لائیکا کی المناک کہانی: ایک آوارہ کتیا، جو ستاروں تک جا پہنچی
3 نومبر 1957 کا دن، جب سوویت یونین نے خلا کی وسعتوں میں ایک تاریخ رقم کی۔ زمین کے مدار میں پہلی بار کسی جاندار کو بھیجا گیا۔ لیکن یہ کوئی انسان نہیں تھا—یہ ایک کتا تھا، ایک عام سا آوارہ کتا، جو ماسکو کی گلیوں میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ یہ…
پھسلتے ہوئے چہرے
اگر یہ بات اصولی طور پر تسلیم کر لی جائے کہ محبت کرنا، محبت کیے جانے سے بہتر ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ کامیاب ترین قسم کی محبت وہ ہے جس کی جوابی کارروائی کی کوئی توقع ہو نہ امید، یعنی یک طرفہ محبت۔۔ اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ…
صحرا میں تبدیل ہوتا سندھ
زمین اور اس کے وسائل کی ملکیت، قبضے اور تقسیم کا سوال، جو درحقیقت انسانیت کے لیے ایک مشترکہ ورثہ ہونا چاہیے، ہزاروں سال سے متنازع مسائل میں شامل رہا ہے اور ریاستوں کے اندر اور ان کے درمیان تنازعات کی ایک بڑی وجہ بھی۔ اگرچہ زمین بذاتِ خود کوئی خاص قدر…
حماس اسرائیل معاہدہ: حماس نے سب کو پسپا کر دیا
غزہ میں اسرائیل کی جنگ 15 ماہ کے بعد جنوری 2025 کو اپنے انجام کی طرف بڑھ گئی ہے۔ اس کا یہ انجام اس معاہدے کے نتیجے میں ہوا ہے جو اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان ثالثوں کی مدد سے ہوا ہے۔ معاہدے کے دو اصل فریق…
اداسی کا مسکراتا چہرہ: لوگوں کو ہنساتے کامیڈینز کے اندر کی درد بھری دنیا
امر جلیل کے مشہور سندھی ڈراما ’مٹیءَ جا مانڑھو‘ (مٹی کے آدمی) کا ایک مکالمہ ہے، ”میں وہ مسخرہ ہوں، جو دنیا کو ہنسا کر، پردے کے پیچھے جا کر رو پڑتا ہے۔۔“ یہ مکالمہ کامیڈینز کے مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپے دکھ کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ کامیڈینز کی زندگی ایک…
کونپل (افسانہ)
سگیاں کے پنڈت جے رام کی لڑکی سینکری کے دل میں بچپن ہی سے جس چیز کی زبردست خواہش پیدا ہو گئی تھی، وہ سونے کے زیور تھے اور ان میں بھی طلائی کنگنوں پر تو جیسے اس کا دم نکلتا تھا۔ سگیاں کی بےچاری غریب دیہاتنیں تو چاندی کی بالیوں، چوڑیوں، کڑوں، کنٹھوں،…
زندگی کا مقصد
کسی بھی معاشرے میں زندگی کے کئی مقاصد ہوتے ہیں۔ کچھ افراد کی دلچسپی اس میں ہوتی ہے کہ دنیاوی سہولتوں کو حاصل کیا جائے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ اور دولت اکھٹی کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق کو غصب کیا جائے۔ بدعنوانی، غبن اور رِشوت کے ذریعے اپنا…
اخلاقی زخم، احساسِ جرم۔۔ لڑنے سے انکار کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کا کیا کہنا ہے؟
”غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ایک نہتے فلسطینی نوجوان کے قتل کا منظر میرے ذہن میں نقش ہو گیا ہے۔“ یہ کہنا ہے اسرائیل کے آرمڈ کورپس کے افسر 28 سالہ یوتم ویلک کا، جو ان اسرائیلی فوجیوں میں شامل ہیں جنہوں نے جنگ میں مزید حصہ لینے سے انکار کر دیا…