Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

”ہمارا سیارہ زمین خطرے میں ہے“ 14000 سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

By Akhtar Rasool
اگست 3, 2021 2 Min Read
0

سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہمارے کرہِ ارض کے فطری نظاموں سے وابستہ تمام معیارات (وائٹل سائنز) روبہ زوال ہیں اور کچھ اپنی تباہی کی حد پر پہنچ چکے ہیں، ان میں انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ کی برفیلی چادروں کا غیرمعمولی پگھلاؤ، مرجانی چٹانوں کی تباہی، ایمیزوں اور آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ بھی شامل ہے، اور یوں ہم زمین کی نبضوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے ہیں

یاد رہے کہ اس سے قبل 2019ع میں بایوسائنس نامی جرنل میں گیارہ ہزار سے زائد سائنسدانوں نے سیارہ زمین پر کلائمٹ ایمرجنسی کی درخواست کی تھی۔ لیکن اس رپورٹ میں مزید کچھ اضافے کے بعد اسے اب دوبارہ شائع کیا گیا ہے اور چودہ ہزار سائنسدانوں نے اس کی تصدیق و تائید کی ہے

رپورٹ میں شامل سڈنی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہر ماحولیات  تھامس نیوسم کے مطابق گزشتہ دو برس میں ہم آگ لگنے کے ہولناک واقعات دیکھ رہے ہیں جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ جیسی گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار نے نئے رکارڈ قائم کئے ہیں

اس دوڑ میں مزید دو ہزار آٹھ سو سائنسداں شامل ہوچکے ہیں اور اب دنیا کے چونتیس ممالک میں ایک ہزار نو سو نوے قوانین منظور ہوئے ہیں جو کلائمٹ ایمرجنسی سے متعلق ہیں۔ لیکن  خوش آئند بات یہ ہے کہ کئی ممالک تین نقاط پر متفق ہوچکے ہیں یا ان کے قریب پہنچ چکے ہیں، ان نقاط میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر بھاری ٹیکس، رکازی ایندھن (تیل، گیس اور کوئلے) پر مرحلہ وار پابندی اور حیاتیاتی تنوع کے مقامات (مثلاً ایمیزون) کا تحفظ شامل ہیں۔ لیکن یہ وی باتیں ہیں،  ماہرین 1960ع سے جن کا تقاضہ کرتے آ رہے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے ہماری زمین غیرمعمولی تباہی سے دوچار ہے اور اب ہمارے پاس وقت بالکل ختم ہو چکا ہے۔ انسان تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اس سیارے کے وسائل اور قدرتی نظام تباہ کر رہا ہے

ماہرین نے کل اکتیس وائٹل سائنز یعنی اہم فطری اشاریوں کو اپنی تحقیق میں شامل کیا ہے جن میں سمندروں کی صحت، برف کے پگھلتے ہوئے ذخائر، غلے اور مویشیوں کی تعداد جیسے عوامل شامل ہیں جو دباؤ کے شکار ہیں۔ لیکن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کچھ اچھی خبریں بھی ہیں جن میں 2018ع سے اب تک ہوا سے بجلی بنانے کے نئے منصوبے شامل ہیں جو اب بڑھ کر 57 فیصد تک جا پہنچے ہیں، جبکہ اسی عرصے میں رکازی (فاسل) فیول کی سرمایہ کاری میں اسی طرح کمی ہوئی ہے.

Tags:

EarthEnvironmentEnvironmental EmergencyMarine Environment
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

امریکا کا روس کے چوبیس سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

Next

فیس بک ڈیٹا لیک: آپ کیسے جان سکتے ہیں آپ کا ڈیٹا لیک ہوا ہے یا نہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme