجبور کیا کہ وہ ایک ایسی طاقتور فوج بنائے جو ان علاقوں کے درمیان ایک "پل” کا کام کر سکے۔
"گریٹ الیکٹر” فریڈرک ولیم نے سترہویں صدی کے وسط میں کمالِ ہوشیاری سے پولینڈ اور سویڈن کے درمیان جنگ کا فائدہ اٹھایا۔ اس نے دوہری وفاداریوں کا کھیل کھیلتے ہوئے پروشیا کو پولینڈ کی باجگزاری (Vassalage) سے آزاد کروایا۔ اس کے بیٹے، فریڈرک اول نے 1701ء میں ایک قدم مزید آگے بڑھایا۔ ہپسبرگ خاندان کو اپنی بہترین تربیت یافتہ فوج ادھار دے کر اس نے "تاج” حاصل کیا۔ تاہم، سفارتی نزاکتوں کے پیشِ نظر وہ "پروشیا کا بادشاہ” (King of Prussia) نہیں بلکہ "پروشیا میں بادشاہ” (King in Prussia) کہلایا، تاکہ نہ تو مقدس رومی سلطنت ناراض ہو اور نہ ہی پولینڈ کے حقوق پر حرف آئے۔
ریاست جس کے پاس فوج نہیں تھی، بلکہ فوج جس کے پاس ریاست تھی
پروشیا کا اصل عسکری عروج "سولجر کنگ” فریڈرک ولیم اول کے دور میں شروع ہوا۔ اس نے پروشیا کے بکھرے ہوئے علاقوں کو ایک مشین کی طرح جوڑ دیا۔ اس کے نزدیک ایک سپاہی کی قیمت دنیا کی تمام دولت سے زیادہ تھی۔ اس نے ہر نو میں سے ایک مرد کو فوج میں شامل کیا، جس سے پروشیا کی فوج 83 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس نے ایک ایسا کلچر پیدا کیا جہاں ایک وردی پوش فوجی کو عام شہری پر برتری حاصل تھی اور امراء کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا باعثِ فخر بنا دیا گیا۔
ریاست کے کل بجٹ کا 80 فیصد (یعنی چار بٹا پانچ حصہ) صرف فوج پر صرف ہوتا تھا۔ اس حیرت انگیز صورتحال پر فرانسیسی مفکر والٹیئر (Voltaire) نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
"کچھ ریاستوں کے پاس فوج ہوتی ہے، لیکن یہاں پروشین فوج ایک ایسی ہستی ہے جس کے پاس اپنی ایک ریاست ہے۔”
مہاجرین کی سرزمین: ایک "تیار شدہ” قوم کی تعمیر
پروشیا کی آبادی تیس سالہ جنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی تھی۔ "سولجر کنگ” نے اپنی فوج اور معیشت کو افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا: اس نے پورے یورپ سے مظلوم مہاجرین کو پروشیا آنے کی دعوت دی۔
1700ء تک برلن کی ایک تہائی آبادی فرانسیسی پروٹسٹنٹ (Huguenots) مہاجرین پر مشتمل تھی، جو مذہبی ظلم و ستم سے بھاگ کر یہاں آئے تھے۔ ان ہنرمند مہاجرین کو پروشیا میں صرف زمین نہیں دی گئی، بلکہ انہیں ایک "تیار شدہ ریاست” اور "تیار شدہ انتظامیہ” فراہم کی گئی۔ پروشیا نے پہلے اپنا ڈھانچہ بنایا اور پھر اس میں بسنے کے لیے بہترین دماغ اور محنتی ہاتھ درآمد کیے۔ یہ مہاجرین ہی تھے جنہوں نے پروشیا کی بنجر زمینوں کو زرخیز بنایا اور اسے ایک معاشی طاقت میں بدل دیا۔
فریڈرک دی گریٹ: فلسفی بادشاہ اور سائلیسیا کی دولت
پروشیا کی تاریخ کا سب سے درخشاں باب فریڈرک اعظم (فریڈرک دوم) کا دور ہے۔ وہ اپنے دادا کی طرح آرٹ اور فلسفے کا دلدادہ تھا اور اپنے باپ کی طرح ایک سخت گیر فوجی ذہن رکھتا تھا۔ اس نے تخت نشین ہوتے ہی اپنی فوج کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر دی، جس کے لیے اس نے پروشین کفایت شعاری (Thrift) کا سہارا لیا۔
فریڈرک نے آسٹریا سے "سائلیسیا” (Silesia) کا علاقہ چھین کر پروشیا کی تقدیر بدل دی۔ یہ علاقہ کوئلے کے ذخائر سے مالا مال اور معاشی طور پر انتہائی مستحکم تھا، جس نے پروشیا کو ایک علاقائی طاقت سے نکال کر "عظیم طاقت” (Great Power) بنا دیا۔ اگرچہ اپنے پہلے بڑے معرکے (Battle of Mollwitz) میں وہ گھبرا کر میدانِ جنگ سے فرار ہو گیا تھا، لیکن اس تجربے نے اسے وہ ہمت دی کہ بعد میں اس نے "سات سالہ جنگ” میں تنِ تنہا آسٹریا، فرانس اور روس جیسے تین بڑے یورپی ممالک کے اتحاد کا مقابلہ کیا اور پروشیا کا دفاع کیا۔
سیڈووا کی جنگ: وہ لمحہ جب آسٹریا کی بالادستی ختم ہوئی
1866 کی آسٹرو-پروشین جنگ، جسے "سات ہفتوں کی جنگ” بھی کہا جاتا ہے، وہ موڑ تھا جہاں یورپی سیاست کا پلڑا ہمیشہ کے لیے پروشیا کے حق میں جھک گیا۔ اس جنگ کا سب سے بڑا معرکہ سیڈووا (Sadowa) کی لڑائی تھی، جو اس وقت کی انسانی تاریخ کی دوسری بڑی جنگ تھی۔ فیلڈ مارشل ہیلموت وان مولٹکے نے اپنی تزویراتی مہارت سے پروشیا کی تین افواج کو میدان میں اتارا: ایلب آرمی (جس کی قیادت ہیروارٹ وان بٹن فیلڈ کر رہے تھے)، پہلی فوج (پرنس فریڈرک چارلس کی قیادت میں) اور دوسری فوج۔
جنگ کے دوران ایک وقت ایسا آیا جب آسٹریا کی برتری دکھائی دے رہی تھی، لیکن عین فیصلہ کن لمحے پر ولی عہد فریڈرک ولیم کی قیادت میں دوسری فوج کے ایک لاکھ تازہ دم سپاہی میدان میں پہنچ گئے اور آسٹریا کی صفیں الٹ دیں۔ اس عبرت ناک شکست کے باوجود بسمارک نے کمال دور اندیشی دکھائی؛ اس نے پروشیا کے بادشاہ کو آسٹریا کو مکمل طور پر ذلیل کرنے سے روکا تاکہ اسے مستقبل میں ایک اتحادی کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ اس فتح کے بعد آسٹریا جرمن معاملات سے ہمیشہ کے لیے باہر ہو گیا اور "شمالی جرمن کنفیڈریشن” کے قیام نے جرمن سلطنت کی راہ ہموار کر دی۔
پروشیا کا عروج محض اتفاق نہیں بلکہ چار نسلوں کے وژن، کمالِ ہوشیاری اور بے مثال عسکری نظم و ضبط کا حاصل تھا۔ ایک ایسی ریاست جس کے پاس نہ تو قدرتی سرحدیں تھیں اور نہ ہی جغرافیائی یکجہتی، اس نے صرف اپنے "ارادے” کے بل بوتے پر جدید جرمنی کی بنیاد رکھی۔ پروشیا کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ اگر انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہو اور قومی عزم غیر متزلزل، تو دنیا کے نقشے پر اپنی جگہ خود بنائی جا سکتی ہے۔
1871 میں فرانس کو شکست دینے کے بعد ورسائے کے محل میں "جرمن سلطنت” کا اعلان ہوا اور پروشیا اس نئی عالمی طاقت کا دل بن گیا۔ لیکن وقت کی گرد نے اس عظیم ریاست کا نام و نشان مٹا دیا۔ 1918 میں پہلی جنگِ عظیم کی شکست کے بعد پروشیا سے اس کی بادشاہت چھن گئی اور یہ وائیمار جمہوریہ کے اندر ایک "فری سٹیٹ” (Free State of Prussia) بن گیا۔ 1932 میں سیاسی عدم استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چانسلر وان پاپن نے پروشیا کی ریاستی حکومت کو تحلیل کر کے براہِ راست کنٹرول حاصل کر لیا۔
نازی دور میں پروشیا کی جغرافیائی حیثیت ختم کر کے اسے چھوٹے انتظامی یونٹوں (Gau) میں بانٹ دیا گیا۔ بالآخر 1947 میں دوسری جنگِ عظیم کے فاتح اتحادیوں نے ایک قلمی جنبش سے پروشیا کا وجود ہی ختم کر دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ جرمن عسکریت پسندی کی جڑیں پروشیا کی ثقافت اور روایات میں پیوست ہیں، لہٰذا عالمی امن کے لیے اس ریاست کا جغرافیائی نقشے سے مٹنا ناگزیر تھا
____________________
-
عالمی طاقتوں کا توازن: نیپولین سے جدید چین تک ایک تاریخی سفر
-
وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کیسے تباہ ہوئی؟ نئی سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے
-
گنج سوائی کا المیہ: ایک عام ملاح سے سمندر کا باشاہ بننے والا قزاق اور تاریخ کی بڑی لوٹ
-
اٹلی میں دریافت ہونے والا 11ویں صدی کا اسلامی فلکیاتی آلہ، جسے سائنسدانوں نے’اسمارٹ فون‘ قرار دیا




