امریکہ میں دولت کی چمک دمک کے پیچھے چھپی غربت کی کہانی
لوگوں میں ایک عام تاثر تو یہ ہے کہ امریکہ دولت مند ملک ہے اور اس کے شہری خوش حال ہیں لیکن اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ امریکہ میں امیر اور غریب کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ یہاں امارت کا تو اظہار ہوتا ہے مگر غربت چھپی ہوئی رہتی ہے اور جب…
نوزائیدہ بچوں میں دریافت ہونے والی ذیابیطس کی ایک نئی اور نایاب شکل
دنیا بھر میں ذیابیطس کو عموماً ایک بالغوں کی بیماری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب سائنس دانوں نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ذیابیطس کی ایک ایسی نئی قسم دریافت ہوئی ہے جو صرف نوزائیدہ بچوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری اتنی نایاب ہے کہ اب تک…
ٹیچر اور اچار (مزاح/کالم)
ہمارے گورنمنٹ اسکول میں ایک نیا ٹیچر، سر جمیل، ٹرانسفر ہو کر آیا۔ جوائننگ کے فوراً بعد ہیڈ ماسٹر صاحب نے حسبِ روایت اُنہیں اسکول کے واٹس ایپ گروپ میں شامل کر لیا۔ شام کو سر جمیل نے پہلا ہی پیغام گروپ میں بھیج دیا، ایک اشتہار: ”کراچی والوں کے مشہور اچار!…
اگر کبھی کششِ ثقل ایک سیکنڈ کے لیے رُک جائے تو؟
دنیا میں کچھ سوالات محض خیالات نہیں ہوتے، وہ تصور کی سرحدوں کو چھو کر انسان کی عقل کو چیلنج کر دیتے ہیں۔ ”اگر کبھی کششِ ثقل ایک سیکنڈ کے لیے رُک جائے تو کیا ہوگا؟“ ایسا ہی ایک سوال ہے۔ سننے میں دلچسپ مگر معنی میں لرزہ خیز۔ یقیناً، ایک سیکنڈ کچھ نہیں…
کوڑے داں (مختصر افسانہ)
علی داد گوٹھ، پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں ہوا کبھی پاکیزگی کی قسم کھاتی تھی۔ بارش کے بعد جب ندیاں بہتی تھیں، تو زمین کی خوشبو سانسوں میں سمٹ جاتی تھی، گویا کہیں ماں نے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ یہ ندیاں موسمی تھیں چند مہینوں کے…
ملیر ایجوکیشن سٹی یا کارپوریٹ کالونی
ملیر کی زمین پر سندھ حکومت کی جانب سے جو منصوبہ “ایجوکیشن سٹی” کے نام سے شروع کیا گیا ہے وہ ملیر کی زمینوں پر قبضے کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ منصوبہ ریاستی و حکومتی اداروں اور کارپوریٹ مفادات کو ترقی اور علم جیسے خوبصورت الفاظ کے پردے میں ملیر کی زمینوں،…
ایرانی فلم "علت مرگ: نامعلوم” Cause of death : Unknown
سال : 2024 ہدایت کار: علی زرنگار کہانی کا خلاصہ صبح کازب کے وقت 7 مسافر ایک وین میں شہداد سے کرمان کی جانب سفر شروع کرتے ہیں ـ راستے میں انہیں پتہ چلتا ہے آٹھواں مسافر جو ان سے پہلے وین میں بیٹھا ہوا تھا مرچکا ہے ـ وہ ایمبولینس کے لئے ایمرجنسی میں…
ملیر سے کھیرتھر تک: ریاستی سرپرستی میں جاری ماحولیاتی اور قانونی قتلِ عام
ایک تباہی ہے جو کراچی سے شروع ہو کر کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ صرف ماحولیاتی تباہی نہیں بلکہ اسمبلی کے قوانین اور عدالتوں کے احکامات کی کھلی توہین بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ فریاد کس سے کریں، جب سب کچھ ریاستی سرپرستی اور سرکاری اداروں کے…