
وادی پاچران سے آگے بڑھتے ہوئے ہمارا سفر مول کے تاریخی شہر کی جانب جاری تھا، جہاں راستے میں مول ندی جیسی خوبصورت ندی بھی پڑتی ہے۔ مول ندی نہ صرف جامشورو بلکہ کراچی کے ملیر کی ایک وسیع اراضی کے لیے بھی بے حد اہم ہے، خاص طور پر ملیر ندی کے تناظر میں اس کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔ ہم نے طے کیا کہ اس ندی کو صرف جغرافیائی نہیں بلکہ تاریخی تناظر میں بھی سمجھا جائے، اور ساتھ ہی مول شہر کی اہمیت کو بھی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے۔
جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے، وادی پاچران کے مناظر بدلتے گئے۔ کہیں گندم کی تیار فصل لہلہا رہی تھی، کہیں کٹائی جاری تھی اور کہیں ندی کے کناروں سے ریت اور بجری نکالی جا رہی تھی۔ وہ راستہ جو کبھی سادہ اور ایک ہی سمت میں جاتا تھا، اب کئی حصوں میں بٹ چکا تھا۔ بھاری ٹرکوں کے نشانات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ یہاں فطرت کے ساتھ مسلسل چھیڑ چھاڑ جاری ہے، بلکہ اس چھیڑ چھاڑ کو اگر عصمت دری کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
آگے بڑھتے ہوئے ایک گاؤں
’موسیٰ چھورو گوٹھ‘ آتا ہے۔ ہم اسی موسیٰ چھورو گوٹھ سے چند قدم آگے نکل کر ایک قدیم قبرستان تک پہنچے۔ یہ کوئی عام قبرستان نہیں بلکہ یہاں چوکنڈی طرز کی قدیم خوبصورت قبریں اپنے اندر ایک پوری تاریخ سمیٹے آتے جاتے ہوئے لوگوں کو متوجہ کرتی ہیں، ہم نے وہاں جا کر ان قبروں کا بغور مشاہدہ کیا۔ چوکنڈی طرز کے نقش و نگار سے مزیں پتھروں پر کی گئی نفیس کندہ کاری، اور وقت کی دھول میں لپٹی یہ قبریں سب کچھ ایک گمشدہ تہذیب کی کہانی سنا رہی تھیں۔
مگر افسوس کہ اس عظیم ورثے کا حال بھی دل کو دکھی کرنے والا تھا۔ کئی قبریں مسمار ہو چکی تھیں۔ موسمی تغیرات، طوفان، بارشیں اور انسانی بے حسی سب مل کر اس تاریخ کو مٹانے میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔ آثارِ قدیمہ اور کلچرل ڈیپارٹمنٹ کی لاپرواہی بھی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ اس جگہ کو چار دیواری میں محفوظ نہ کیے جانے کے باعث انسانوں اور جانوروں کی آمد و رفت نے اس کے وجود کو مزید کمزور کر دیا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے تاریخ کے گواہ بنے یہ قدیم آثار اپنی آخری سانسیں لے رہے ہوں، اور ان کی کہانی سننے والا کوئی نہ ہو۔
ہم نے اس قبرستان میں چند تصویریں بنائیں اور پھر مول کی جانب بڑھنے کا ارادہ کیا، تاکہ اس کی تاریخ کو مزید گہرائی سے سمجھا جا سکے۔
اسی دوران، جب ہم ان قدیم قبروں کے درمیان کھڑے ماضی کو محسوس کر رہے تھے، دور سے ون ٹو فائیو موٹر سائیکل کی آواز گونجی، جو تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہی تھی۔ جیسے ہی ہم نے اس جانب دیکھا، طلحہ اور شکور ہمارے قریب پہنچ چکے تھے۔
اب ہمارا اگلا پڑاؤ مول تھا جہاں تاریخ، روایت اور فطرت ایک نئی کہانی سنانے کے منتظر تھے۔
مول ندی کے حوالے سے بدر ابڑو صاحب اپنی کتاب ”کوہستان جو سفر“ کے ”کراچی کے کوہستان“ والے باب میں صفحہ نمبر 7 پر لکھتے ہیں کہ مول ندی کھیرتھر کے مشرق اور مغرب کے درمیان واقع ہے۔ اس علاقے کی متعدد چھوٹی ندیاں مل کر اس میں شامل ہوتی ہیں، اور پھر یہ پانی آگے جا کر ملیر ندی میں گرتی ہے۔ یہ خطہ مجموعی طور پر تقریباً 3364 مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے میں جمع ہونے والا برساتی پانی مول ندی کے ذریعے ملیر ندی تک پہنچتا ہے، اور اگر مول ندی نہ ہو تو ملیر ندی کی وہ اہمیت برقرار نہیں رہتی۔ اسی تناظر میں مقامی لوگوں میں ایک محاورہ بھی مشہور ہے ”ملير تڏھن مَرڪي، جڏھن ماڻس مول ڀرجي“ یعنی ملیر تبھی احساسِ تفاخر سے سرشار ہوتا ہے جب اس کی ماں لبریز ہو کر اس سے آن ملتی ہے۔ مول، کھدیجی اور ملیر ندیوں کا پانی کراچی سے گزرتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے، خاص طور پر گزری کھاڑی میں۔ ”گزری“ دراصل ایک قدیم بندرگاہ کا نام بھی ہے اور ایک سمندری مچھلی کا بھی، جو اس علاقے میں پائی جاتی تھی۔
مول ندی کا پانی نہایت طاقتور ہوتا ہے۔ ماضی میں اس کے کناروں پر مضبوط بند تعمیر نہیں تھے، جس کی وجہ سے یہ ندی اکثر تباہی مچایا کرتی تھی۔ مول ندی دراصل ملیر ندی کا سب سے بڑا برساتی بہاؤ ہے، جو کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں تقریباً 2100 فٹ بلندی سے نیچے کی جانب بہتا ہے۔ یہ اب ایک موسمی (خشک) ندی ہے، جو کھدیجی ندی سے جا کر ملتی ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ ایک وقت تھا، جب سال کے بارہ مہینے اس میں پانی کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔
یہاں یہ ذکر بے محل نہ ہوگا کہ کھدیجی ندی کے آبشاروں سے ڈملوٹی کے علاقے میں 10 سے 11 مقامات پر تقریباً 40 فٹ گہرے کنویں 1894ء میں انگریزوں نے تعمیر کیے تھے، جو اس زمانے میں کراچی کو پانی فراہم کرتے تھے، جب شہر کی آبادی بہت کم تھی۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ ہالیجی، کینجھر اور حب ندی کا پانی مل کر بھی کراچی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا نہیں کر پا رہا۔
یہ بھی پڑھیں
دریاؤں کے لیے جدوجہد کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے آگاہی پروگرام
مول شریف اور دریا شاہ دربار کے حوالے سے بدر ابڑو صاحب اپنی کتاب ”کوھستان جو سفر“ میں صفحہ نمبر 56 پر لکھتے ہیں کہ گڈاپ سے پوجا ماتا کی اجازت لے کر ہم مول شریف کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ہندوؤں کی ایک منفرد اور مقدس جگہ ہے جہاں ”شریف“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسے روہڑی شریف اور سیہون شریف میں ہوتا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ علاقہ دیہی ہے، جہاں مذہبی تفریق کم رہی ہے اور مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے قریب رہتے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں ’دریا پیر‘ کا تصور بھی اہم ہے، جسے ’اڈیرو لال‘ (جھولے لال) کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جبکہ مسلمانوں کے ہاں اسے خواجہ خضر سے منسوب کیا جاتا ہے۔
مول، تھانہ بولا خان کی مغربی حدود اور کراچی کے شمالی کناروں میں واقع ہے۔ یہ ان علاقوں میں شامل ہیں جو گڈاپ کے بعد نمایاں آبادی رکھتے ہیں۔ مول ندی، جسے سندھی میں ”نئَیں مول“ کہا جاتا ہے، اسی علاقے سے گزرتی ہے۔ یہاں ہندوؤں کا ایک اہم مندر تقریباً 10 ایکڑ کے رقبے پر مشتمل چار دیواری کے اندر واقع ہے، جس میں ایک آشرم بھی قائم ہے۔ ہم گڈاپ سے پوجا ماتا کی اجازت لے کر یہاں پہنچے تو مقامی لوگوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور نہایت احترام کے ساتھ رہنمائی فراہم کی۔
مندر کے احاطے میں جھولے لال سے منسوب ایک کنواں موجود ہے۔ وہاں کے ایک شیو دھاری نے بتایا کہ یہاں پوجا ماتا خود ”جوت“ روشن کرتی ہیں، اور ان کی حیثیت ایک زندہ پیر جیسی سمجھی جاتی ہے۔ مول کا یہ مندر دریا شاہ دربار کے نام سے بھی مشہور ہے۔ مندر کے اندر ایک چھوٹے سے کمرے میں جھولے لال کی تقریباً سات من وزنی سنگِ مرمر کی مورتی رکھی ہوئی ہے، جو ہندوستان سے منگوائی گئی ہے۔ یہ مورتی فنِ سنگ تراشی کا ایک نایاب شاہکار ہے، جس میں فنکار نے بے مثال مہارت اور باریک بینی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، وہاں موجود منتظمین نے ہمیں اس کی تصویر لینے سے منع کیا۔
مول کے حوالے سے بدر ابڑو صاحب اپنی مذکورہ بالا کتاب کے صفحہ نمبر 373 پر لکھتے ہیں کہ مول کی حدود میں ایک مقام پر پتھروں کا گول دائرہ موجود ہے، جہاں تقریباً 14 پتھر رکھے گئے تھے۔ ان میں سے نو پتھر اب بھی ایستادہ ہیں، جبکہ پانچ غائب ہو چکے ہیں۔ اس دائرے کا قطر تقریباً 9.9 میٹر ہے، اور پتھروں کے درمیان فاصلے بھی باقاعدہ پیمائش کے مطابق ہیں۔ یہ ساخت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ کسی قدیم تہذیب یا رسوماتی نظام کا حصہ رہی ہوگی، ایک ایسا راز جو ابھی تک مکمل طور پر کھل نہیں سکا۔
مزید یہ کہ بدر ابڑو صاحب لکھتے ہیں کہ وہ مول شریف میں سیف الملوک محمد نور حملانی کے ہاں ٹھہرے، جو اس علاقے کے ناظم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں اس نوعیت کی مزید قدیم جگہیں بھی موجود ہیں، جن میں ایک بڑا پتھر بھی شامل ہے جس پر مختلف نقوش کندہ ہیں۔ محمد نور نے اپنے بھائی علی نواز حملانی کے ساتھ انہیں ان مقامات کی سیر کروائی۔
ان تمام حوالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مول کا علاقہ نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے بلکہ آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے بھی ایک خاموش مگر قیمتی تاریخ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، ايک ایسی تاریخ، جو اب بھی مٹی، پتھروں اور خاموش یادگاروں میں سانس لے رہی ہے۔
کچے راستوں سے گزرتے ہوئے جب ہم آگے بڑھے تو ایک مقام پر پکی سڑک آن ملی۔ یہاں سے ایک راستہ مول شہر کی طرف جاتا تھا اور دوسرا سَری شہر کی جانب نکلتا تھا، جو آگے چل کر نوری آباد اور سپر ہائی وے (اب ایم نائن) سے جا ملتا ہے۔ جیسے ہی ہم پکی سڑک پر آئے، ہمارے سفر کا انداز بدلنے لگا مگر احساسات ویسے ہی رہے۔
مول شہر کی جانب بڑھتے ہوئے دونوں اطراف زندگی پوری شدت کے ساتھ موجود تھی۔ کہیں پیاز کی فصل تیار کھڑی تھی اور مزدور اسے اکٹھا کر رہے تھے، کہیں گاڑیوں میں بوریاں لاد کر منڈیوں کی طرف روانہ کی جا رہی تھیں۔ دوسری طرف گندم کی سنہری فصل لہلہا رہی تھی، کہیں کٹائی مکمل ہو چکی تھی، کہیں ابھی جاری تھی۔ پہاڑوں کے درمیان یہ زرعی منظر ایک عجیب خوبصورتی لیے ہوئے تھا، جیسے سختی اور نرمی ایک ساتھ زندہ ہوں۔
جیسے ہی ہم مول شہر کے بازار میں داخل ہوئے، بڑی بڑی عمارتیں، دکانیں اور موبائل ٹاور نظر آنے لگے۔ یہ وہی مول تھا، جہاں روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کے ساتھ چل رہی تھیں۔
نور احمد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہاں کی چائے خاص ہے، تو ہم ایک سادہ سے ہوٹل میں جا بیٹھے، جو سڑک کے کنارے واقع تھا۔ ہوٹل کے پیچھے مندر اور قریب ہی ایک مسجد موجود تھی یہ منظر خود اس علاقے کی خوبصورت مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا عکاس تھا۔
چائے آنے میں تقریباً پندرہ سے بیس منٹ لگے، مگر جب آئی تو وہ ہماری توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔ ہم جو خود کو چائے کے ”شیدائی“ سمجھتے ہیں، مسکرا کر وہ چائے پینے پر مجبور ہو گئے۔ بسکٹ بھی ہوٹل میں موجود نہیں تھے، تو باہر سے لے کر آئے۔ کچھ لمحے بیٹھے، تصویریں بنائیں، اور پھر دوبارہ سفر کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
اب ہمارا رخ اگلی منزل کی طرف تھا، چنچڑی کے راستے پیر غیب کی جانب، جہاں باران ندی کا سنگم اور کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے کی ایک اور کہانی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔
یہ سفر اب صرف راستوں کا نہیں رہا تھا، یہ ایک احساس تھا۔۔ ایک گواہی تھا۔۔۔ اور ایک ایسی کہانی، جو شاید ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔۔
جاری…
یہ بھی پڑھیں:




