
عالمی سیاست میں بڑے زلزلے کی دستک
عالمی بساط پر تزویراتی ہلچل اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں پرانے اتحاد ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ریگزاروں میں ‘امریکی صدی’ (American Century) کا سورج غروب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف اسرائیل کے بنجمن نیتن یاہو بین الاقوامی قانون کے شکنجے میں جکڑے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی "ڈیل میکنگ” سفارت کاری کو خود ان کے قریبی خلیجی اتحادیوں نے مسترد کر دیا ہے۔ دنیا اب اس مقام پر ہے جہاں سوال صرف جنگ یا امن کا نہیں، بلکہ طاقت کے ایک مکمل انتقال کا ہے۔ کیا ہم ایک کثیر قطبی (Multi-polar) نظام کی پیدائش دیکھ رہے ہیں جہاں واشنگٹن کے احکامات اب حرفِ آخر نہیں رہے؟
نیتن یاہو: کیا آئی سی سی کا گھیرا ‘تاریخی رفتار’ سے تنگ ہو رہا ہے
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے واضح کر دیا ہے کہ قانون کی گرفت اب کسی بھی طاقتور کے لیے "ناقابلِ عبور” نہیں رہی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف نسل کشی (Genocide) کے الزامات خارج از امکان نہیں ہیں اور صیہونی حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ٹھوس شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ یہ کارروائی ‘نیورمبرگ اصولوں’ کے عین مطابق ہے جہاں جنگی مجرموں کو استثنیٰ نہیں دیا جاتا۔ کریم خان کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین اور فلسطین جیسے معاملات میں "ضروری رفتار” (Speed of relevance) کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو، جو پہلے ہی ملک کے اندر بدعنوانی کے سنگین مقدمات میں گھرے ہوئے ہیں، اب ایک بین الاقوامی "ولن” کے طور پر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔
"کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ قانون سب پر لاگو ہوتا ہے۔ ہم تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ مظلوموں کو یہ دکھایا جا سکے کہ وہ اوجھل نہیں ہیں اور ان کی تکالیف کی اہمیت ہے۔” — کریم خان، چیف پراسیکیوٹر آئی سی سی
ٹرمپ کی دھمکیاں اور "ون بگ گلو” کا بیانیہ
ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ بیان بازی جس میں ایران کے خلاف "ون بگ گلو” جیسی اصطلاح استعمال کی گئی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں ہر غلط فہمی جنگ کو جنم دے سکتی ہے، ایٹمی اشاروں والی زبان نہایت خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ جارحانہ بیانیے اور فوری نتائج کے وعدوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ مگر ایران جیسے ملک کے ساتھ براہِ راست تصادم نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر تباہ کن ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی توانائی سپلائی اس تنازع کا سب سے حساس پہلو ہے۔ کسی بھی عسکری مہم جوئی کا فوری اثر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے، جیسا کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے ظاہر ہے۔
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا دھمکی آمیز سفارت کاری اب بھی مؤثر ہے؟ یا دنیا اب ایسے رہنماؤں سے محتاط ہو چکی ہے جو ٹویٹر یا جلسوں کی زبان کو عالمی پالیسی کا متبادل بنا دیتے ہیں؟
ریاض کی ‘نا’: کیا سعودی-امریکہ دفاعی اتحاد ختم ہو چکا ہے؟
سب سے دلچسپ پیش رفت سعودی عرب کا رویہ ہے۔ ولی عہد (Mohammed bin Salman) محمد بن سلمان کی قیادت میں ریاض نے حالیہ بحران میں محتاط اور خودمختار پالیسی اپنائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی قیادت نے امریکی فوجی آپریشنز کے لیے اپنی فضائی حدود اور اڈوں کے استعمال سے گریز کیا۔
یہ قدم محض سفارتی احتیاط نہیں بلکہ ایک بڑے اسٹریٹجک رجحان کی علامت ہے۔ دہائیوں تک "تیل کے بدلے سکیورٹی” کا غیر تحریری معاہدہ سعودی۔امریکہ تعلقات کی بنیاد رہا۔ مگر اب ریاض چین اور روس سمیت دیگر طاقتوں کے ساتھ بھی متوازن تعلقات قائم کر رہا ہے۔
یہ تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ خلیجی ریاستیں خود کو صرف ایک طاقت کے مدار میں محدود نہیں رکھنا چاہتیں۔ اگر واشنگٹن اپنے روایتی اتحادیوں کی مکمل حمایت سے محروم ہوتا ہے تو یہ امریکی اثر و رسوخ میں کمی کا واضح ثبوت ہوگا۔
نسانی بحران: اصل قیمت کون ادا کر رہا ہے؟
جنگ بندی کے دعووں کے باوجود غزہ اور لبنان میں جاری جھڑپوں نے انسانی بحران کو سنگین بنا دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ہزاروں شہری متاثر ہوئے، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور صحت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
ریڈ کراس کے رضاکاروں کے بیانات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ میدانِ جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام انسان اٹھاتا ہے۔ جب ایمبولینسوں کو بھی تحفظ حاصل نہ رہے تو یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عالمی طاقتوں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے: کیا وہ واقعی امن چاہتے ہیں یا محض جغرافیائی برتری؟
عالمی معیشت پر اثرات: 97 ڈالر فی بیرل تیل
- تیل کی قیمتوں میں زلزلہ: عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
- WTI میں اچھال: ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتوں میں 3 فیصد کا فوری اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- عام آدمی پر بوجھ: فوجی حملوں اور سپلائی چین کی رکاوٹوں نے عالمی افراطِ زر (Inflation) کو مہمیز دی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام انسان کی جیب پر پڑ رہا ہے۔
بدلتی ہوئی عالمی بساط: چین کا ابھار اور امریکہ کی سفارتی تنہائی
_______________________________




