Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-story-of-poverty-hidden-behind-the-glitter-of-wealth-in-America
اہم ترینتازہ ترینکالم

امریکہ میں دولت کی چمک دمک کے پیچھے چھپی غربت کی کہانی

By Akhtar Rasool
اکتوبر 21, 2025 5 Min Read
0

لوگوں میں ایک عام تاثر تو یہ ہے کہ امریکہ دولت مند ملک ہے اور اس کے شہری خوش حال ہیں لیکن اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ امریکہ میں امیر اور غریب کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ یہاں امارت کا تو اظہار ہوتا ہے مگر غربت چھپی ہوئی رہتی ہے اور جب اسے سامنے لایا جاتا ہے تو عام لوگوں کو حیرت ہوتی ہے۔

جب مؤرخین نے عام لوگوں کی تاریخ لکھی تو کئی تاریخی مفروضے پاش پاش ہو گئے اور معاشرے کی طبقاتی تقسیم اور غریب لوگوں کی حالت زار اور اس کی حقیقت کو نمایاں کیا ہے۔

اس موضوع پر اسٹیون پمپیر کی کتاب A People’s History of Poverty in America میں غربت کے مختلف پہلوؤں کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔ امریکہ میں غریبوں کا سب سے پہلا مسئلہ رہائش کا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ان کے لیے دو کمروں کے مکانات تعمیر کیے جاتے ہیں جہاں یہ کرائے پر رہتے ہیں۔ تنگ کمروں، گنجان آبادی، سڑک کے ارد گرد دکانیں اور ٹھیلوں کی وجہ سے یہاں ہر وقت شور و غل رہتا ہے۔

امریکہ میں ایسی آبادی کو ’گیٹو‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں رہائشیوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے اس لیے لوگ امداد باہمی کے تحت ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے آئرش، جرمن، اطالوی اور دوسرے ملکوں کے مہاجرین نے اپنی انجمنیں بنائی ہیں تاکہ بھوک، فاقے اور بے روزگاری کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے۔ جب کسی امریکی خاندان میں بہت زیادہ غربت ہو جائے تو وہ اپنا گھریلو سامان رہن رکھ کر وقتی طور پر گزارا کرتے ہیں۔

ریاست کی جانب سے خیراتی رہائشی منصوبہ عمل میں لایا گیا ہے۔ یہاں عام طور پر ان خاندانوں کو داخل کیا جاتا ہے جن کا کوئی پرسان حال اور نہ ہی ان کی کوئی غربت میں مدد کرنے کا سہارا ہو۔ ان مکانوں کی مجموعی حالت خراب ہوتی ہے۔ نہ صفائی کا انتظام ہوتا ہے، اور نہ ہی کھانے کے لیے مناسب غذا دی جاتی ہے۔ تنگ کمروں میں رہنے کی وجہ سے کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ علاج نہ ہونے کی صورت میں موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ بچوں کا شور و غل اور لوگوں کی آپس میں بحث و مباحثے کی وجہ سے سکون اور اطمینان نہیں ملتا ہے۔

خیراتی عمارتوں کے بعد غریبوں کو سستے ہوٹلوں میں رہائش دی جاتی ہے۔ یہاں بھی لوگوں کو بنیادی سہولتیں نہیں ملتیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کیروسین آئل کا لیمپ جلایا جاتا ہے۔

اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ غریبوں کی وقتی طور پر امداد کر دی جائے اور وہ روزگار تلاش کر کے یہاں سے منتقل ہو جائیں۔

بے گھر لوگوں کا ایک مسئلہ اس وقت پیش آیا جب گاؤں، قصبوں اور چھوٹے شہروں سے بے روزگار نوجوان مزدوری کی تلاش میں نکلے اور آوارہ گردوں کا یہ گروہ جگہ جگہ نظر آنے لگے۔ چونکہ ان کے پاس نہ رہائش ہوتی تھی اور نہ کھانے کا کوئی ذریعہ اس لیے یہ لوگ گھر گھر جا کر کھانا مانگتے اور ایک رات گزارنے کی بھی التجا کرتے تھے۔

لوگ ان کی مدد کرتے تھے۔ خاص طور سے امریکی افریقی خاندان ان کو کھانا بھی دیتے تھے اور رات گزارنے کے لیے جگہ بھی۔ ان آوارہ اور بے گھر نوجوانوں کے علاوہ ایسے لوگ بھی تھے جن کا یا تو کاروبار ڈوب گیا تھا یا ملازمت جاتی رہی تھی۔ یہ رات کو پارکوں کے بینچوں اور فٹ پاتھوں پر سوتے تھے۔ صبح چریٹی کی جانب ان کو کھانا دیا جاتا تھا۔

ان آوارہ گردوں میں خواتین بھی شامل ہوتی تھیں جو اپنی حفاظت کے لیے مردانہ لباس پہن لیتی تھیں، یہ بھی جگہ جگہ گھروں سے کھانا لے کر کھاتی تھیں اور رات گزارتی تھیں۔

چرچ کی جانب سے بھی بے روزگاروں کو کھانا دیا جاتا تھا۔ مگر شرط یہ تھی کہ پہلے وہ پادری کا وعظ سنیں اور اتوار کو چرچ میں جا کر عبادت کریں۔

کچھ خیراتی انجمنوں کی جانب سے مہم چلائی گئی تھی کہ جو خاندان اپنے بچوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے انہیں آسودہ خاندان اپنائیں گے۔ اس سلسلے میں کئی دردناک واقعات سامنے آئے جب کسی لڑکی یا لڑکے کو اس کی ماں سے جدا کر دیا گیا۔

آوارہ گردوں میں ویت نام اور عراق کی جنگوں میں حصہ لینے والے سابق امریکی فوجی بھی تھے جنہیں پہلے گوداموں میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کیا گیا۔ کافی وقت کے بعد ان کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش تو کی گئی مگر ان کی فوجی خدمات کا کوئی اعتراف نہیں کیا گیا۔

جب لوگوں کو کچھ کھانے کو نہیں ملتا تھا تو وہ کوڑے دان سے پھینکی ہوئی خوراک تلاش کر کے کھا لیتے تھے یا جب ٹرک بچے ہوئے کھانے کو لا کر کسی جگہ پھینکتا تھا تو یہ اس میں سے تلاش کر کے کھانے والی چیزیں اٹھا کر استعمال کر لیتے تھے۔ ریستوران بھی بچا ہوا کھانا لا کر فٹ پاتھ پر رکھتے تو یہ ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا تھا۔

بے روزگاری کو دور کرنے کا ایک طریقہ یہ نکالا گیا کہ افریقی اگر کوئی جرم کرتے تھے تو ان پر جرمانہ اور قید کی سزا ہوتی تھی۔ اگر یہ جرمانہ ادا نہیں کر سکتے تھے تو قید کی مدت بڑھا دی جاتی تھی۔ امریکی سرمایہ داروں نے قیدیوں کی اس حالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی جیل خانے قائم کیے۔

ان قیدیوں سے جیل کے مالک کھیتوں میں، فیکٹریوں میں اور تعمیراتی کاموں میں محنت و مشقت کے لیے کرائے پر دیتے تھے۔ اس طرح امریکیوں نے غلامی کے خاتمے کے بعد غلامی کی ایک نئی شکل دریافت کی۔ نجی جیلوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اور انہیں نئے مجرم قیدی بھی مل رہے تھے۔

امریکہ سے اس کی طاقت اور دولت کی فراوانی کے باوجود مفلسی کا خاتمہ نہیں ہوا، بلکہ موجودہ حالات میں مفلسی کی شرح بڑھ گئی ہے۔ بے گھر اور بے روزگار لوگوں کی تعداد جگہ جگہ خیرات مانگتی پھرتی ہے اور اپنی مفلسی کو ختم کرنے میں نا کام ہو گئی ہے۔

سرمایہ دارنہ نظام نے طبقاتی تقسیم کو بڑھا کر امیر و غریب کے درمیان دوری پیدا کر دی ہے جو انسانیت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔

بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو

Tags:

A People’s History of Poverty in AmericaAfrican American generosityAmerican capitalismAmerican dream mythAmerican homelessnessAmerican hunger crisisAmerican labor classAmerican poorAmerican veterans neglectbeggars in Americacapitalism criticismcapitalist greedcapitalist society flawscharity dependencycharity housing projectscharity programs USAcheap hotelschild poverty USAchurch charitydisplaced workersdumpster foodEconomic Disparityeconomic inequality USAeconomic injusticeeconomic reform neededexploitation of poorfaith-based charityFood Insecurityfood waste scavenginggender and povertyGerman immigrants Americaghettos in Americagovernment aid failureGreat Depression parallelshidden povertyhomeless soldiershomelessness epidemichousing crisis USAhuman dignity losshunger in Americaincome gap wideningindustrial exploitationinequality in the USinequality in urban Americainner city povertyinvisible poorIraq war veteransIrish immigrants AmericaItalian immigrants USAjobless youthjustice for poorlack of sanitationlow wage workerslow-income housingmarginalized citizensmodern slaverymoral crisis in Americamutual aid societiespoor childrenpoor communitiespoor families Americapoor living conditionspoor vs wealthy dividepoor womenpost-slavery systempoverty among immigrantspoverty awarenesspoverty in americapoverty line USApoverty statisticsprison laborprivate prisons USApublic housing crisisrestaurant leftoversrich nation poor peoplerich vs poor Americaslum life USAsocial aid programssocial class oppressionsocial compassion losssocial decaysocial injusticesocial responsibilitysoup kitchensSteven Pimper bookstreet homelessnessstruggling AmericansSystemic povertytemporary sheltersunderclass Americaunemployment and hungerunemployment crisisUrban PovertyUS class divideUS social inequalityveterans homelessnessVietnam war veteranswealth inequalitywelfare crisiswelfare dependencywelfare housingwomen in povertyworking class struggleworking poor America
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
A-new-and-rare-form-of-diabetes-discovered-in-newborns
Previous

نوزائیدہ بچوں میں دریافت ہونے والی ذیابیطس کی ایک نئی اور نایاب شکل

urdu-short-stories-and-fictions
Next

پاگل پن کا قانون (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme