امریکہ۔ایران کشیدگی: جواب کا انتظار، خلیج میں تیل کا پھیلاؤ اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی

سنگت ڈیسک

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر (Donald Trump) ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بھیجی گئی امریکی تجاویز پر تہران کا جواب آج متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر معاملات طے نہ پائے تو امریکہ متبادل اقدامات پر غور کرے گا، جن میں ایک ممکنہ توسیعی اقدام ’’پراجیکٹ فریڈم پلس‘‘ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ایران کے جواب کا انتظار

امریکی نشریاتی ادارے CNN کے مطابق صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا ایران کی جانب سے کسی باضابطہ ردعمل کی وصولی ہوئی ہے، جس پر ان کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ آج ہی کوئی جواب موصول ہو جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران جان بوجھ کر تاخیر کر رہا ہے تو ان کا مختصر جواب تھا: ’’ہمیں جلد ہی پتہ لگ جائے گا۔‘‘

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے اٹلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر جواب مل جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، ’’ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ سنجیدہ مذاکراتی عمل کی طرف لے جائے گا۔‘‘

خلیجِ فارس میں تیل کا پھیلاؤ، خدشات میں اضافہ

اسی دوران سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کے جزیرہ خارگ کے ساحل کے قریب تیل کے پھیلاؤ کے آثار سامنے آئے ہیں۔ جزیرہ خارگ ایران کی تیل برآمدی صنعت کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے اور خلیجِ فارس کے ساحل پر آبنائے ہرمز سے چند سو کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق تیل کے رساؤ کی نگرانی کرنے والی کمپنی اوربیٹل ای او ایس نے امریکی اخبار کو بتایا کہ جمعرات تک اس پھیلاؤ کا رقبہ تقریباً 52 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا۔ غیر سرکاری ادارے Conflict and Environment Observatory نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رساؤ کہاں سے شروع ہوا، تاہم یہ جنوب کی سمت پھیل رہا ہے اور بظاہر اس پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمان میں صوبہ بوشہر کے رکن جعفر پورکبگانی نے ’’سمندر میں تیل چھوڑے جانے‘‘ کی اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ دھبے کسی یورپی ٹینکر کے بیلسٹ پانی میں موجود تیل اور فضلے کے باعث ہو سکتے ہیں، جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے۔

جزیرہ خارگ میں ایران کی سب سے بڑی تیل برداری تنصیبات، پائپ لائنیں اور ذخیرہ کرنے کے بڑے ٹینک موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر رساؤ کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ نہ صرف ماحولیاتی بلکہ معاشی لحاظ سے بھی ایران کے لیے بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تیل کی برآمدات ملکی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔

قطر کی سفارتی کوششیں، پاکستان کا ذکر

کشیدگی کے ماحول میں خلیجی ریاست قطر نے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی (Mohammed bin Abdulrahman Al Thani) نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر (JD Vance) جے ڈی وینس سے ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا۔

قطری وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق فریقین نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ جاری ثالثی کی کوششوں کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بحران کے بنیادی اسباب کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

بیان میں پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سلامتی و استحکام کے فروغ کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ قطر نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین مذاکراتی عمل میں سنجیدگی سے شریک ہوں تاکہ ایک جامع اور پائیدار معاہدہ ممکن ہو سکے۔

بی بی سی عربی کے مطابق قطر طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں میں کلیدی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ وہ نہ صرف تہران کے ساتھ مذاکرات میں شامل رہا ہے بلکہ فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ روابط کے ذریعے اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں بھی شریک رہا ہے۔

تاہم حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے متعدد بار قطر میں بعض مقامات کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ وہاں موجود امریکی فوجی اڈے کو قرار دیا گیا۔ اس پیش رفت نے خطے میں سلامتی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ٹرمپ کی ’پراجیکٹ فریڈم‘ معطلی، تہران۔بیجنگ رابطے اور خلیج میں بڑھتی بے چینی

 

’پراجیکٹ فریڈم‘ اور ’پلس‘ کا اشارہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاملات طے نہ پائے تو ’’پراجیکٹ فریڈم پلس‘‘ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست پر ’’پراجیکٹ فریڈم‘‘ کو وقتی طور پر معطل کیا تھا، تاہم اگر پیش رفت نہ ہوئی تو اسے مزید اقدامات کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ’’پراجیکٹ فریڈم‘‘ کا اعلان اتوار کو کیا گیا تھا جسے امریکہ نے خلیج میں پھنسے جہاز رانوں کی مدد کے لیے ایک ’’انسانی ہمدردی‘‘ پر مبنی قدم قرار دیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق خلیج میں تقریباً 1550 تجارتی جہازوں پر 22 ہزار 500 کے قریب جہاز ران موجود ہیں، جو سکیورٹی خدشات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

منگل کو ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔ اسی روز بعد میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یہ کارروائی عارضی طور پر معطل کی جا رہی ہے، جسے انہوں نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب ’’بڑی پیش رفت‘‘ قرار دیا۔

خطے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجِ فارس عالمی توانائی کی سپلائی لائن کا اہم مرکز ہے اور آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا تیل برداری تنصیبات متاثر ہوتی ہیں تو عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔

تیل کے ممکنہ رساؤ نے ماحولیاتی خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ خلیجِ فارس کا سمندری ماحولیاتی نظام پہلے ہی صنعتی سرگرمیوں اور جہاز رانی کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو سمندری حیات، ماہی گیری اور ساحلی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

فی الحال سب کی نظریں تہران کے متوقع جواب پر مرکوز ہیں۔ اگر ایران امریکی تجاویز پر مثبت اشارہ دیتا ہے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر ’’پراجیکٹ فریڈم پلس‘‘ جیسے اقدامات خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

قطر اور دیگر علاقائی ممالک کی سفارتی کوششیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ کسی بڑے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایسے میں آنے والے دن نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button