ٹین کے آدمی (افسانہ)
پروفیسر آرنلڈ کو ایک زمانہ جانتا تھا۔ وہ ایک مخبوط الحواس امریکی پروفیسر تھا۔ بہت دن انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں پڑھاتا رہا۔ پھر انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار چلا آیا۔ امریکہ سے اس کی پنشن ماہ بہ ماہ اس کے بینک اکاﺅنٹ میں جمع بھی ہو جایا کرتی۔ اس کے…
مشین گردی (افسانہ)
پوسٹل کالونی میں کریم کا ڈھابہ ’لٹ خانہ‘ کہلاتا تھا۔ دنیا جہاں کے بے کار، ملازمت کے متلاشی درختوں کی چھاؤں میں پاؤں پسارے اونگھنے والے غرضیکہ سب ہی چلے آتے۔ لاٹھی ٹیکتے پینشنر بھی جوانی کی یادیں تازہ کرنے مہینے میں ایک بار ضرور زیارت کے لیے آتے۔ یہاں کڑک…
ایک محبت کے بارے میں (افسانہ)
ایک قدیم کہانی کو دہرانے کے درمیان مفروض حریف سے لڑتے ہوئے اداکار اس تلوار سے اچانک شدید زخمی ہو گیا، جو صرف اداکار، حریف اور تماشائیوں کے تصور میں تھی۔ اس پر حریف ہی نہیں، تماشائی بھی حیران تھے۔ پسلیوں کے درمیان راستہ بناتی ہوئی تلوار سیدھی اداکار کے…
خالی ڈھول (افسانہ)
ایمیلیان ایک مزدور تھا، جو اپنے مالک کے لئے کام کرتا تھا۔ ایک دن چراگاہ سے گزرتے ہوئے وہ ایک مینڈک، جو اچانک پھدک کر اس کے سامنے آ گیا تھا، اپنے پاؤں تلے دینے ہی لگا تھا، لیکن اس نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ تب اچانک اس نے اپنے پیچھے سے کسی کو…
جواں مردی (افسانہ)
وہ میری بیوی جا رہی، مگر اس کے لبوں پر اس مسکراہٹ کا نام تک نہیں جیسا کہ لوگوں نے میری تسکین قلب کے لیے مجھ سے کہا تھا۔ بس ہڈیوں کا ایک ڈھانچا ہے۔ اس کی بھیانک صورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مہلک بیماری کا شکار ہے اور موت کا خوف…
موم کی مریم (افسانہ)
آج بھی اندھیرے میں لیٹا میں خیالی ہیولوں سے کھیل رہا تھا۔۔ اور جب بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ تم نہ جانے کہاں سے نکل آتی ہو۔ جیسے تم نے تاریکی کی کوکھ سے ہی جنم لیا ہو۔ اور مجبوراً مجھے جلے ہوئے سگریٹ کی راکھ کی طرح تمہیں بھی زمین پر جھٹک دینا پڑتا…
بڑھاپا (افسانہ)
احمد عرصہ کی غریب الوطنی کے بعد اپنے گاؤں پریم نگر میں پرانی اور ٹوٹی پھوٹی مسجد کی مرمت کے لیے بلایا گیا۔ وہ اسی گاؤں میں پیدا ہوا تھا اور اسی گاؤں میں اس کی شادی بھی ہوئی تھی، باوجود اس کے جب وہ گاڑی سے اسٹیشن پر اترا تو اپنے گاؤں کے مناظر…
ٹیرس پر بیٹھی شام (افسانہ)
دھک! پروفیسر کانیتکر (KANETKAR) کا دل لمحہ بھر کو جیسے رکا۔ پھر دگنی رفتار سے دھڑک اٹھا اور خون کا دباؤ ان کے چہرے پر غیر مرئی سرخی دوڑا گیا۔۔۔ وہ آ گئی تھی۔۔۔ جسے ’ہیلو‘ کہہ کر پکارا گیا تھا۔ اس نے کیا جواب دیا اور کیا باتیں ہونے لگیں، پروفیسر کانیتکر…