
(دریاؤں کی جدوجہد کے عالمی دن کے موقع پر سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا، گڈاپ شاخ) اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے 16 مارچ 2026 کو کونکر لائبریری گڈاپ میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں سندھ کے دانشوروں، ادیبوں، محققین اور ماہرینِ قانون نے شرکت کی۔ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری صاحب نے اس تقریب میں کلیدی خطاب سندھی زبان میں کیا، یہاں اس کو تحریری شکل میں اردو ترجمہ کر کے
یہاں پیش کیا جا رہا ہے)
ایشیا میں ہماری تہذیب کی بنیاد ندیوں پر ہے۔ یہ تہذیب اپنے مختلف ناموں کے ساتھ پتھر کے دور سے اس خطے میں لوگوں کو شعور دیتی چلی آئی ہے۔ انسانوں نے بہت سے تجربات کیے اور ان کی روشنی میں دیکھا کہ ندیاں ہمیں دانائی، زندگی، تحفظ اور نشوونما کے سامان مہیا کر سکتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ گروہ در گروہ ندیوں کے کناروں پر آباد ہو گئے۔ جب وہ یہاں آئے تو ان ندیوں نے زراعت کا بہترین بندوبست کیا، جس کی بدولت انسانی آبادی میں اضافہ ہونے لگا۔
چونکہ ندیوں سے ہونے والی زراعت کا فائدہ زیادہ تھا، اس لیے زندگی کو تحفظ ملا۔ ہم نے دیکھا کہ دریائے سندھ اور اس سے منسلک ندیوں کے کناروں پر بڑی بڑی بستیاں قائم ہوئیں، جن میں سے بعض ایسی تھیں جہاں ایک وقت میں لاکھ سے زائد لوگ رہ سکتے تھے۔
اب جب شہروں میں آبادی کا تناسب بڑھنے لگا، تو وہی لوگ جنہیں ندیوں نے تحفظ اور زندگی دی تھی اور جن کے دانہ پانی کا فکر کیا تھا، وہی ان ندیوں کے دشمن بننے لگے۔
ندیاں تین ذرائع سے برقرار رہتی ہیں:
1. موسم: جب برف گرتی ہے یا بارش ہوتی ہے تو ندی بھرتی ہے اور زندہ رہتی ہے۔
2. راستہ اور وقت: جب اسے صحیح راستہ ملتا ہے تو وہ مزید بارشوں کا سبب بنتی ہے۔
3. تقدس اور صفائی: جب تک ہم ندی کے پانی کو پاک و صاف نہیں رکھیں گے، ندی برقرار نہیں رہے گی اور ہم سے روٹھ جائے گی۔ قدیم زمانے میں ندی کنارے بسنے والے شہروں میں ندی کی لگ بھگ پوجا کی جاتی تھی۔
اگر ہم ماضی کے تناظر میں دیکھیں تو ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ سندھو تہذیب کے اتنے بڑے مراکز جیسے ہڑپا اور موہن جو دڑو، جن کی کھدائی بھی ہو چکی ہے اور جن کی معاشی مضبوطی کے ثبوت بھی موجود ہیں، ان لوگوں کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں ہوئی؟ وہ کیوں تباہ ہوئے؟ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب آپ ندی کنارے شہر بساتے ہیں اور لالچ یا ضرورت کے تحت اس کے راستے پھیلاتے ہیں، رخ بدلتے ہیں یا بند باندھتے ہیں، تو آپ فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)
نتیجہ یہ نکلا کہ سندھو جیسی عظیم تہذیب 1900 قبل مسیح میں اپنے خاتمے کو پہنچ گئی۔ ایک تباہی اور بربادی کا جنم ہوا، بیماریاں پھیلیں، فصلیں ناکام ہوئیں اور لوگ اس بربادی کو دیکھ کر وہاں سے ہجرت کر گئے۔ کیا یہ سبق ہمارے لیے کافی نہیں؟
آج ہم نے ندیوں کو سیاست کی نذر کر دیا ہے۔ اگر پنجاب میں ندی کی بات کی جائے تو تناؤ پیدا ہوتا ہے، اور اگر سندھ میں کسی فورم پر ندی کا نام لیا جائے تو لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ندیاں سیاسی کیسے ہو گئیں؟ انگریز دور میں جب ندیوں پر بیراج بنائے گئے، تو مقصد یہ تھا کہ اناج کی پیداوار بڑھے تاکہ یہاں سے گندم اور کپاس کے جہاز بھر کر مغرب بھیجے جائیں، کیونکہ جنگ کی وجہ سے وہاں کی زراعت تباہ ہو چکی تھی۔
اس مقصد کے لیے یہاں کینال اور بیراج سسٹم بنایا گیا اور پانچ دریاؤں کا رخ (alignment) تبدیل کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری زمین کی خاصیت خراب ہونے لگی۔ زمین کیوں خراب ہوتی ہے؟ اگر آپ کراچی سے حیدرآباد آ رہے ہوں اور نوری آباد کے مقام پر راستہ روک دیا جائے تو آپ بیزار اور غصہ ہوں گے کہ میرا راستہ کھولا جائے۔ بالکل اسی طرح جب آپ ندیوں، نالوں اور ماحول کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، تو پانی بپھر جاتا ہے۔ وہ آگے بڑھنے کے بجائے زمین کے اندر جذب ہونے لگتا ہے۔ جب پانی زمین کے نیچے جاتا ہے اور اسے راستہ نہیں ملتا، تو وہ دائیں بائیں ٹکراتا ہے اور اوپر کی طرف نکلتا ہے۔ جب یہ اوپر آتا ہے تو اپنے ساتھ زمین کے اندر موجود سلفیٹ، کاربونیٹ، فاسفیٹ اور سوڈیم بھی اوپر لے آتا ہے، جس سے زمین ”کلر“ (شور زدہ/ تھور کا شکار) ہو جاتی ہے اور اس کی زرعی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بیراج اور کینال نہیں تھے، تب زمین میں سیم و کلر بھی نہیں تھا۔ سادہ لفظوں میں، دریاؤں کے ساتھ انسانی مداخلت کا نتیجہ اچھا نہیں نکلا۔ ہم نے سیاست کی وجہ سے ڈیم بنائے۔ تقسیم کے بعد تین ندیاں ادھر گئیں اور تین ادھر۔ اب اگر کسی جاندار کو کاٹ کر آدھا کر دیا جائے تو نہ اس کی دم کام کرے گی نہ وہ چل سکے گا۔ یہی ہمارے ساتھ ہوا۔ ندی کے احترام کو دنیا کی عدالتوں نے تسلیم کیا ہے کہ ندی کو بھی ایک جاندار کی طرح سمجھا جائے، اس کے بھی حقوق ہیں۔ لیکن ہمیں تو ابھی تک یہ بھی نہیں معلوم کہ سندھو کے ساتھ بہنے والی قدیم ندیاں (سرسوتی، ہاکڑو وغیرہ) کہاں گم ہو گئیں؟
ہماری بربادی کی تین وجوہات ہیں: سیاست، جہالت اور فرسودہ طریقہ زراعت۔۔ دریائے سندھ کا 92 فیصد پانی صرف زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور ہم اب بھی ہزاروں سال پرانے ”فلڈ اریگیشن“ (سیلابی آبپاشی) کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ دنیا میں نئے طریقے آ چکے ہیں، لیکن ہم وہی پرانا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں جس سے پانی ضائع ہوتا ہے۔ اگر ہم آبپاشی کا طریقہ بدل لیں، تو چار سال کے اندر دریا کی روانی بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن جو قومیں خوابِ خرگوش میں ہوں اور اپنی عادتیں بدلنے کو تیار نہ ہوں، ان کی تباہی یقینی ہے۔
اس میں حکومت کا بڑا کردار ہے کیونکہ اس نے معاشرے کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ محکموں کو ماسٹر پلان دے اور عوام کی آگاہی کے لیے اسے تعلیمی نصاب کا حصہ بنائے۔
آج کا دن (Action Day) ماتم یا نوحہ خوانی کا دن نہیں ہے کہ ہم بیٹھ کر روئیں کہ ہم لٹ گئے؛ بلکہ یہ عمل کا دن ہے۔ ہمیں وہ اقدامات کرنے ہیں جن سے ندی ناراض نہ ہو۔ ندی کی روانی میں کم سے کم رکاوٹ ڈالی جائے۔ دنیا میں اب یہ متفقہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ”مزید ڈیم نہیں“ (No More Dams)۔ پانی کو اس کے قدرتی راستے پر چلنے دیا جائے۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمیں ”فلڈ اریگیشن“ سے جان چھڑانی ہوگی۔ پودے کو اگنے کے لیے صرف چند قطروں کی ضرورت ہوتی ہے، دھوپ اور ہوا مفت ملتی ہے۔ اگر ہم نے آبپاشی کا نظام ریوائز (تبدیل) نہ کیا تو ہم فنا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ پانی مقدس ہے، اس میں گندگی اور صنعتی فضلہ نہ ڈالیں۔ 1100 کلومیٹر کے سفر میں جہاں بھی صنعتیں ہیں، وہ ندیوں میں کچرا پھینک رہی ہیں۔ سکھر جیسے شہروں میں جہاں ندی سے پانی پینے کے لیے لیا جاتا ہے، وہاں اس سے تھوڑا پہلے شہر بھر کا سیوریج (گندا پانی) اسی ندی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوگی؟ اس پر جوڈیشل کمیشن بھی بنے، رپورٹس بھی آئیں، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی ٹھوس قانون سازی یا عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے دیہاتوں کو نظر انداز کر کے شہروں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ جب دیہات میں سہولتیں نہیں ہوتیں تو لوگ شہروں کا رخ کرتے ہیں، جس سے کچی آبادیاں جنم لیتی ہیں۔ ان آبادیوں میں نہ پلاننگ ہے نہ پانی کا انتظام۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز بناتے وقت ہم ماحول کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ماحول پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔۔ ارے بھئی، کیا ماحول آپ جا مردہ ضمیر ہے، جو اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا!؟ یوں ہم ماحول کو نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ اس زمین پر جنگلی حیات بھی ہماری برابر کی شریک ہے۔
منچھر جھیل کی مثال لیجیے، جس کے بارے میں ابوالفضل نے لکھا تھا کہ یہ 400 کوس اسکوائر پر محیط تھی، جس کا پانی شفاف تھا اور جو حکومت کو کثیر ریونیو دیتی تھی۔ آج وہاں کے مچھیرے اپنی کشتیاں گروی رکھنے پر مجبور ہیں اور شہروں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ سب ہمارے غلط نظام اور ہائیڈرولک انجینئرنگ کے مشورے کے بغیر بنائے گئے بندوں کا نتیجہ ہے۔
منچھر اور سندھو دریا بہن بھائی کی طرح تھے۔ سردیوں میں منچھر کا پانی دریا میں جاتا اور گرمیوں میں دریا کا پانی منچھر میں آتا، یوں پانی ری سائیکل ہوتا رہتا تھا۔ ہمیں اس صدیوں پرانے نظام کو سمجھنے اور واپڈا کی پلاننگ کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم نے پانی پر کتنے تحقیقی مطالعے کیے؟ انگریز نے جو بیراج بنا دیے، کیا وہ پتھر پر لکیر ہیں؟ کیا انہیں ری ڈیزائن نہیں کیا جا سکتا؟ ہمارے جنگلات اس لیے تباہ ہوئے کیونکہ ہم نے دریا کے دونوں طرف بند باندھ دیے، جس سے جنگلوں تک پانی پہنچنا بند ہو گیا۔ اگر ہم ان بندوں میں دروازے (Regulators) بنائیں تو سیلابی صورتحال میں وہ پانی قدرتی طور پر جنگلوں کو سیراب کر سکتا ہے۔
ہمیں اپنے قدیم اور نوآبادیاتی دور کے آبپاشی نظام پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ جب تک ہم ماضی کے حادثات سے سبق سیکھ کر اپنے نظام کو ”ری ماڈل“ نہیں کریں گے، ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ایکشن ڈے کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہم نئی سوچ کے ساتھ کام کا آغاز کریں۔




