پیتل کا گھنٹہ (منتخب افسانہ)
آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے، لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ…
تین تالے لگا کے بھی ہم لوگ محفوظ کیوں نہیں؟
انسان نے قدرت کو تسخیر کر لیا، زمین فتح کر لی، چاند پہ جا بیٹھا، یہ سب باتیں بچپن سے سن رہے ہیں ہم، آنیاں جانیاں دیکھنے والی ہیں لیکن اب، اس وقت، ہم لوگ اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں۔ لوہے کے بڑے بڑے گیٹ، ہر گلی محلے کے چوکیدار، بلکہ اب…
جرمنی جانے کے خواہشمندوں کے لیے آپرچونیٹی کارڈ۔۔ آپ اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
جرمن حکومت نے ملک کو درپیش ملازمین اور ہنر مند کاریگروں کی کمی پوری کرنے کے لیے یکم جون سے ’چانسنکارٹ‘ (Chancenkarte) یا ’اپرچونیٹی کارڈ‘ یعنی موقع کارڈ کا اجرا شروع کر دیا ہے، جس کے بعد اب غیر یورپی افراد کے لیے جرمنی میں قانونی طور پر کام کرنا قدرے…
شمسی طوفان کیا ہے اور کیسے ہماری زندگی کو متاثر کرتا ہے؟
حال ہی میں ذرائع ابلاغ نے گزشتہ اکیس برسوں میں اب تک کے سب سے طاقت ور شمسی طوفان کے زمین سے ٹکرانے کو رپورٹ کیا، اس طوفان کے سبب زمین پر آنے والی مقناطیسی لہروں سے قطب شمالی کی روشنیاں جنوب تک پھیل گئیں۔ امریکا، برطانیہ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ میں روشنی کے…
نیم ایڈریس پلیٹ (ہندی ادب سے ایک افسانہ)
’’کیا نام تھا اس کا؟ اُف بالکل یاد نہیں آ رہا ہے۔۔‘‘ کیدارناتھ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹا کر پھینک دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔ ’’یہ کیا ہو گیا ہے مجھے۔۔ ساری رات بیت گئی، نیند ہی نہیں آرہی ہے۔۔ ہوگا کچھ نام وام۔۔ نہیں یاد آتا تو کیا کروں، لیکن نام تو…
لاش کو عزت دو
بالخصوص 2018 سے اب تک جتنے بھی بجٹ پیش کیے گئے، ان کا ڈھانچہ آئی ایم ایف نے بنایا۔ ہم نے صرف اس ڈھانچے پر لیپا پوتی کی۔ اب جو بجٹ آنے والا ہے، وہ بھی اس سیریز کی اگلی کڑی ہے۔ آسان لفظوں میں قیدی کو زنجیر کی لمبائی تک چہل قدمی کی آزادی…
احساسِ ملکیت اور کسی چیز کے کھو جانے پر اداس ہونے کی نفسیات
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ کی زیر ملکیت یا زیر استعمال کوئی شے ٹوٹ جائے، کھو جانے یا چرا لی جائے تو آپ افسوس اور اداسی کیوں محسوس کرتے ہیں؟ یہ اداسی اور افسوس صرف معاشی نقصان پہنچنے کا نہیں ہوتا، بلکہ در حقیقت اس شے سے ہماری جذباتی وابستگی ہوتی…
’موسم والا‘ کا مہتاب رام اور صادقیہ نہر کا ’منیاں والا پل‘
دسمبر کی روشن دوپہر تھی۔ دھند چھٹ چکی تھی اور اجلی اجلی دھوپ نے گیہوں کے پودوں پر پڑی اوس کے قطروں کو خوب جگمگا دیا تھا۔ یوں دکھائی پڑتا تھا، جیسے گندم کے کھیتوں میں آج ننھے ننھے سورج اُگ آئے ہوں۔ احمد اور میں منچن آباد سے بہاول نگر جاتی سڑک کنارے، زنگ…