آخری کوشش (افسانہ)
ٹکٹ بابو نے گیٹ پر گھسیٹے کو روک کر کہا، ’’ٹکٹ!‘‘ گھسیٹے نے گھگھیا کر بابو کی طرف دیکھا۔ انھوں نے ماں کی گالی دے کر اسے پھاٹک کے باہر دھکیل دیا۔ ایسے بھک منگوں کے ساتھ، جب وہ بلا ٹکٹ سفر کریں، اور کیا ہی کیا جا سکتا ہے؟ گھسیٹے نے اسٹیشن سے باہر…
آج کا مرنا (افسانہ)
وہ میری آج کی موت تھی۔ اس کو مرے ہوئے نہیں دیکھا میں نے، مرتے ہوئے دیکھا۔ اتنا ہی بتا سکتا ہوں، جس قدر میں نے دیکھا ہے۔ جو یوں بھی زیادہ نہیں ہے۔ اوڑھے لپیٹے کوئی لیٹا ہوا ہے۔ شاید وہ سو رہی ہے۔ میری نظر پڑی تو مجھے ایسا لگا۔ ورنہ میں تو…
مسیحائی (کہانی)
پرانے وقتوں کا قصہ ہے کہ کوئی ملک تھا، جس کے باشندوں کے روگ مشہور تھے۔ یوں ان کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا اور بڑے بڑے صناع اور قابل لوگ ان میں پیدا ہوتے تھے لیکن علاقے کی آب و ہوا امراض و علائق کے لیے غیرمعمولی طور پر اثرپذیر واقع ہوئی…
نیند میں چلتا ہوا شہر (افسانہ)
نیچے میرے پاس کوئی کام نہیں تھا سو میں چھت پر آگیا۔ میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک لگاتار گھومتا رہا اور آخر اُکتا گیا میں اس شہر میں بالکل ہی اجنبی تھا، اتنا کہ مجھے یہاں کی زبان بھی نہیں آتی تھی۔ میں نے گلی سے باہر دیکھا تو کچھ بچے کھیل رہے…
بہروپیا (افسانہ)
”کا سماچار ہے ماسٹرجی! کہاں بم پھٹا، کہاں آگ لگی۔ کتنے مرے، کتنے گھائل ہوئے؟“ اپنے ڈیوڑھی پر بیٹھا بھولے روز ماسٹرجی سے یہی سوال کرتا ”ای سسری مہنگائی او بےروجگاری کمر توڑ دیئے ہے“ بھولے روز روز کی ہڑتال اور بےروزگاری سے بیزار تھا۔ جب اسے کام ملنے کی…
معصوم خوابوں کا قتل (افسانہ)
یہ ایک پراٸمری اسکول کی پانچویں جماعت کا کمرہ تھا۔ دوسرا پیریڈ اردو کا ہی تھا۔ پیریڈ لینے کی غرض سے منہ میں پان چباتا ہوا درمیانے قد کا ایک استاد چوتھی جماعت کے کمرے سے نکل کر پانچویں جماعت کی طرف جانے لگا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، بال بڑھنے کی وجہ سے…
گمشدہ رجمنٹ (افسانہ)
ایک طاقتور فوج کی ایک رجمنٹ کو شہر کی گلیوں میں پریڈ کرنا تھی۔ دستے صبح ہی سے بیرک کے احاطے میں پریڈ کی ترتیب میں کھڑے ہونا شروع ہو گئے سورج بلند ہوتا گیا اور اب سائے احاطے میں اگنے والے نوخیز پودوں کے قدموں تلے مختصر ہونے لگے۔ اپنے تازہ پالش کردہ…
’یہ گڑیا جاتے ہوئے دریا میں پھینک دینا۔۔ میری پوتی کو یہ بہت پسند تھی’
ہائے میرے تو بچے بہہ گئے۔۔۔ کہانی نمبر ایک: مدد کب آئے گی؟ وہ پانچ تھے، جو ایک بڑے پتھر کے اوپر موجود تھے اور انہیں چاروں جانب سے پانی نے گھیر لیا تھا ’بچاؤ، بچاؤ۔۔۔ خدا کے لیے ہمیں بچاؤ‘، وہ چلّا چلّا کر کنارے پر موجود لوگوں کو آواز دینے لگے، تاہم پانی…