ہم جماعت (بنگالی ادب سے منتخب کہانی)
ابھی صبح کے سوا نو بجے ہیں۔ موہت سرکار نے گلے میں ٹائی کا پھندہ ڈالا ہی تھا کہ اس کی بیوی ارونا کمرے میں آئی اور بولی، ”تمہارا فون۔‘‘ ’’اس وقت کون فون کر سکتا ہے بھلا۔‘‘ موہت کی ٹھیک ساڑھے نو بجے دفتر جانے کی روٹین رہی ہے۔ اب گھر سے دفتر کے…
پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ…
ایک بُدھو (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
کچھ دن قبل میں نے اپنے بچوں کی گورنس، جولیا ویسلوینا کو اپنی اسٹڈی میں بلایا۔ ”بیٹھ جاؤ جولیا ویسلوینا!“ میں نے کہا، ”آؤ ہم آپس میں حساب کتاب کر لیں۔۔ اگرچہ تمہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے لیکن تم تکلفاً کوئی تقاضہ نہیں کرو گی۔۔ ہمارے درمیان تیس روبلز ماہانہ…
نو سال چھوٹی بیوی (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کُشل دبے پاؤں اس طرح گھر میں گھسا تھا، جیسے گھر اس کا اپنا نہ ہو اور کھانسی آنے پر وہ گلی میں جا کر اس طرح جی بھر کر کھانس آیا تھا، جیسے مدن کو نصیحت کرنے کا موقع نہ دینے کے لئے وہ اکثر دکان کے باہر جا کر کھانسا کرتا ہے۔ پھر…
کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
ابال (منتخب اردو افسانہ)
جب دودھ ابل ابل کر کوئلوں پر گرنے لگا اور شاں۔۔۔ شاں کی آواز کے ساتھ ایک تیز سی بُو اٹھی تو چندن نے ہڑبڑا کر پتیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو کوئلوں کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔ بےبسی کے انداز میں چندن نے جلد جلد ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ کوئی کپڑا پاس نہ…
بس اسی کی کسر تھی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
معلوم نہیں یہ عمدہ خیال سب سے پہلے کس کے ذہن میں آیا کہ آدمی بغیر ناشتہ کیے دفتر چلا آئے۔ بس اتنا پتا چل سکا کہ دو تین دن میں ہی سب ملازمین نے بغیر ناشتے کے آنا شروع کر دیا اور یوں صبح وقت پر دفتر پہنچنے لگے۔ پہلے چند دن تو سب…