برازیل کی سرزمین پر بہتا خون: گوارانی کائیووا کی بقا اور ریاست کی مجرمانہ خاموشی

سنگت ڈیسک

گھر محض چار دیواروں اور چھت کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان کی شناخت، اس کی ثقافت اور تحفظ کا استعارہ ہے۔ تصور کیجیے کہ اگر آپ کو اپنے ہی آبائی گھر میں محض اس لیے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے کہ وہ زمین کسی بڑی کمپنی کے منافع کا ذریعہ بن سکے؟ یہ تصور کرنا ہی لرزہ خیز ہے، لیکن برازیل کی ریاست ’ماٹو گروسو ڈو سل‘ میں مقیم مقامی ’گوارانی کائیووا‘'(Guarani Kaiowá) قبیلے کے لیے یہ ایک تلخ اور روزمرہ کی حقیقت ہے، جو اس وقت ملک کے بدترین انسانی بحران کی لپیٹ میں ہیں۔

برازیل کی ریاست ’ماٹو گروسو ڈو سل‘ میں گوارانی کائیووا برادری کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور ایک قدیم ثقافت کو مٹانے کی منظم کوشش ہے۔ حالیہ دنوں میں تاکیواپیری ریزرو کے بہادر رہنما گیوالڈو سانتوس کا بے دردی سے قتل اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ جب یہ مقامی قبائل اپنی چھینی گئی زمینوں کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں قانون کے تحفظ کے بجائے موت کے پروانے ملتے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق گیوالڈو کو دن دیہاڑے سر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آوروں کو کسی قانونی گرفت کا خوف نہیں ہے۔ یہ قتل اس وقت ہوا جب مقامی برادری اپنی اس زمین پر دوبارہ آباد ہونے کی جدوجہد کر رہی تھی، جسے دہائیوں سے مویشی پالنے اور زرعی صنعت کے بڑے ناموں نے ہتھیا رکھا ہے۔

گوارانی کائیووا قبائل کے لیے
گوارانی کائیووا کی جدوجہد صرف زمین کی واپسی کے لیے نہیں بلکہ اپنی نسل کو بچانے کے لیے ہے۔ گیوالڈو سانتوس کی قربانی اس تحریک کو بجھانے کے بجائے مزید بھڑکانے کا سبب بن رہی ہے، کیونکہ اب یہ آوازیں برازیل کے جنگلات سے نکل کر عالمی فورمز تک پہنچ چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی شعور رکھنے والے افراد اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقامی برادریوں کے خلاف اس منظم نسل کشی کو فوری روکا جائے اور ان کی زمینوں کی حد بندی کر کے انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور رہنما کو اپنی مٹی کی خاطر جان نہ دینی پڑے۔

گوارانی کائیووا برازیل کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ گوارانی کائیووا کے خلاف ہونے والے حملے محض مقامی زمینداروں کے ساتھ کوئی معمولی تنازع نہیں ہیں۔ یہ ایک منظم مہم ہے جس کا مقصد ایک قدیم تہذیب کا نام و نشان مٹانا ہے۔ گوارانی کائیووا قبیلے کے لیے زمین محض مال و دولت کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی روحانی بقا اور ’ٹیکوہا‘ (Tekohá) یعنی ان کی ثقافتی شناخت کا مرکز ہے۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے زرعی لابی اور بااثر زمینداروں نے ان کی آبائی حدود پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے ان معصوم باشندوں کو کرائے کے مسلح قاتلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ کئی مقامات پر مقامی ملٹری پولیس بھی ان غاصبانہ کارروائیوں میں معاون کار کے طور پر ملوث پائی گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو ان کی جھونپڑیوں سے بے دخل کرنا اور ان کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ سفاکیت صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں، بلکہ ان کے گھروں اور مقدس عبادت گاہوں کو دانستہ طور پر نذرِ آتش کر کے ان کی روحانی بنیادوں پر وار کیا جا رہا ہے۔

زرعی صنعت بمقابلہ انسانی زندگی: عالمی دسترخوان اور انسانوں کی راکھ

اس تمام تر خونریزی کے پیچھے ’ایگری بزنس‘ (Agribusiness) یعنی بڑی زرعی کمپنیوں کی ہوسِ زر چھپی ہے۔ یہ محض انفرادی کاشتکار نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر سرمایہ رکھنے والی کارپوریشنز ہیں جنہوں نے منافع کی خاطر ان مقامی باشندوں کی اراضی پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔

کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 1) گل حسن کلمتی

 

یہاں ایک سنگین تضاد اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے: عالمی منڈیوں کے لیے خوراک کی پیداوار اور تجارتی منافع کا حصول اس قیمت پر کیا جا رہا ہے کہ ایک پوری نسل کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے دسترخوانوں کو سجانے والی یہ زرعی صنعت درحقیقت ان مقامی لوگوں کی عبادت گاہوں کی راکھ اور ان کے بہتے خون پر کھڑی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب عالمی ضمیر کو سوچنا چاہیے کہ کیا عالمی معیشت کا پہیہ انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے؟

حکومتی ناکامی اور زمین کی حد بندی: قانونی تعطل کے پیچھے چھپے مفادات

جب تک برازیل کی حکومت ان زمینوں کی سرکاری حد بندی کے آئینی وعدے کو پورا نہیں کرتی، یہ قبائل اپنی ہی زمین پر غیر قانونی مقیم قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ یہاں ”حد بندی“ سے مراد محض نقشے پر لکیریں کھینچنا نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت سرکاری طور پر ان زمینوں کو گوارانی کائیووا کی ملکیت تسلیم کرے اور وہاں غیر قانونی طور پر قابض زرعی کمپنیوں کو طاقت کے ذریعے بے دخل کرے۔ لیکن بدقسمتی سے برازیل کی حکومت برسوں سے اس عمل میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، جو درحقیقت کارپوریٹ مفادات کو انسانی جانوں پر ترجیح دینے کے مترادف ہے۔ جب تک زمین کا قانونی تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک مسلح گروہوں کی غنڈہ گردی اور معصوموں کا قتلِ عام نہیں رک سکتا۔

عالمی احتجاج کی طاقت: انصاف کی متقاضی آوازیں

موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔ برازیل کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک وسیع مہم جاری ہے جس کے ذریعے براہِ راست صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا ، وزارتِ انصاف اور مقامی باشندوں کے حقوق کے نگراں ادارے ’فنائی‘ (FUNAI) کے سربراہان کو احتجاجی مراسلے بھیجے جا رہے ہیں، تاکہ برازیلین حکام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ دنیا کی نظریں ان کی مجرمانہ غفلت پر لگی ہوئی ہیں۔

گوارانی کائیووا کی جدوجہد صرف مٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے نہیں بلکہ اپنی بقا، شناخت اور انسانی وقار کے لیے ہے۔ یہ لوگ فطرت کے وہ قدیم محافظ ہیں جنہوں نے صدیوں سے اس زمین کی آبیاری کی ہے۔ ان کی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھانا محض ایک ہمدردی نہیں بلکہ انسانیت کا اخلاقی فریضہ ہے۔

______________________________

ملیر ایجوکیشن سٹی یا کارپوریٹ کالونی

دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 1

Indigenous Guarani Kaiowá people are being murdered – act now!

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button