Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

کیا تاریخ واقعی ختم ہو گئی؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 29, 2022 3 Min Read
0

سن 1988ء کے دوران جنیوا میں معاہدے کے تحت افغانستان سے روسی افوج کا انخلا ہوا۔ اس تاریخی واقعے کے تین برس بعد 1991ء میں سوویت یونین کی سولہ ریاستوں نے اپنے آپ کو آزاد قرار دے کر سوویت یونین سے علیحدگی اختیار کر لی

فرانسیس فوکویاما نامی ایک امریکی سیاسی مبصر نے اس موقع کو ’تاریخ کا اختتام‘ قرار دیا اور انخلا کے معاہدے کو امریکہ کی فتح تصور کیا۔ فوکویاما نے اس خیال کا اظہار کیا کہ دنیا سے سرد جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے اور آئندہ امریکہ کی سر پرستی میں جمہوریت کا ہی بول بالا ہوگا

قارئین کو یاد ہوگا کہ سرد جنگ 1945ء میں دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر اس وقت شروع ہوئی تھی، جب دنیا میں دو سپر پاورز امریکہ اور سوویت یونین ابھر کر سامنے آئیں اور 1991ء تک بین الاقوامی امور میں یہ ہی کیفیت جاری رہی۔ یعنی ان دو بڑی قوموں کے درمیان کوئی جان لیوا جنگ نہیں چھڑی لیکن دوستانہ ماحول بھی قائم نہ ہو سکا۔ ان کے درمیان نظریاتی تفریق موجود رہی اور آئے دن معمولی باتوں پر نااتفاقی ہوتی رہی

سب سے زیادہ پریشان کن پہلو یہ تھا کہ دونوں نے الگ الگ فوجی کیمپ بنا رکھے تھے، جن میں ان کے فوجی اتحادی شامل تھے۔ مغربی ممالک نیٹو کے رکن تھے اور نیٹو کے ذریعے واشنگٹن کو سہارا دیتے اور دوسری طرف سوویت یونین کے اتحادی ’وارسا معاہدے‘ کے پرچم تلےاس کو تقویت دیتے

جہاں تک تیسری دنیا کے ممالک کا تعلق تھا، وہ موقع محل کی مناسبت سے مختلف مسائل پر رویہ اختیار کرتے۔ یہ ممالک غیرجانبدار تحریک کے ممبر تھے اور اس طرح اپنی حفاظت کرتے تھے۔ تاہم پاکستان جیسے کچھ ترقی پذیر ممالک ایسے بھی تھے، جو امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں سے منسلک تھے اور سوویت یونین مخالف سرگرمیوں کا حصہ بنتے تھے

موجودہ بین الاقوامی سیاست سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوکویاما کے خیالات کتنے بے بنیاد تھے۔ نہ تو امریکہ مکمل طور پر دنیا کوکنٹرول کر سکا اور نہ ہی تاریخ ختم ہو سکی۔ سب سے پہلے دنیا کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ افغانستان میں جو ہوا، وہ ”امریکی سازش‘‘ کی ابتدا تھی۔ سوویت یونین کے اختتام کے بعد روس نے وارسا معاہدے کو ختم کر دیا لیکن نیٹو اتحاد قائم رہا۔ اس وقت یہ بھی خیال کیا گیا کہ دنیا سے ایٹمی ہتھیار بھی ختم کر دیے جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا

رفتہ رفتہ روس نے امریکہ کی نئی پالیسیوں کو سمجھنا شروع کیا اور وہ بھی طاقت کے اس کھیل میں دوبارہ شامل ہو گیا، جس میں اس کو اتحادیوں کی تلاش رہتی ہے۔ اب تاریخ دوبارہ وہیں آ کھڑی ہوئی ہے، جہاں وہ 1991ء سے پہلے تھی

یوکرین میں روس نے، جو کیا وہ اس کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اور روس ویسے ہی اپنی قوت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، جیسے وہ سرد جنگ کے زمانے میں کرتے تھے۔ اس کے علاوہ روس ایران اور شام وغیرہ سے بھی دوستی بڑھا رہا ہے کیوں کہ امریکہ ان کا مخالف ہے

آج کل کے بین الاقوامی کھیل کے میدان میں بہت سے نئے کھلاڑی آ گئے ہیں، جن میں سب سے اہم چین ہے، جسے اپنی معاشی طاقت کے وجہ سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چین کا مقابلہ عام طور سے امریکہ کے ساتھ کیا جاتا ہے، جس کا فائدہ روس کے حق میں جاتا ہے

افسوس اس بات کا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اس کھیل میں دنیا کی چھوٹی ریاستوں کو اپنا شکار بنا لیتی ہیں، جس میں ان کی ترقی اور عوامی انصاف مار کھاتے ہیں۔ اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ کا خاتمہ بلکل نہیں ہوا بلکہ ایک نئے قسم کا تاریخی دور شروع ہوا ہے، جو پہلے سے زیادہ خطرناک ہے اور تیسری دنیا کے ممالک کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگا۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اُردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

AmericaAmericannato vs soviet unionRussiarussia vs americaRussianrussian and former soviet politiciansovietsoviet russiaSoviet Unionsoviet union armysoviet union documentarysoviet union militarysoviet union versus natosoviet union vs united states americasoviet union vs united states of americaUnionunited states america vs soviet unionunited states of america vs soviet unionunited states vs soviet unionus vs soviet union
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ڈجیٹل ٹھگس آف ہندوستان: بھارتی ٹھگوں نے اس سال امریکیوں سے دس ارب ڈالر ٹھگ لیے

Next

فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (8)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme