مردہ خانہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ڈاکٹر سروپ کے چپراسی چرنجی نے اپنی محتاط نظروں سے ڈاکٹر کے دفتر کے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے سر سے گاندھی ٹوپی اتارنے لگا۔ اس کے سر سے ایک دم سو سو کے کئی نوٹ فرش پر آ گرے اور وہ گھبرا کر انہیں تیز تیز سمیٹنے لگا۔ اسی اثنا میں…
بوتیک (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
لفٹ ملازم نے گھما کر لفٹ کا دروازہ کھولا اور اماں اور مجھے گہری تنقیدی نظروں سے دیکھا۔ اس کے انداز سے یہ واضح تھا کہ وہ ہم سے زیادہ متاثر نہیں تھا: اماں اپنی سادہ سوتی ساڑھی میں اپنے ہلکے سفید بالوں کو روایتی انداز میں پیچھے باندھے ہوئے، دعوت نامے کو…
کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…
جاگیردار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ بارہ تیرہ سال کی بڑی معصوم شکل چھوکری تھی۔ دروازہ کھلتے ہی پہلے تو مجھے دیکھ کراس نے اپنا ہاتھ جھٹ سے پیچھے کر لیا اور پھر جھجکتے ہوئے اسی ہاتھ کو آگے بڑھا کر بولی، ’’یہ چٹھی۔۔۔‘‘ میں اس کے ہاتھ سے کاغذ کا پرزہ لے کر پڑھنے لگا۔ ’جناب عالی، میں آپ…
بے گور (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کلکتہ کے فائیواسٹار ہوٹل میں ایک کمرے کی گھنٹی کی آواز سن کر امریکی ڈاکٹر دروازہ کھولنے لگا۔ ’’کون؟‘‘ ’’میں رام دین ہوں صاحب۔‘‘ ’’تم آ گئے؟ آؤ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔‘‘ ’’اگر آپ تیار ہیں تو چلیے۔‘‘ ’’ہاں چلو، کیا پورے پچاس کا انتظام ہو گیا؟‘‘…
مہاجر (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
میں فقیر حقیر تمہیں اپنے بول کیسے سمجھاؤں؟ میں تو سننے والوں کو صرف اس لیے سننے کی تلقین کرتا رہتا ہوں کہ وہی مجھے میرے بول سمجھا دیا کریں۔ ہاں، تمہارا اعتراض غیر معقول نہیں کہ کوئی اپنے ٹخنوں میں کیوں کر بود و باش اختیار کر سکتا ہے، مگر جو ہو گیا، ہوا…
ادل بدل (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا۔۔۔“ واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہر کی طرف لپکا۔ نکلتے قد، گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور، جسے ہر کوئی نکا چوہدری کہ کر…
فاختائیں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
یہاں خریت ہے۔ آپ کی خریت نیک مطلوب۔۔ اپنے پرانے دوست فضل دین کو چٹھی لکھتے ہوئے لوبھ سنگھ کو یاد آیا ہے کہ وہ ان دنوں بھی اسے ’خریت‘ لکھنے پر ٹوکا کرتا تھا۔ ”اردو کے ماسٹر ہو لوبھے، یہ بھی نہیں جانتے خریت خیر سے ہوتا ہے۔“ ’’بڑے علم دین مت بنو، فضل…