Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

A-new-and-rare-form-of-diabetes-discovered-in-newborns
اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

نوزائیدہ بچوں میں دریافت ہونے والی ذیابیطس کی ایک نئی اور نایاب شکل

By Akhtar Rasool
اکتوبر 21, 2025 4 Min Read
0

دنیا بھر میں ذیابیطس کو عموماً ایک بالغوں کی بیماری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب سائنس دانوں نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ذیابیطس کی ایک ایسی نئی قسم دریافت ہوئی ہے جو صرف نوزائیدہ بچوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری اتنی نایاب ہے کہ اب تک دنیا میں اس کے صرف چند ہی کیسز سامنے آئے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ بیماری لبلبے کے ساتھ دماغ پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے ایک واحد جین TMEM167A کی نشاندہی کی ہے، جو اس بیماری کا باعث بنتا ہے۔ اس جین میں پیدا ہونے والا معمولی سا تغیر لبلبے کے اُن خلیوں کو متاثر کرتا ہے، جو انسولین بناتے ہیں۔ جب یہ خلیے متاثر ہوتے ہیں تو وہ اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں، نتیجتاً جسم میں انسولین بننا بند ہو جاتی ہے، اور یہی عمل ذیابیطس کی ابتدا بن جاتا ہے۔

انسولین وہ ہارمون ہے جو ہمارے جسم کو خوراک میں موجود شکر (glucose) کو توانائی میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر انسولین نہ بنے، تو شکر خون میں جمع ہوتی رہتی ہے، جس سے ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

یہ نئی دریافت صرف لبلبے تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق TMEM167A جین دماغ کے افعال پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جین میں خرابی صرف ذیابیطس ہی نہیں، بلکہ دماغی نشوونما کے مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے۔

بیلجیم کی فری یونیورسٹی آف برسلز سے تعلق رکھنے والی ماہرِ ذیابیطس ڈاکٹر میریم کنوپ (Miriam Cnop) کہتی ہیں، ”اسٹیم سیلز کے ذریعے انسولین پیدا کرنے والے خلیے تیار کرنے سے ہمیں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ نایاب اقسام کے مریضوں میں بیٹا خلیے کیوں ناکام ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف بیماری کو سمجھنے کا نیا طریقہ ہے بلکہ ممکنہ علاج کی تلاش میں بھی مددگار ہے۔“

بین الاقوامی سائنس دانوں کی ٹیم نے چھ ایسے نوزائیدہ بچوں کے جینز کا تجزیہ کیا، جن میں چھ ماہ کی عمر سے پہلے ہی ذیابیطس اور مائیکروسیفلی (microcephaly) یعنی چھوٹے دماغ کی بیماری پائی گئی تھی۔ ان میں سے پانچ بچوں کو مرگی (epilepsy) بھی تھی۔

یہ تینوں بیماریاں مل کر ایک انتہائی نایاب حالت بناتی ہیں جسے MEDS (microcephaly, epilepsy, and diabetes syndrome) کہا جاتا ہے۔ دنیا میں اب تک صرف گیارہ افراد میں اس سنڈروم کی تصدیق ہوئی ہے، یعنی یہ واقعات انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔

پہلے دو جینز IER3IP1 اور YIPF5 کو اس بیماری سے جوڑا جا چکا تھا۔ لیکن اب محققین نے تیسرے جین TMEM167A کو بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے۔
یہ جین بچوں کو اپنے والدین سے وراثت میں ملتا ہے، اور اگر ماں اور باپ دونوں میں یہ جین تبدیل شدہ حالت میں موجود ہو تو بچے میں یہ بیماری ظاہر ہو جاتی ہے۔

سائنس دانوں نے انسانی اسٹیم سیلز سے تجرباتی طور پر TMEM167A جین ہٹا کر اس کی جگہ وہ تغیر شدہ جین شامل کیا جو ایک MEDS مریض کے DNA میں موجود تھا۔ پھر ان سیلز کو بیٹا خلیوں میں تبدیل کیا گیا، یعنی وہ خلیے جو انسولین پیدا کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ خلیے بن تو گئے، لیکن کام نہیں کر رہے تھے۔ جب انہیں گلوکوز دیا گیا، تو انہوں نے انسولین خارج نہیں کی۔ مزید یہ کہ خلیوں کے اندر موجود ایک نازک حصہ اینڈوپلازمک ریٹیکولم (endoplasmic reticulum) بھی متاثر ہو گیا اور اس خرابی کی وجہ سے بیٹا خلیے مرنے لگے۔

برطانیہ کی ایکزٹر یونیورسٹی سے وابستہ جینیاتی ماہر الیزا ڈی فرانکو (Elisa de Franco) کہتی ہیں، ”جب ہم نوزائیدہ بچوں میں ذیابیطس پیدا کرنے والے جینیاتی تغیرات کو تلاش کرتے ہیں، تو ہمیں وہ جینز بھی سمجھ میں آتے ہیں جو انسولین کی تیاری اور اخراج میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔“

ان کا مزید کہنا ہے، ”چھ بچوں میں ذیابیطس کی اس نایاب قسم کے پیچھے موجود مخصوص جین کی نشاندہی نے ہمیں ایک کم معروف جین — TMEM167A — کی اصل کارکردگی سمجھنے میں مدد دی۔ اب ہم جانتے ہیں کہ یہ جین انسولین کے اخراج میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔“

یہ تحقیق The Journal of Clinical Investigation میں شائع ہوئی ہے، اور ماہرین کے مطابق اس سے مستقبل میں ذیابیطس کے علاج کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ بیماری نایاب ہے، لیکن اس کی دریافت نے سائنس کی دنیا میں ایک نئی سمت متعین کی ہے، ایک ایسا راستہ جو شاید آنے والے برسوں میں ذیابیطس کے کئی دوسرے راز بھی آشکار کر دے۔

ذیابیطس کے بارے میں ہماری معلومات ہمیشہ بڑھتی جا رہی ہیں۔ کبھی ہم اسے صرف خوراک اور طرزِ زندگی سے جوڑتے تھے، مگر اب سائنس ہمیں بتا رہی ہے کہ کبھی کبھی اس کے پیچھے ایک چھوٹا سا جینیاتی تغیر بھی پوری کہانی بدل دیتا ہے، اور شاید، زندگی بھی۔

Tags:

baby diabetes casesbaby disease researchbeta cell biologybeta cell failurebeta cell malfunctionbiological researchbrain and pancreas connectionbrain development disordercellular stress responsechild brain diseaseclinical investigation studydiabetes and brain linkdiabetes geneticsdiabetes genetics discoverydiabetes in infantsDNA mutationDNA researchearly-onset diabetesElisa de Francoendocrine disorderendocrine malfunctionendoplasmic reticulum stressepilepsyFree University of Brusselsfuture diabetes therapygene editing experimentgene malfunctiongene-based treatment hopegene-linked diabetesgene-related diabetesgenetic cause of diabetesgenetic inheritanceGenetic Mutationgenetic scienceglobal scientific teamglucose control mechanismglucose metabolismglucose regulationhuman stem cellsinfant brain disorderinfant healthinfant mortality studyinherited disorderinherited metabolic disorderinsulin (hormone)insulin deficiencyinsulin production failureinsulin regulationinsulin secretioninsulin-producing cellsinternational research teammedical innovationMEDS syndromemicrocephalymicrocephaly epilepsy diabetes syndromeMiriam Cnopmolecular biologymolecular geneticsNeonatal diabetesneonatal healthneonatal medical studyneurodevelopmental impactnew genetic linknewborn diabetes discoverynewborn genetic disordernewborn health crisisnewborn health issuepancreas cell dysfunctionpancreas function studypediatric diabetes geneticspediatric endocrinologypediatric researchrare birth defectrare child diseaserare condition researchrare diabetes mutationrare diabetes researchrare diabetes typerare disease discoveryrare disease researchrare disorder awarenessrare gene studyrare genetic syndromerare genome discoveryrare genome mutationrare health newsrare illness understandingrare infant diabetesrare insulin disorderrare medical caserare medical discoveryrare pediatric conditionrare pediatric diabetes typerare syndrome awarenessrare syndrome identificationscience discoveryScientific Breakthroughstem cell experimentstem cell therapy potentialThe Journal of Clinical InvestigationTMEM167A geneTMEM167A mutation effectsuniversity of exeter
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Teacher-and-Education-system-in-Pakistan
Previous

ٹیچر اور اچار (مزاح/کالم)

The-story-of-poverty-hidden-behind-the-glitter-of-wealth-in-America
Next

امریکہ میں دولت کی چمک دمک کے پیچھے چھپی غربت کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme