کیا سرمایہ داری ایک فطری نظام ہے یا ایک منظم معاشی سازش؟

سنگت ڈیسک

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دن رات بیل کی طرح جتنے اور جی توڑ محنت کرنے کے باوجود، عام آدمی ہمیشہ معاشی عدم تحفظ کی دلدل میں کیوں دھنسا رہتا ہے؟ ہمیں بچپن سے یہ لوری سنائی گئی ہے کہ ”سرمایہ داری“ (Capitalism) انسانی فطرت کا ناگزیر تقاضا ہے اور دولت کا انبار لگانا ہماری جبلت ہے۔ لیکن ممتاز برطانوی ماہرِ معاشیات کلارا ماتی (Clara Mattei) اس پورے بیانیے کو ایک مصنوعی دھوکہ قرار دیتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سرمایہ داری کوئی فطری ارتقاء نہیں بلکہ ایک ایسا ذہنی اور معاشی جال ہے جسے مسلسل جبر اور پالیسیوں کے ذریعے ہم پر مسلط رکھا گیا ہے۔ یہ غربت اور ناانصافی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ اس نظام کا مطلوبہ ڈیزائن ہے۔

پہلا بڑا انکشاف: سرمایہ داری انسانی تاریخ کا صرف 0.1 فیصد حصہ ہے!

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو صنعتی سرمایہ داری کوئی قدیم روایت نہیں بلکہ ایک بالکل حالیہ اور عارضی مظہر ہے۔ نوعِ انسانی کی لاکھوں سالہ تاریخ میں یہ نظام محض آخری 0.1 فیصد حصے پر محیط ہے۔

● انکلوژر سسٹم کے تحت کسانوں کی زمین سے جبری بے دخلی: کلارا ماتی کے مطابق، یہ نظام خود بخود پیدا نہیں ہوا بلکہ اس نے برطانیہ میں ”انکلوژر سسٹم“ (Enclosure System) کے ذریعے ریاستی تشدد سے جنم لیا۔ ان کا اشارہ برطانیہ کی اس تاریخی تحریک کی طرف ہے جس نے جاگیردارانہ نظام کو ختم کر کے جدید سرمایہ داری کی بنیاد رکھی۔ انکلوژر سسٹم کے تحت باڑ بندی کی گئی جس کے ذریعے مشترکہ دیہاتی زمینوں کو نجی ملکیت میں تبدیل کر دیا گیا۔

● خود کفالت کی تباہی: اس کا مقصد لوگوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا تھا تاکہ وہ اپنی بقا کے لیے خود کفیل نہ رہیں بلکہ مارکیٹ کے محتاج بن کر کم اجرت پر اپنی محنت بیچنے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ ایک تاریخی بلپ یا تبدیلی (Blip) ہے جس نے محض دو صدیوں میں کرہ ارض کے ماحولیات اور انسانی معاشرت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

کلارا ماتی کے مطابق، ”سرمایہ داری کی بنیاد ہی اس تشدد پر رکھی گئی جس نے انسان اور زمین کا رشتہ توڑ کر اسے ’اجرتی غلام‘ بنا دیا۔“ آسان الفاظ میں، انکلوژر سسٹم وہ عمل تھا جس نے زمین کو ”کاروبار“ اور کسان کو ”مزدور“ بنا دیا، اور اس تبدیلی کے لیے ریاست نے کھلم کھلا طاقت کا استعمال کیا۔

دوسرا بڑا انکشاف: کفایت شعاری کوئی مجبوری نہیں، بلکہ ایک ہتھیار ہے!

جب بھی معاشی بحران آتا ہے، ”کفایت شعاری“ (Austerity) کا راگ الاپا جاتا ہے۔ کلارا ماتی کے نزدیک یہ کوئی تکنیکی حل نہیں بلکہ مزدور طبقے کو دبانے کا ایک سیاسی ہتھیار ہے۔

● تاریخی گٹھ جوڑ: ماتی ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتی ہیں کہ لبرل ماہرینِ معاشیات اور فاشسٹ حکمران ہمیشہ سے اس نکتے پر متحد رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، 1920 کی دہائی میں بینک آف انگلینڈ نے مسولینی کی فاشسٹ حکومت کی محض اس لیے حمایت کی کیونکہ وہ سختی سے کفایت شعاری نافذ کر کے ورکرز کو قابو میں رکھ رہا تھا۔

● منطق: جب تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کے بجٹ کاٹے جاتے ہیں، تو عوام معاشی طور پر اتنے مفلوج ہو جاتے ہیں کہ وہ کسی بھی حال میں، کیسی بھی کم اجرت پر کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ یہ انسانی ضروریات کے لیے غیر منطقی ہے، لیکن منافع کی ہوس کے لیے انتہائی منطقی عمل ہے۔

تیسرا بڑا انکشاف: نظام خراب نہیں ہے، یہ بالکل ویسا ہی کام کر رہا ہے جیسا اسے کرنا چاہیے!

اکثر لوگ ’کرونی کیپیٹلزم‘ یا ’سرمایہ داروں کے لالچ‘ کو الزام دیتے ہیں، لیکن ماتی کہتی ہیں کہ مسئلہ چند افراد نہیں بلکہ پورا ڈھانچہ ہے۔ یہ حقیقت کہ دنیا کے صرف 12 افراد نچلے طبقے کے 4 ارب انسانوں سے زیادہ دولت کے مالک ہیں، اس نظام کی ناکامی نہیں بلکہ اس کی ”کامیابی“ ہے۔

اس نظام کا ڈھانچہ ان تین اجزاء پر کھڑا ہے:

● دو ستون:
1. اجرتی محنت (Wage Labor): جہاں اکثریت کے پاس اپنی زندگی کی گھڑیاں بیچنے کے علاوہ بقا کا کوئی راستہ نہیں۔
2. نجی سرمایہ کاری (Private Investment): جہاں معاشرے کے تمام اہم فیصلے چند ہاتھوں میں قید ہیں۔

● چھت:
منافع کے لیے پیداوار (Production for Profit): یہاں اشیاء اس لیے پیدا نہیں کی جاتیں کہ ان کی ضرورت ہے (خواہ 2 ارب انسان بھوکے ہوں)، بلکہ اس لیے پیدا کی جاتی ہیں کہ ان سے کتنا پیسہ بنایا جا سکتا ہے۔

سرمایہ دارانہ استحصال کے اعداد و شمار:

● صرف امریکہ میں 19 افراد نے گزشتہ دو برسوں میں اپنی دولت میں 2 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کیا، جبکہ 77 فیصد ورکرز ماہانہ تنخواہ سے تنخواہ تک کی بمشکل زندگی گزار رہے ہیں۔

● عالمی سطح پر، ہر سال 65 بلین ڈالر قرضوں اور وسائل کے اخراج کی صورت میں "گلوبل ساؤتھ” (غریب ممالک) سے امیر ممالک کی طرف بہہ جاتے ہیں۔ یہ ترقی نہیں، منظم لوٹ مار ہے۔

چوتھا بڑا انکشاف: معاشی ماڈلز اور ’ذہنی غلامی‘ کا جال

موجودہ معاشی نظریات اور ریاضیاتی ماڈلز ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر مہنگائی بڑھی ہے تو اس کے ذمہ دار وہ مزدور ہیں جو زیادہ اجرت مانگ رہے ہیں۔

ماتی اسے ’افسانوی انفرادیت‘ (Mythological Individualism) کا نام دیتی ہیں۔ یہ بیانیہ ہمارے ذہن میں اس خیال کا بیج بوتا ہے کہ ”اگر تم غریب ہو تو یہ تمہاری اپنی نالائقی ہے“۔ یہ ذہنی جال اشرافیہ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بغیر کوئی گولی چلائے عوام پر کنٹرول برقرار رکھ سکیں، کیونکہ لوگ اپنی محرومی کا ذمہ دار نظام کے بجائے خود کو ٹھہرانے لگتے ہیں۔ معاشی ماڈلز کو ایک غیر جانبدار سائنس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ ان کے پیچھے چھپے ’طبقاتی تعصب‘ کو چھپایا جا سکے۔

پانچواں بڑا انکشاف: جمہوریت بمقابلہ معاشی آمریت

کلارا ماتی کے نزدیک مروجہ ’لبرل جمہوریت‘ محض ایک ملمع کاری ہے۔ اس میں ہمیں صرف ایک صارف (Consumer) کے طور پر چند برسوں بعد ووٹ ڈالنے کی آزادی ہے، لیکن اس بات پر کوئی اختیار نہیں کہ ملک کے وسائل کہاں اور کیسے خرچ ہوں گے۔

● حل: شرکتی جمہوریت (Participatory Democracy): کلارا ماتی ٹلسا (Tulsa) جیسے شہروں کی مثال دیتی ہیں جہاں ’شرکتی بجٹ سازی‘ کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ حقیقی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے پاس انتخاب کے لیے برانڈز موجود ہوں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے پاس معاشی اختیار (Economic Agency) ہو – یعنی یہ فیصلہ کرنے کی طاقت کہ خوراک، رہائش اور توانائی کی پیداوار منافع کے لیے ہوگی یا انسانی ضرورت کے لیے۔

وہ کہتی ہیں، ”ہم اس نظام کے معمار (Architects) ہیں؛ اگر ہم نے اسے تعمیر کیا ہے، تو ہم اسے ڈھانے اور دوبارہ بنانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔“

 ایک نئی شروعات کی طرف

کلارا ماتی کا پیغام واشگاف ہے: سرمایہ داری کوئی اٹل خدائی قانون نہیں بلکہ ایک انسانی انتخاب ہے جسے تشدد، جھوٹے معاشی ماڈلز اور ذہنی غلامی کے ذریعے برقرار رکھا گیا ہے۔ ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں 19 افراد کی تجوریاں بھرنے کے لیے کروڑوں بچوں کو غربت میں دھکیلا جا رہا ہے۔

لیکن یاد رکھیں، یہ جال تبھی تک کام کرتا ہے جب تک ہم اسے ’فطری‘ سمجھتے ہیں۔ جس دن ہم نے یہ جان لیا کہ ہم اس نظام کے قیدی نہیں بلکہ معمار ہیں، متبادل کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔

آخری سوال: اگر ہم اس نظام کے معمار ہیں، تو ہم ایسی بنیادیں کیوں نہیں رکھتے جو چند لوگوں کے بے پناہ منافع کے بجائے کروڑوں انسانوں کی بنیادی ضرورتوں کو ترجیح دیں؟

_____________________

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button