Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Kirthar National Park
اہم ترینتازہ ترینکالمماحولیات

کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)

By Akhtar Rasool
مارچ 26, 2026 5 Min Read
0

یہ سفر کونکر گبول اسٹاپ سے شروع ہوا۔ صبح ٹھیک 7 بج کر 45 منٹ پر ہم نے اپنی موٹر سائیکلوں کا رخ کھیرتھر کے دامن کی طرف موڑ دیا۔ اس سفر میں میرے ساتھ حفیظ بلوچ، اختر رسول، نور احمد، عبدالباسط، سارنگ اور دو دوست طلحہ اور شکور شامل تھے۔ ہم سب کے دل میں ایک ہی مقصد تھا، کھیرتھر کے پہاڑوں میں موجود تاریخی آثارِ قدیمہ کو دیکھنا اور اس سچ کو محسوس کرنا، جسے شاید جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہاں رومی طرز کی قبریں، جنہیں سندھی میں “گاڑی قبر” کہا جاتا ہے، آج بھی خاموشی سے ایستادہ ہیں۔ کوہستان کے مختلف قبائل کے قدیم قبرستان، پتھروں پر کی گئی خوبصورت نقش و نگاری کے ساتھ، اس خطے کی تاریخ کے امین ہیں مگر شاید دیکھنے والوں کی آنکھیں بند ہیں۔
نور احمد ہمارے گائیڈ تھے۔ وہ اس پورے علاقے سے بخوبی واقف تھے, ہر راستہ، ہر وادی ان کے لیے جانی پہچانی تھی۔ میں ان کی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھا تھا۔ روانگی سے پہلے انہوں نے اپنی بائیک کے میٹر کی تصویر لی اور مسکرا کر کہا:
“واپسی پر دوبارہ تصویر لیں گے، تاکہ معلوم ہو کہ ہم نے کتنا سفر طے کیا…”
یہ سفر صرف فاصلے ناپنے کا نہیں تھا، بلکہ حقیقت کو سمجھنے کا بھی تھا۔
کونکر سے نکلتے ہی ٹوٹی پھوٹی سڑک نے ہمارا استقبال کیا۔ ڈامر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا، اور گڑھے ایسے تھے جیسے راستہ خود اپنی تکلیف بیان کر رہا ہو۔ سب سے پہلے ہم تھدو ندی کے قریب سے گزرے، جو امید علی گبول گوٹھ کے پاس واقع ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے ہم بحریہ ٹاؤن کے گیٹ نمبر پانچ کے قریب پہنچے، جہاں منظر یکسر بدل چکا تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر بلند عمارتیں کھڑی کی جا رہی تھیں۔ وہی پہاڑ، جو کبھی تاریخ کا حصہ تھے، اب مٹی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے تھے۔
یہ وہی علاقہ تھا جہاں کبھی “لَلّؤ پِڑ” جیسی قدیم جگہیں تھیں، جو اب صرف یادوں میں باقی رہ گئی ہیں۔ کبھی یہاں بینگو کی قبر ہوا کرتی تھی، اس کے قریب “لَلّؤ پڑ” ( بلوچی رومانی داستان لَلّؤ اور گراناز سے جوڑتے ہیں،) موجود تھا۔ بعض لوگوں کے مطابق “ لَلّؤ ” یہاں کے کسی مقامی شخص کا نام تھا، مگر یہ بات تحقیق طلب ہے۔ یہاں ایک مزار بھی تھا، جسے ڈڈر پیر کہا جاتا تھا، اور اس کے قریب ایک قدرتی چشمہ بہتا تھا۔ حاجی آچار گبول کا باغ بھی اسی علاقے کی رونق ہوا کرتا تھا۔ اب یہاں گولف سٹی بن گیا ہے اب سرمایہ دار گلف کھیلتے ہیں،
آگے بحریہ کے مرکزی راستے پر ایک پل آیا، پھر دو رویہ سڑک جو “ڈمی ایپل ٹاور” کی طرف جا رہی تھی۔ نور احمد نے بتایا کہ اس پہاڑ پر جانے کے لیے سروس روڈ استعمال ہوتا ہے، اور اس راستے تک پہنچنے کے لیے بھی پہاڑوں کو کاٹا گیا ہے۔ ٹاور سے کچھ آگے فیض محمد برو گوٹھ ہے، جہاں گزشتہ سال ریت اور بجری کی مائننگ کے باعث ندیوں کا پانی کھارا ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ڈائریا کی وبا پھیلی اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ یہ علاقہ اب بحریہ ٹاؤن کی ایک باؤنڈری میں محدود ہو چکا ہے۔
یہ وہی خطہ ہے جہاں کبھی “وسن دڑوں” اور “لنگھیجی” آباد تھے۔ پہاڑوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے گوٹھ، زرعی زندگی، مویشی، بکریاں اور سرسبز درخت یہ سب یہاں کی پہچان تھے۔ لنگھیجی ندی یہاں سے گزرتی تھی، اور نواز علی گوندر کا گوٹھ بھی یہیں آباد تھا۔ یہاں بجلی نہیں تھی، مگر زندگی تھی۔ پرانے ڈیزل انجن کی “چک چک” کی آواز دور تک سنائی دیتی تھی ایک الگ ہی دنیا آباد تھی۔

یہ بھی پڑھیں


ملیر سے کھیرتھر تک: ریاستی سرپرستی میں جاری ماحولیاتی اور قانونی قتلِ عام


یہ سب یاد کرتے ہوئے مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا…
ہم اسی علاقے میں ایک شادی میں آئے تھے۔ پہاڑوں کے درمیان شامیانہ سجا تھا، چاروں طرف اندھیرا، مگر روشنیوں سے جگمگاتا وہ منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے تازہ ہے۔ وہ خوشیاں، وہ رونقیں… آج بھی ذہن میں فلم کی طرح چلتی ہیں۔
مگر آج… سب کچھ بدل چکا ہے۔
جیسے ہی ہم بحریہ کی باؤنڈری سے نکلے، ایک گیٹ آیا۔ آگے ندی کا حال دیکھ کر دل لرز گیا۔ ندی کو اس طرح کھودا گیا تھا جیسے اس کی سانسیں چھین لی گئی ہوں۔ ریت اور بجری نکال نکال کر اسے ختم کیا جا رہا تھا۔
یہ صرف ایک ندی نہیں تھی، یہ اس خطے کی زندگی تھی، جو آہستہ آہستہ مٹ رہی ہے۔
آگے ایک وائلڈ لائف چوکی آئی۔ ایک بینر لگا تھا جس پر گیدڑ، لومڑی، ہرن، خرگوش اور مختلف پرندوں کی تصاویر تھیں۔ ایک اہلکار سیاہ لباس میں کھڑا تھا۔ اس نے ہمیں روکا، شناخت کی، اور پھر آگے جانے کی اجازت دے دی۔
پہلے یہ چوکی فیض محمد برو گوٹھ کے قریب تھی، مگر اب اطلاعات ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کی حدود مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں، اور خدشہ ہے کہ یہ علاقہ بھی اس کی زد میں آ جائے گا۔
مگر دل میں ایک سوال مسلسل گونج رہا تھا:
“کیا یہ جانور اب بھی یہاں موجود ہیں؟”
آگے بڑھتے ہوئے پہاڑوں کے درمیان کچے راستے ملے، جن پر بھاری ٹرکوں کے نشانات واضح تھے۔ یہ راستے مائننگ کے لیے بنائے گئے تھے، اور یہی راستے باچرا ندی اور مول ندی کو زخمی کر رہے ہیں۔
پانچران وادی، جو جامشورو کے پہاڑی سلسلے سے جڑی ہے، اور مول ندی، جو سمندر میں جا گرتی ہے ان تمام قدرتی راستوں کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔
ہم نے پہاڑوں کے درمیان ایک گاؤں دیکھا۔ نور احمد نے بتایا کہ یہ علی محمد برو گوٹھ ہے۔
کھیرتھر نیشنل پارک، جو کبھی نایاب جنگلی حیات کا مسکن تھا، اب شور، دھول اور مشینوں کی گرج میں دب چکا ہے۔
جانور بے گھر ہو چکے ہیں، اور پرندے اپنی پروازیں کھو چکے ہیں۔
ایک طرف ترقی کے نام پر عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں،
اور دوسری طرف ہزاروں سال کی تاریخ اور فطرت کو مٹایا جا رہا ہے۔
موسم خوشگوار تھا, ہلکی بوندا باندی، ٹھنڈی ہوا اور بادلوں کی چادر…
مگر دل بوجھل تھا۔
ہم ایک جگہ رکے، چند تصویریں لیں، اور پھر وادی باجران سے ہوتے ہوئے مول کی جانب بڑھنے لگے…
یہ سفر صرف راستوں کا نہیں،
یہ ایک گواہی ہے
ایک ایسی گواہی، جسے شاید کوئی سننا نہیں چاہتا…

جاری…

یہ بھی پڑھیں


کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں ریتی بجری مائننگ: حرص و لالچ کا کھیل

Tags:

Adventure travel PakistanAli Muhammad Brohi GothAncient Graveyardsarchaeological sites SindhBachra RiverBahria Town KarachiBiodiversity Lossboundary expansion Bahriachildhood memories villageClimate change in Sindhclimate impact Sindhcultural heritage destructionDadar Pir shrinedevelopment vs naturediarrhea outbreak villagediesel engine irrigationdocumentary style traveleco system destructioneco-tourism Pakistanendangered wildlife Sindhenvironmental awareness Karachienvironmental degradation SindhFaiz Muhammad Brohi Gothfox jackal deer habitatGaari QabarGolf City KarachiHaji Achar Gabol gardenheavy truck tracksheritage conservation PakistanHeritage tourism PakistanHope Ali Gabol Gothillegal encroachments Sindhinvestigative journey SindhJamshoro mountain rangeKirthar Mountains journeykirthar national parkKohistan tribesKonkar Gabol StopLalloo Pir historyLyari River regionmining in KirtharMol Rivermountain cutting Karachimountain valley explorationnatural landscape Sindhnatural springs SindhPancharan Valleyprotect Sindh riversrain in Kirtharriver excavation damageRoman style gravesrural life KohistanSand and Gravel Miningsave Kirthar movementservice road hillsSindh heritage sitesSindh traveloguestone carvings SindhThado Rivertribal villages Sindhtwo way road constructionurban expansion Karachiwater pollution Karachiwater salinity issuewedding in mountainswildlife checkpointآثار قدیمہ سندھامید علی گبول گوٹھایکو سسٹم تباہیباچرا ندیبچپن کی یادیں گاؤںبحریہ باؤنڈری توسیعبحریہ ٹاؤن کراچیبھاری ٹرکوں کے نشاناتپانچران وادیپانی کی کھاراپن مسئلہپتھروں کی نقش و نگاریپہاڑوں کی کٹائی کراچیپہاڑوں میں شادیپہاڑی وادی مہمتحقیقاتی سفر سندھترقی بمقابلہ فطرتتھدو ندیثقافتی ورثے کی تباہیجامشورو پہاڑی سلسلہحاجی آچار گبول باغحیاتیاتی تنوع کا نقصاندستاویزی سفر اندازدو رویہ سڑک تعمیردیہی گوٹھ سندھڈائریا وبا گاؤںڈڈر پیر مزارڈیزل انجن آبپاشیرومی طرز کی قبریںریت اور بجری کی کان کنیسروس روڈ پہاڑی علاقہسندھ سفرنامہسندھ کی ندیوں کا تحفظسندھ کے تاریخی آثارشہری پھیلاؤ کراچیعلی محمد برو گوٹھغیر قانونی قبضے سندھفیض محمد برو گوٹھقدرتی چشمے سندھقدرتی مناظر سندھقدیم قبرستانکراچی پانی آلودگیکھیرتھر بچاؤ تحریککھیرتھر پہاڑوں کا سفرکھیرتھر میں بارشکھیرتھر میں مائننگکھیرتھر نیشنل پارککونکر گبول اسٹاپکوہستان دیہی زندگیکوہستان قبائلگاڑی قبرگولف سٹی کراچیللؤ پِڑ تاریخلومڑی گیدڑ ہرن مسکنلیاری ندی علاقہماحولیاتی آگاہی کراچیماحولیاتی تباہی سندھموسمیاتی اثرات سندھمول ندینایاب جنگلی حیات سندھندی کی کھدائی نقصانوائلڈ لائف چوکیورثہ تحفظ پاکستان
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
iran-america-sangat-mag
Previous

امریکا، ایران اور اسرائیل کی بڑھتی کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟

Malir River Sangat Mag
Next

کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme