لیڈر (افسانہ)
تم نے گرگٹ نہیں دیکھا۔ سیاسی حلقوں میں ذرا نظر دوڑاؤ۔۔ تمہیں بیسیوں گرگٹ نظر آ جائیں گے۔ تحریکِ آزادی میں حصہ لینے والے لوگ عموماً تین قسم کے ہوتے ہیں۔ اکثر تو حب الوطنی کے جذبہ سے متاثر ہو کر، چاہے پھر وہ جذبہ مستقل ہو یا محض عارضی، تحریک میں کود پڑتے…
سُرخ لومڑی کی پوستین کا کوٹ (پرتگالی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک روز گھر لوٹتے ہوئے بچاری بینک کلرک کی نظر پوستینیں بیچنے والے کی دُکان کی الماری میں سرخ لومڑی کی پوستین سے بنے کوٹ پر پڑی۔ وہ باہر رک گئی۔ اُسے خوشی بھری جھرجھری محسوس ہوئی اور اُس کے اندر خواہش جاگ اُٹھی۔ یہی وہ کوٹ تھا، جس کی اُس نے ہمیشہ تمنا کی…
مرد کا اعتبار
اپنی بیوی شانتا کی وفات کے ایک ماہ بعد پروفیسر گپتا ہمارے گھر آئے تو بڑے اداس اداس تھے۔ جب چاچی نے باتوں باتوں میں کہا کہ شانتا بہن کی عدم موجودگی میں انہیں شدید تنہائی کا احساس ہوتا ہوگا، بچوں کی دیکھ بھال میں بھی دشواری ہوتی ہوگی اور اشارہ کیا کہ انہیں…
ڈاچی (افسانہ)
پی سکندر کے مسلمان جاٹ باقر کو اپنے مال کی طرف حریصانہ نگاہوں سے تاکتے دیکھ کر او کانہہ کے گھنے درخت سے پیٹھ لگائے، نیم غنودگی کی سی حالت میں بیٹھا چودھری نندو اپنی اونچی گھر گھراتی آواز میں للکار اٹھا۔۔۔ ’’رے رے اِٹھے کے کرے ہے؟‘‘ (ارے یہاں کیا کر رہا…
محبت (افسانہ)
فلسفی نے اپنے نوجوان دوست سے کہا۔۔۔ بلا سوچے سمجھے تاریکی میں مت کودو۔ نوجوان ہنسا۔۔۔ بولا۔۔۔ محبت وہ تاریکی ہے، جس میں کودتے وقت سمجھ اور سوچ کی قوتیں سلب ہو جاتی ہیں اور فہم و فراست جواب دے جاتے ہیں۔ کانجلی بھائی آنند! تم مزے میں ہو، یہ جان کر خوشی…
کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔۔ (افسانہ)
شہر کا آسمان سرمئی تھا، جیسے حقیقت اور فریب کے درمیان کشمکش جاری ہو۔ لوگ سڑکوں پر چلتے، اپنی دنیا میں مگن تھے، لیکن ان کی نظروں میں ایک عجیب سا خالی پن تھا۔ اس شہر کا ہر کونہ محرومی کی ایک داستان سنا رہا تھا، لیکن وہ داستانیں کہیں دفن تھیں، حکومت کے…
کٹھ پتلی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
مرد کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا: ”تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟“ عورت نے پہلے اپنے بال سر کے اوپر جمع کیے، پھر انہیں اپنے شانوں پر گرا دیا اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ اس نے پاؤڈر کا ڈبہ اٹھایا اور اپنا مخصوص پاؤڈر چہرے…
جوتے (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون۔۔۔!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت…