گھروں میں محنت کرنے والی بچیوں پرجان لیوا تشدد
رواں ہفتے سندھ کے شہر رانی پور میں پیر کی حویلی میں کم سن بچی کی مبینہ تشدد سے ہلاکت کا معاملہ منظرعام پر آ چکا ہے۔ یہ اور آئے دن ہونے والے ایسے ہی دیگر واقعات پاکستانی معاشرے کی زبوں حالی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ گزشتہ روزاسلام آباد پولیس نے محنت کش بچی…
’بحرِ بلوچ‘ ماہی گیروں کو مچھلی دان کرنے کی فیاضی کیوں فراموش کر بیٹھا۔۔۔؟
بلوچستان کا 780 کلومیٹر طویل ساحل جیوانی سے لے کر گڈانی تک پھیلا ہوا ہے۔ بلوچستان کا ساحل نہ صرف معاشی حوالے سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ عسکری اور جغرافیائی حوالے سے ساحل مکران کو سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے کہا جاتا ہے۔ مکران کا ساحل ایک تجارتی گیٹ وے ہے جو کہ…
برطانوی دور کی شاہی ریاستیں، جن کے بغیر بھارت اور پاکستان کا رقبہ آدھا رہ جاتا!
اگست 1947 میں جب برصغیر کی تقسیم سے دو ملک پاکستان اور بھارت معرض وجود میں آئے، اس وقت ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ان ممالک کے قیام کا اعلان تو پہلے ہو گیا تھا، لیکن ان ممالک میں شامل ہونے والے علاقوں کا فیصلہ آئندہ کئی ماہ تک نہیں ہو سکا رانا محمد…
کار چوری کے نئے طریقے، جن سے بغیر چابی کی گاڑیاں بھی محفوظ نہیں ہیں!
ماہرین اگر موجودہ دور کی جدید گاڑیوں کو ’پہیوں پر چلنے والے کمپیوٹر‘ کہتے ہیں تو کچھ غلط بھی نہیں کہتے، کیونکہ ان گاڑیوں میں سو سے زیادہ کمپیوٹر اور سافٹ ویئر کوڈ کی لاکھوں لائنیں ہو سکتی ہیں۔ ان کمپیوٹروں کو ایک نیٹ ورک کے ذریعے جوڑا جاتا ہے، جو کسی بھی…
مانگ (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
سرکاری ہسپتال کھپرو کے مردہ خانے کے سامنے لوگوں کا جمگھٹا، دھول مٹی میں لت پت بال، چوٹی اور مانگ بھی، دھول اور ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اندر خاکروب، ڈاکٹر، مکھیوں کی بھن بھن۔ سندھ جنی، کسی کی لاج سب کا ناموس، کئی اجنبیوں کے سامنے اس کی لاش ننگی پڑی تھی۔ ٹیڑھے…
سندھ کے صحرا میں کوئی پھول کھلے۔۔۔ قرة العین حیدر اور سندھی ادب
یہ جنوری 1991 کے دن ہیں۔ قرول باغ دہلی میں قرةالعین حیدر کے فلیٹ کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ پانچ سات منٹ بعد فلیٹ کا دروازہ آدھا کھلتا ہے اور وہ خود دروازے پر ہوتی ہیں۔ کہتی ہیں ”فرمائیے!“ ”فرمانا کیا، آپ کے پڑھنے والے ہیں، سندھ سے آئے ہیں۔“ ”کیا کیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط41)
ہم ’اٹک برج‘ پہنچے ہیں۔ خیبر پختون خوا اور پنجاب کو ملاتا یہ پل تاریخی مقام اور میرے دائیں طرف سے بہتے سندھو اور سامنے کالا چٹا پہاڑ کے دامن سے بہتے دریائے کابل کا سنگم بھی۔ اس پل سے ان دریاؤں کے سنگم کا نظارہ شاندار ہے۔ میرے بائیں ہاتھ جرنیلی سڑک کو…
اسد عباس کی کہانی۔۔ جس کا ایک قدم شہرت کی بلندی پر تھا، دوسرا بے بسی کی کھائی میں!
کچھ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے سمندر کا رزق ہوئے اور ہوتے رہیں گے، کچھ بستر پہ لیٹے موت کی آہٹ سنتے ہیں۔ غربت میں لتھڑے تیسرے درجے کے ملکوں کے عام آدمی کا شائد یہی مقدر ہے۔۔ اسد عباس بھی انہی میں سے ایک تھا کوک اسٹوڈیو سے شہرت پانے والا اسد عباس 15 اگست…